اسلام آباد ( ) ہمارے مشترکات ، اختلافات کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔ قرآن حکیم کی نظر میں کوئی شیعہ سنی نہیں ہے، قرآن سب کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار علامہ سید ساجد علی نقوی سربراہ اسلامی تحریک پاکستان نے جماعت اہل حرم کے زیر اہتمام سید ثاقب اکبر کی کتاب ’’حروف مقطعات مختلف آراء کا تجزیاتی مطالعہ ‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسالک کی موجودگی کے بغیر اعتدال و اتحاد کا عنوان بے معنی ہے۔ پاکستان کو افتخار حاصل ہے کہ یہاں باقاعدہ اتحاد امت کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم قائم ہے اور وحدت کی خوشگوار فضا موجود ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے درمیان قرآن حکیم موجود ہے ہمیں اس کی تعلیمات کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ حروف مقطعات پر یہ تحقیق مسلمانوں میں تقریب پیدا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف فقہیں امت واحدہ کی جانب جانے کا راستہ ہیں یہ تفریق کا باعث نہیں ہیں۔ انہوں نے مفتی گلزار احمد نعیمی کو تقریب کے انعقاد اور ثاقب اکبر کو کتاب کی تصنیف پر مبارک باد پیش کی۔
قرآن اور اتحاد امت کی محفل میں شرکت میرے لیے باعث سعادت ہے یہ بات اس تقریب کے موقع پر جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہی انہوں نے کہا کہ میری دیرینہ خواہش تھی کہ میں جامعہ نعیمیہ میں حاضر ہوتا آج جناب ثاقب اکبر کی کتا ب حروف مقطعات کی تقریب میں شرکت کے ذریعے سے مجھے دونوں سعادتیں حاصل ہوگئیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مفتی محمد صدیق ہزاروی نے کہا کہ تحقیق کا مطلب حق ادا کرنا ہے اور علامہ ثاقب اکبر نے اس تحقیق سے حق ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے حروف مقطعات نازل ہوں اور نبی اکرم کو ان کی حقیقت کا علم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں مختلف علما کی آراء کو جمع کیا گیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پیر محمد کرم شاہ الازہری کی اس بات کا ذکر کیا کہ حروف اولیا سے اپنے اسرار خود بیان کرتے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفسر قرآن شیخ محسن علی نجفی نے کہا کہ رسالت مآب نے امت کو عقلی معجزہ دیا ہے جو تا قیامت باقی رہے گااور معجزے میں نقص ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ امت و قرآن کے مابین وحدت کے لیے ثاقب اکبر اور مفتی گلزار احمد نعیمی نے ایک اچھی سنت کا آغاز کیاہے۔ کتاب حروف مقطعات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان حروف کا خطاب قرآن کے حاملین سے ہے امت سے نہیں ۔
تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے پیر چراغ الدین شاہ نے کہا کہ ہمیں امت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد رکھنے کی ضرورت ہے، محفلوں سے باہر حالات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حروف مقطعات کے مصنف و محقق ثاقب اکبر صاحب کے بارے میں کہا کہ ان کی کتب سے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس مکتب سے ہیں۔
تقریب کے میزبان شیخ الحدیث علامہ مفتی گلزار احمد نعیمی نے کہا کہ حروف مقطعات کے مصنف ایک شیعہ مکتب سے ہیں اور میں ایک اہل سنت مکتب سے ہوں اور اس کتاب کی تقریب رونمائی کی سعادت حاصل کررہا ہوں۔ تمام مسلمانوں کو اسی طرح اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام مکاتب فکر سے آئے ہوئے علماء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ثاقب اکبر صاحب نے بغیر کسی تعصب کے تمام مکاتب فکر کے علماء کی آراء کو اس کتاب میں شامل کیا ہے اور تمام آراء کو ان کے احترام کے ساتھ شامل کیا ہے۔
تقریب سے صاحب کتاب نامور محقق سید ثاقب اکبر کے علاوہ جامعہ المصطفی کے مدیر ڈاکٹر فدا حسین عابدی اور معروف عالم دین مفتی ضمیر احمد ساجد نے بھی خطاب کیا۔تقریب کی نظامت کے فرائض صاحبزادہ کاشف گلزار احمد نعیمی نے انجام دیے اور آخر میں دعا قاری عبید احمد ستی نے کروائی اس کے علاوہ دیگر علما میں مولانا عبدالغنی نقشبندی، مولانا محمد نذیر کھوکھر، علامہ سید مہر علی شاہ کاظمی، مولانا محمد معروف نقشبندی و دیگر علما و اساتذہ شریک ہوئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here