گلگت بلتستان کوکھلواڑ نہ بنایا جائے، جی۔بی کی از خود آزادی کے بعد الحاق پاکستان کا مثبت جواب آئینی حیثیت کے تعین میں ہے۔اسلامی تحریک گلگت بلتستان کی پریس کانفرنس۔ اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان کی جانب سے آج پریس کلب گلگت میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کی گئی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکٹری علامہ شیخ مرزا علی نے کہا کہ الحاق پاکستان کے اپنے آباؤ اجداد کے فیصلے کی لاج رکھتے ہوئےفرزندان گگت بلتستان نے حب الوطنی کی جہاں عظیم مثالیں قائم کیں وہیں ناقابل تردید قربانیاں بھی دیں مگر لمحہ بہ لمحہ ہمیں زخم پے زخم دئیے جاتے رہے، ان زخموں کو ہم نے حب الوطنی میں برداشت کیا۔اب تو حد یہ ہوگئی کہ گزشتہ سال گلگت میں سی۔پیک کانفرنس منعقد ہوئی اس میں سی۔پیک کا جو نقشہ دیا گیاتھا اس میں گلگت بلتستان شامل ہی نہیں تھا۔ گلگت بلتستان کے اسٹیک ہولڈرز کواعتماد میں لئیے بغیر جی۔بی کی تقدیر کے فیصلے ہورہے ہیں ـ گلگت بلتستان کو کشمیر اشو کا حصہ قرار دیا جات ہے مگر افسوس کہ جو حقوق مقبوضہ کشمیر اور جموں کشمیر کوحاصل ہیں وہ گلگت بلتستان کو حاصل نہیں ہیں ـ بجائے اس کے گلگت بلتستان کی عوام کو حقوق دئیے جائیں الٹا عوام کی ملکیتی اراضی کو خالصہ سرکار کے نام پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ۔۔ ۱ـ عوامی امنگوں کے مطابق آئینی اصلاحات کے زریعے محرومیاں دور کر کے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔ ۲ـ گلگت بلتستان کونسل کے متبادل آئینی نظام دے کر عوامی شکوک و شبہات کو دور کیا جائے۔ ۳ـ خالصہ سرکار کے نام سے عوام کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ۴ـ کنٹریکٹ ڈاکٹرز کو مستقل کر کے جی۔بی حکومت اپنا وعدہ پورا کرے