تازه خبریں

مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری

مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں کے دوران شوپیاں اور اسلام آباد کے اضلاع میں سترہ کشمیری نوجوان شہیدجبکہ کم از کم سوزخمی کر دیے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ضلع شوپیاں کے دراگڈاور کچ ڈورہ اور اسلام آباد کے دیالگام علاقوں میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائیوں کے دوران تیرہ جبکہ چار نوجوانوں کو نماز جنازہ کے دوران فائرنگ کرکے شہید کیا گیا۔
آخری اطلاعات آنے تک ان علاقوں میں قابض فوج کا آپریشن جاری تھا اور مزید شہادتوں کا اندیشہ ہے۔ شہید ہونے والوں میں دو کی شناخت جان محمد لون اورزبیر احمد بٹ کے طور پر ہوئی ہے ۔جو مظاہرین پر فوج کی فائرنگ سے زخمی ہو گئے تھے۔
دیالگام اسلام آباد میں شہید ہونے والے نوجوان رؤف بشیر کھانڈے کو ضلع میں واقع اپنے آبائی گاؤں دہرونہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
نوجوانوں کی شہادت پر شوپیاں، اسلام آباد اورسرینگر میں زبردست مظاہرے پھوٹ پڑے۔ متعدد مقامات پرمظاہرین اور قابض فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ بھارتی فورسز نے مظاہرین پر گولیوں، پیلٹ گن اور آنسو گیس سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں سوسے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ سرینگر کے صورہ ہسپتال میں داخل کیے جانے والے پینتیس زخمیوں میں سے دس نوجوانوں کی عمریں سولہ سے چھبیس برس کے درمیان ہیں ۔ ان نوجوانوں کی آنکھیں پیلٹ لگنے سے زخمی ہو چکی ہیں۔ انتظامیہ کاکہنا ہے کہ شوپیاں آپریشن کے دوران تین بھارتی فوجی بھی ہلاک ہو گئے۔ تاہم دونوں اضلاع کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان تمام نوجوانوں کوجعلی مقابلوں یا پھر مظاہروں کے دوران شہید کیا گیا۔ بھارتی پولیس نے بھی تصدیق کی ہے کہ شہید ہونے والوں میں سے ایک نوجوان مشتاق احمد ٹھوکر کو بھارتی فوج نے گزشتہ رات گرفتار کیا تھا۔ انتظامیہ نے جنوبی اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ اور ریل سروسز بھی معطل کر دی ہیں۔
کشمیر یونیورسٹی کے طلبا نے نوجوانوں کےقتل عام کے خلاف سرینگر میں اپنے کیمپس میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی طلباء نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے ۔ انہوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’ قبضہ ختم کرو‘‘،’’ کشمیریوں کو آزادی دو‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چئیرمین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے قتل عام کے خلاف دو روزہ ہڑتال کی کال دی ہے۔ مقبوضہ وادی کے اطراف و اکناف میں لوگ پابندیوں اور کرفیو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے اور شہید نوجوانوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔قابض انتظامیہ نے کل ہونے والے تمام امتحانات اور انٹرویوز ملتوی کر دیے ہیں جبکہ تمام سکولوں اور کالجوں کو بند رکھنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔