تازه خبریں

پاکستان میں شیعہ سنی مسئلہ نہیں بلکہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے(صر شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ)

پاکستان میں شیعہ سنی مسئلہ نہیں بلکہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے(صر شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ)
شیعہ علماء کونسل سندھ کے صوبائی صدر علامہ ناظر عباس تقوی نے دفتر قائد ملت جعفریہ مشہد مقدس کی طرف سے منعقدہ شہدائے پاکستان کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے یہ پاکستان کے داخلی حالات نہیں ہیں بلکہ جو کچھ اس وقت دنیا میں ہو رہا ہے اس کے اثرات پاکستان پر مرتب ہو رہے ہیں ،ایک وقت وہ بھی تھا جب یہ فیصلہ ہوا کے پاکستان میں قومی مفادات کی خاطر شیعہ مارے جائیں گے اور ۲۵ لاکھ کا ٹارگٹ تھا ،اہل سنت کے لباس میں تکفیری دہشتگرد جو لوگوں کو گمراہ کر رہے تھےلیکن ہماری قیادت کی حکمت عملی تھی کہ انہوں نے ایک ایسا راستہ اپنا یاسولہ سال اس راستہ پر کام ہوا کہ دنیا کو بتایا جائے کہ پاکستان میں شیعہ سنی مسئلہ نہیں بلکہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے یہ تکفیری اہلسنت سے جدا ہیں ۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں شیعوں کے حقوق پر شب خون ماریا گیالہٰذا سید محمد دہلوی کے دور قیادت سے ہی ہمارے مطالبات میں تحفظ عزاداری تھی آج تک ہم نے تشیع کے خلاف اسمبلی سے کوئی قانون پاس نہیں ہونے دیا ،اربوں روپیہ سرمایہ لگا،بڑے بڑے لشکر بنے،پوری ریاست استعمال ہوئی لیکن اس کے باوجود کسی ایک مجلس پر ڈاکہ مارنے میں کامیاب نہیں ہوئے ،ناکامی یہ ہے کہ آپ شہید بھی ہوں اور آپ کے حقوق بھی سلب کیے جا رہے ہوں، لاشیں اٹھانا ناکامی نہیں ہے مقاصد کیلئے قربانیاں دینا پڑتیں ہیں۔ہم نے نشترپارک میں چھےہزار علما کو جمع کیا اور کہا کہ لوگوں کو حالات سے آگاہی دیں اور لوگوں کو دو ٹوک پیغام دیا کہ اگر ایک ایف ائی آر کٹی تو ہم اپنی پوری طاقت استعمال کردیں گے اور دنیا نے دیکھا کہ ہم نے آپ کے حقوق کا ہر جگہ تحفظ کیا ہے ۔
انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ تشیع پاکستان میں کمزور نہیں بہت طاقت ور ہے اور طاقت ور سے طاقت ور ترہورہی ہے جن گروہوں کو قتل و غارتگری کیلئے بنایا گیا تھا وہ آج ہم سے ملاقات کے لیے ترس رہے ہیں ۔ میں سوشل میڈیا کے شیروں کو دعوت دیتا ہوں کہ پریکٹیکل میدان میں آؤاور کام کرکے دکھاؤ ۔مقابلہ بازی کی سیاست ختم ہونی چاہیے کیونکہ اس سے تشیع کا مورال ڈاون ہو رہا ہے، ایک دوسرے کا احترام بہت ضروری ہے۔