تازه خبریں

خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت، ہمسائیوں سمیت عالمی دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات استوار کئے جائیں،

خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت، ہمسائیوں سمیت عالمی دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات استوار کئے جائیں،قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد نقوی

مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے، سارک وزرائے داخلہ کانفرنس میں معاملے پر سخت موقف اختیار کیا جائے،قائد ملت جعفریہ پاکستان اسلام آباد 03 اگست 2016 ء (جعفریہ پریس )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، کمزور پالیسیوں کی بناء پر آج بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم جبر کم نہیں ہورہا، 60 سے زائد افراد چند دنوں میں شہید کردیئے گئے، اقوام متحدہ میں بھی موثر آواز بلند نہیں ہوئی ، ہمسائیوں سمیت عالمی دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات کو استوار کرنا ضروری ہے، 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سہ روزہ سفراء کانفرنس، سارک وزرائے داخلہ کانفرنس کے اسلام آباد میں انعقاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے سارک وزرائے داخلہ کانفرنس اور سہ روزہ سفراء کانفرنس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ احسن اقدام ہے کہ بدلتے عالمی منظر نامے کے تناظر میں وزارت خارجہ میں گفت و شنید شروع کردی گئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس ماضی میں ہم پر خارجہ پالیسی مسلط کی جاتی رہی، اکثر فیصلے ایسے کئے گئے جو ہمارے تھے ہی نہیں لیکن تھونپے گئے ، اب ہمیں ایک خود مختار اور ذمہ دار ایٹمی ملک کی حیثیت سے اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے اور اپنی پالیسیوں پرنظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہمسائیوں سمیت عالمی دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات کو استوار کرنا ضروری ہے ۔ ہمیں اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ اپنے ملک میں کسی دوسرے کی مداخلت کا راستہ روکیں اور کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات سے خود کو علیحدہ رکھیں ، اس سلسلے میں عملی اقدامات اٹھانے کی بھی ضرورت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ چند روز میں ساٹھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کردیاگیا یہ بھی ہماری خارجہ پالیسی کی کمزوری ہے کہ ہم سفارتی، سیاسی محاذ پر اس کا بھرپور دفاع نہ کرسکے، ہندوستان مقبوضہ وادی میں پیلٹس گن استعمال کررہاہے جوکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ، یہ معاملہ اقوام متحدہ سمیت دیگر فورمز پر بھی موثر انداز میں نہیں اٹھایاگیا ۔ضرورت اس امر کی ہے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی برادری کے سامنے اٹھایا جائے، عالمی انسانی حقوق کمیشن کے سامنے حقائق رکھے جائیں ، مضبوط موقف پیش کیا جائے اور اس بات پر زور دیا جائے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔اب جب کہ سارک وزرائے داخلہ کانفرنس کا انعقاد ہورہاہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں موثر انداز میں معاملہ اٹھانا چاہیے کیونکہ یہ مسئلہ صرف علاقائی یا زمینی سے بڑھ کر انسانی ہے اور ہمیں ایک بہترین وکیل کی طرح اس مقدمہ کو لڑنا چاہیے۔