تازه خبریں

ضــرت ســیدہ خـدیجـہ الکـــبریٰ (س) کی اہمــیت و اعـــزاز کے چــند پہـــلو

ضــرت ســیدہ خـدیجـہ الکـــبریٰ (س) کی اہمــیت و اعـــزاز کے چــند پہـــلو
١١- حضرت خدیجہ الکبریٰ (س) کی مالی حالت ایسی تھی کہ پوُرے عرب میں آپ کا کوئی مد مقبل نہیں تھا
٢٢- حضرت خدیجہ الکبریٰ (س) دور جاہلیت میں بھی تمام مکارمِ اخلاق ، صفاتِ حمیدہ اور اعلیٰ انسانی اقدر کی مالک تھیں اور آپ طاہرہ اورسیدہ القریش کے نام سے جانی جاتی تھیں۔
٣٣- حضرت خدیجہ الکبریٰ (س) کی زندگی میں رسول اللہ (ص) نے دوسری شادی نہیں کی اور وہ اسی طرح بلا شرکت پچیس سال تک آپ (ص) کی غمگسار رہیں۔
٤- حضرت خدیجہ الکبریٰ (س) نے اپنی تمام دولت اسلام کے نام پر خرچ کردی۔
٥٥- پیغمبر اکرم (ص) نے سب سے پہلے جناب سیدہ خدیجہ الکبریٰ (س) کو پیغامِ الٰہی سے آگاہ کیا اور آپ (س) کو اپنا رادار بنایا۔
☆ حضــرت ســیدہ خدیجــہ الکـــبریٰ (س) کے نام اور القـبات
والدین کی طرف سے آپ (ع) کا نام خدیجہ رکھا گیا۔ کبریٰ وہ لقب ہے جو رسول اللہ (ص) کی طرف سے آپ کو اس وقت ملا جب آپ (س) رسول اکرم (ص) سے عقد کے بعد گھر آئیں اور نگاہِ رسالت آپ کے پُرایثار چہرے پر پڑی۔ اس کے علاوہ آپ صدیقہ ، طاہرہ اور اُم المساکین جیسے القبات سے مشہور ہوئیں۔
☆حضرت ســیدہ خدیجــہ (س) کی حضرت رسول خدا (ص) کو وصــیت
حضرت خدیجہ (س) نے رحلت کے وقت پیغمبر اکرم (ص) کو چند وصیتیں کیں ، آپ نے اتنی فداکاریوں اور مال کو خرچ کرنے کے باوجود پیغمبر اکرم (ص) سے عرض کیا :
یا رسول اللہ ! مجھے معاف کرنا کہ میں نے آپ حق ادا نہیں کیا.
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا : حاشا و کلا ! میں نے آپ سے کوئی غلطی نہیں دیکھی بلکہ آپ نے میرے حق میں پوری پوری کوشش کی , آپ نے میرے گھر میں بہت زحمتیں اٹھائیں ، اپنے مال کو راہ خدا میں خرچ کیا.
اس وقت خدیجہ (س) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں آپ کو اپنی اس بیٹی کی وصیت کرتی ہوں اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف اشارہ کیا کہ میرے بعد یہ لڑکی یتیم ہے ، قریش کی کوئی عورت اس کو اذیت نہ دے ، کوئی اس کو سرزنش نہ کرے ، اس کے سامنے بلند آواز سے نہ بولے.
حضرت خدیجہ (س) نے حضرت ابوطالب کے ۴۵ دن بعد رحلت فرمائی اور ١٠٠ رمضان بعثت کے دسویں سال ۶۵ سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کیا