علامہ عارف واحدی کاعظیم الشان علمامشائخ کانفرنس میں شرکت کی اورخطاب کیا

اسلام آباد:شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے درگاہ محمدیہ عیدگاہ شریف کے سجادہ نشین جناب پیر محمد نقیب الرحمان صاحب کی طرف سے(قیام پاکستان سےاستحکام پاکستان تک اولیاء کرام کاکردار) کے اھم موضوع پر سرینا ھوٹل میں منعقدہ عظیم الشان علمامشائخ کانفرنس میں شرکت کی اورخطاب کیا،مہمان خصوصی وزیراعظم عمران خان صاحب تھے پیر نورالحق قادری،شاہ محمودقریشی اورملک کی تمام درگاھوں کےسجادہ نشین اور علمائ کرام موجودتھے-

علامہ عارف واحدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب ھم اکٹھے تھے تو پاکستان جیسا عظیم ملک اسلام کے نام پر انگلستان کے استعمار اور انڈیا کے خونی پنجوں سے چھین کر دنیا کے نقشے پر ایک خوبصورت اضافہ کیا۔ اللہ تعالی کا کرم اور قوم کا اتحاد تھا جس وجہ سے اقوام عالم میں ھمارا مقام بنا۔پوری دنیا اور خاصکر برصغیر پاک و ھند میں اولیاء کرام،مشائخ عظام اور علمائ کرام کا امن و اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں عظیم اور تاریخی کردار رھا ھے۔پاکستان ایٹمی طاقت ھے اور دنیا میں خاصکر امت مسلمہ میں اس کا ایک مقام ھے جس وجہ سے کفریہ اور شیطانی طاقتیں ھر وقت سازشوں میں مصروف رھتی ھیں گذشتہ تیس پینتیس سال میں وطن عزیز کو نقصان پہنچانے کے لئے تکفیر،فرقہ واریت اور انتشار کو ھوا دی گئی مگر ھر مسلک کے علمائ کرام اور جیّد قیادت نے ھاتھوں میں ھاتھ دے کر اس ناپاک سازش کو ناکام بنایا،میں متوجہ کرنا چاھوں گا کہ جہاں آپ یہ بات کرتے ھیں کہ مذھبی فرقہ واریت ملک کے لئے نقصان دہ ھے وھاں ان مشائخ عظام اور علمائ کرام کا بھی ذکر کیا کریں جنھوں نے اس ملک سے فرقہ واریت کے خاتمے اور امن قائم کرنے کے لئے عملی جدوجہد کی۔دوسری گذارش یہ ھے کہ صرف مذھبی فرقہ واریت نہیں بلکہ سیاسی فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے بھی حکومت اور ریاست کو عملی اقدامات کرنے چاھئیں جو ملک و قو ے لئے انتہائی خطرناک ھے علاوہ ازیں گذارش ھے کہ پیکر اخلاص پیر نقیب الرحمان صاحب اور صاحبزادہ پیر حسان حسیب الرحمان صاحب کی بہت خوبصورت کاوش کہ پورے ملک سے ان شخصیات کو اکٹھا کر کے امن اور اتحاد کا پیغام دیا مگر یہ صرف نشستن،گفتن،خوردن اور برخاستن نہ ھو بلکہ اس کو جہد مسلسل کے طور پر جاری رکھا جائے تب یہ مثمر ثمر ھو گی۔

علامہ عارف واحدی نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب نے ریاست مدینہ قائم کرنے کا خوبصورت اعلان کیا جس کوسب نے سراھا حق بھی یہی ھے کہ یہ ملک اسلام کے نام پہ بنا تھا عوام بھی چاھتے ھیں کہ یہ مدینہ کی ریاست بنے مگر وزیر اعظم سے گذارش ھے کہ ریاست مدینہ کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بے حد ضروری ھے کہ ان مشائخ عظام اور علمائ کرام سے راہنمائی لی جائے اور مشاورت کا عمل مسلسل رھے-آخری جملہ عرض کروں گا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا ملک میں ایک مثبت اور بھرپور کردار ھے مگر افسوس کے اس وقت کئی ماہ ھو گئے اس کا چیئرمین ہی نہیں ھے امید ھے وزیر اعظم جلد چیئرمین کا تقرر کریں گے تاکہ ان مشکل مراحل میں اس بھرپور کردار کا تسلسل رھے اور کونسل کی سفارشات سے ریاست مدینہ کے قیام کے لئے استفادہ کیا جانا بھی بہت ضروری ھے-