11-7-2018 بروز بدھ کو ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروا میں NA-39 میں جمعیت علمائے اسلام کے انتخابی جلسہ اور ریلی کا اہتمام تحصیل ناظم پرواکی طرف سے منعقد کیا گیا۔جسمیں اسلامی تحریک کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے بھی وفد کے ہمراہ شرکت کی ۔ ریلی اور جلسہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
جلسہ میں تحصیل ناظم امتیاز خان بلوچ نے علامہ محمد رمضان توقیر، مولانا فضل الرحمان اور مولانا لطف الرحمان کو روایتی پگڑیاں پہنائیں اور پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ جلسہ سے قابل ذکر مقررین تحصیل ناظم پروا امتیاز بلوچ ، قائد جمعیت وامیدوار NA-38,39مولانا فضل الرحمان ، امیدوار PK-98,99 مولانا لطف الرحمان اور علامہ محمد رمضان توقیر نے خطاب کیا ۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایم اے کا پلیٹ فارم ایک نعت ہے جس سے تفرقہ بازی کا خاتمہ ہو چکا ہے ہر مسلک کے علماء اکھٹے بیٹھے ہیں ۔ جس سے مغربی یورپی ممالک کو بہت تکلیف ہے اور انکے ایجنڈے کو ناکامی مل رہی ہے۔ اور وہ مختلف سازشیں کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ انشاء اللہ ہم 25 جولائی کو ثابت کر دیں گے کہ ہم سب ایک ہیں اور ہم میں کو فرق نہیں ۔ ہم شیعہ سنی کی دو نمبر تنظیموں کو متنبہ کر رہیں ہیں کہ وہ پراپیگنڈوں سے بازآ جائیں اور لوگوں کو گمراہ نہ کریں ۔ ساجد نقوی سے بڑھ کر کوئی شہداء و اہلبیت ؑ اور مذہب شیعہ کا کوئی حامی ومدد گار نہیں اور مولانا فضل الرحمان سے بڑھ کر کوئی صحابہ کرام و ازواج سول ؐ اور مذہب اہل سنت کا کوئی غمخوار اور حامی نہیں ۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا ایم ایم اے کا امیدوار ہم سب کا امیدوار ہے انہوں کہا میں نے کوہاٹ کا دورہ کیا وہاں پر اسلامی تحریک کا امیدوار سید قلب حسن ہے جو کہ سید ساجد علی نقوی کی پارٹی کا ہے وہاں پر تقریباً 2000 کے قریب اہل سنت علماء کرام کا اجتماع ہوا اور قلب حسن کی تائید کی اور کہا کہ یہ صرف ساجد نقوی کا امیدوار نہیں بلکہ ہم سب کا امیدوار ہے ۔ اور قلب حسن کو کامیاب کرانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
انہوں نے ایم ایم اے کے سابقہ دور حکوت کا حواالہ دیتے ہوئے کہا کہاس دور میں بہت سارے ترقیاتی کا ہوئے ہیں سوئی گیس، چشمہ رائٹ بنک کینال، ڈیرہ بائی پاس، مفتی محمود ہسپتال، سی پیک وغیرہ یہ سب ایم ایم اے کے دور کے منصوبے ہیں۔ اور انشاء اللہ اس بار بھی ہم سب 25 جولائی کو کتاب کے نشان پر مہر لگا کر ایم ایم اے کے امیدواروں کو کامیاب کرا کر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں حسہ لیں گے۔
جلسہ میں تحصیل ناظم امتیاز خان بلوچ نے علامہ محمد رمضان توقیر، مولانا فضل الرحمان اور مولانا لطف الرحمان کو روایتی پگڑیاں پہنائیں اور پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ جلسہ سے قابل ذکر مقررین تحصیل ناظم پروا امتیاز بلوچ ، قائد جمعیت وامیدوار NA-38,39مولانا فضل الرحمان ، امیدوار PK-98,99 مولانا لطف الرحمان اور علامہ محمد رمضان توقیر نے خطاب کیا ۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایم اے کا پلیٹ فارم ایک نعت ہے جس سے تفرقہ بازی کا خاتمہ ہو چکا ہے ہر مسلک کے علماء اکھٹے بیٹھے ہیں ۔ جس سے مغربی یورپی ممالک کو بہت تکلیف ہے اور انکے ایجنڈے کو ناکامی مل رہی ہے۔ اور وہ مختلف سازشیں کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ انشاء اللہ ہم 25 جولائی کو ثابت کر دیں گے کہ ہم سب ایک ہیں اور ہم میں کو فرق نہیں ۔ ہم شیعہ سنی کی دو نمبر تنظیموں کو متنبہ کر رہیں ہیں کہ وہ پراپیگنڈوں سے بازآ جائیں اور لوگوں کو گمراہ نہ کریں ۔ ساجد نقوی سے بڑھ کر کوئی شہداء و اہلبیت ؑ اور مذہب شیعہ کا کوئی حامی ومدد گار نہیں اور مولانا فضل الرحمان سے بڑھ کر کوئی صحابہ کرام و ازواج سول ؐ اور مذہب اہل سنت کا کوئی غمخوار اور حامی نہیں ۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا ایم ایم اے کا امیدوار ہم سب کا امیدوار ہے انہوں کہا میں نے کوہاٹ کا دورہ کیا وہاں پر اسلامی تحریک کا امیدوار سید قلب حسن ہے جو کہ سید ساجد علی نقوی کی پارٹی کا ہے وہاں پر تقریباً 2000 کے قریب اہل سنت علماء کرام کا اجتماع ہوا اور قلب حسن کی تائید کی اور کہا کہ یہ صرف ساجد نقوی کا امیدوار نہیں بلکہ ہم سب کا امیدوار ہے ۔ اور قلب حسن کو کامیاب کرانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
انہوں نے ایم ایم اے کے سابقہ دور حکوت کا حواالہ دیتے ہوئے کہا کہاس دور میں بہت سارے ترقیاتی کا ہوئے ہیں سوئی گیس، چشمہ رائٹ بنک کینال، ڈیرہ بائی پاس، مفتی محمود ہسپتال، سی پیک وغیرہ یہ سب ایم ایم اے کے دور کے منصوبے ہیں۔ اور انشاء اللہ اس بار بھی ہم سب 25 جولائی کو کتاب کے نشان پر مہر لگا کر ایم ایم اے کے امیدواروں کو کامیاب کرا کر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں حسہ لیں گے۔