شیعہ علماءکونسل پاکستان کا کشمیری و فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی، ملک بھر میں احتجاج
انڈیا اور اسرائیل نے درندگی کی انتہاءکردی،جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر اور مشرق وسطیٰ میں فلسطینی عوام کو انکا حق دے کر ہی امن قائم ہوسکتاہے، یوم احتجاج پر پیغامات، خطبات جمعہ میں مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں
اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت، بلتستان،کراچی، فیصل آباد، لاہور، پشاور، کوئٹہ،اٹک، چکوال، 06 اپریل 2018 ء( جعفریہ پریس) شیعہ علماءکونسل پاکستان نے مقبوضہ وادی میں مظلوم کشمیریوں پر بے پناہ مظالم کے واقعات کےخلاف یوم جمعہ کو یوم احتجاج کے طور پر منایا ، خطبات جمعہ میں مظلوم کشمیریوں ، فلسطینیوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کیاگیا، مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے، علامہ عارف واحدی سمیت مرکزی رہنماﺅں کی اجتماعات جمعہ میں شرکت، بھارتی مظالم کےخلاف شدید رد عمل کی ضرورت ہے، جنوبی ایشیاکا پائیدار امن بھی مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے ، انتہائی تعجب کہ پوری دنیاکشمیر بارے بھارتی اقدامات کی مذمت کررہی ہے مگر وہ مسلسل کشمیر اور ایل او سی پر بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنارہاہے ،پاکستان کو موثر سفارتکاری کے ذریعے سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدارملک کے چہرے سے نقاب اتارنا چاہیے، مسلم ممالک کو بھی بھارت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر غور کرنا ہوگا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے حکم پر شیعہ علماءکونسل پاکستان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت بلتستان، کراچی، فیصل آباد، لاہور ، پشاور، کوئٹہ، اٹک، چکوال سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہی علاقوں میں خطبات جمعہ میں مظلوم کشمیری عوام اور فلسطینی عوام سے بھرپور اظہار یکجہتی کیاگیا ، بھارتی اور اسرائیلی مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ، جمعہ اجتماعات میں شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی ، علامہ فرحت عباس جوادی، علامہ قاسم جعفری، علامہ نصیر حسین موسوی سمیت دیگر مرکزی قائدین نے اجتماعات جمعہ میں شرکت کی، قائد ملت جعفریہ پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے بعدازاں کشمیری و فلسطینی بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی و اسرائیلی مظالم کے خلاف قراردادیں منظور کی گئیں، اس موقع پر افغانستان میں مدرسہ پر ہونیوالی بمباری کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، علامہ عارف واحدی کا کہنا تھا کہ 1947ءسے اب تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاکیت جاری ہے لیکن افسوس کشمیری عوام کی مظلومیت عالمی اداروں کو نظر نہیں آتی، انسانی حقوق ، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیمیں کیوں خاموش ہیں، افسوس کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، انہوںنے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو مزید موثر انداز میں اٹھائے، کشمیریوں کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیںگے ،انہوںنے فلسطینی عوام کے پرامن احتجاج کے دوران اسرائیلی سفاکیت کی بھی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اگر عالمی طاقتیں دنیا میں پائیدار امن چاہتی ہیں تو جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے تصفیہ مسئلہ کشمیر اور مشرق وسطیٰ کے سلگتے مسئلے فلسطین کا حل نکالے اور مظلوم عوام کو ان کا حق ادا کرے۔