اسلام آباد:ملی یکجہتی کونسل پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف ھرزہ سرائی پر جامعہ نعیمیہ اسلام آباد میں صدر ملی یکجہتی کونسل جناب ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر کی صدارت میں بھر پور اجلاس منعقد کیا جس میں صدر محترم کے علاوہ تمام جماعتوں کی مرکزی قیادت کی نمائندگی موجود تھی،اجلاس کے آغاز میں ڈاکٹر ابوالخیر زبیر نے ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ھوئے سب مندوبین کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ آج کے اجلاس کے ایجنڈے کا پہلا نکتہ امریکی صدر کی پاکستان پر بے جا الزامات پر غور کرنا اور اس پر بھرپور رد عمل دینا ھے جبکہ ایجنڈے کا دوسرا نکتہ محرم الحرام میں امن و امان کے حوالے سے غور و فکر کرنا ھے،سب جماعتیں اپنا اپنا نقطہ نظر بتائیں اور آخر میں ایک مشترکہ اعلامیہ دیا جائے گا۔ ملی یکجہتی کونسل کی تمام ممبر جماعتوں نے اپنے احساسات اور جذبات کو بھر پور انداز میں بیان کیا ۔
اسلامی تحریک کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور ملی یکجہتی پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے قائد ملت جعفریہ اور ملی پلیٹ فارم کی ترجمانی کرتے ھوئے کہا کہ آمریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ یہ حقیقت بڑی واضح ھے کہ آمریکہ کبھی بھی پاکستان کا دوست نہیں رھا اپنے مفادات کا پتر ھے پوری پاکستانی قوم آمریکہ کی اسلام دشمنی اور پاکستان دشمنی کو اچھی طرح جانتی ھے اور اپنی حکومتوں کی امریکہ سے دوستی کے راگ الاپنے کو پسند نہیں کرتی،پوری قوم کی ھمیشہ یہی آواز تھی کہ آمریکہ کبھی ھمارا دوست نہیں ھو سکتا اللہ کا شکر ھے کہ ٹرمپ کی اس ھرزہ سرائی سے حکمرانوں کی بھی آنکھیں کھل گئی ھیں اور امریکہ کے چہرے سے وہ دوستی کا خول اتر گیا ھے،ھم یہ سمجھتے ھیں کہ امریکہ نے پاکستان کی تمام قربانیوں کو نظر انداز کر کے ھمیں یہ موقعہ دیا ھے کہ اب ھم من حیث القوم متحد ھو کر ان کو بھرپور جواب دیں،امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں۔
علامہ عارف واحدی نے کہا کہ آرمی چیف نے جس جرئتمندانہ انداز میں امریکہ کو کہا ھے کہ ھمیں آپکی امداد کی کوئی ضرورت نہیں،ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاھئے جو وزیر خارجہ نے بیان دیا ھے ھم سمجھتے ھیں کہ اس سے زیادہ جرئت کے ساتھ قوم کی ترجمانی کی ضرورت تھی،ابھی جو خبر آئی ھے کہ وزیر خارجہ نے طے شدہ امریکہ کا دورہ کینسل کر دیا ھے اور امریکی نائب وزیر خارجہ کو بھی پاکستان کے دورے سے روک دیا ھے،یہ حوصلہ افزا خبریں ھیں ریاست اور حکومت کو اس اجلاس میں یقین دلانا چاھئے کہ آپ بہادری سے پاکستان کی غیور قوم کی ترجمانی کا حق ادا کرین پوری قوم اس ایشو پر آپ کے ساتھ کھڑی ھو گی۔
ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ واحدی نے کہا کہ ھمارا نظریہ یہ ھے کہ آمریکہ کی دشمنی خطرناک نہیں ھے آمریکہ کو اپنا دوست سمجھنا خطرناک ھے دنیا میں جن اقوام اور ممالک نے آمریکہ کی سازشوں کا مقابلہ کیا انھوں نے ترقی بھی کی اور اقوام عالم میں عزت و عظمت بھی حاصل کی۔
علامہ عارف واحدی نے اس مشکل وقت میں دوست ممالک کی حمایت کا ذکر کرتے ھوئے کہا کہ چین،روس،ایران اور ترکی کے شکرگزار ھیں جنھوں دوستی کا حق ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ھو کر آمریکہ کو جواب رد دیا ھے کہ ٹرمپ کا موقف تسلیم نہیں کرتے ،حکومت پاکستان ان مسلمان دوست ممالک میں بھی اپنے وفود بھیجے جنھوں نے ابھی تک اس مشکل ٹائم پر پاکستان کی حمایت کا اعلان نہین کیا،خود ان پر جب مشکل وقت آتا ھے تو پاکستان سے مدد مانگتے اور توقع رکھتے ھیں تو اب دوستی کا معیار بنانا ھو گا کہ اس کٹھن مرحلے پر کون سے ممالک دوستی کے معیار پر پورا اترتے ھین۔
علامہ صاحب نے کہا کہ ھم حکومت کو مشورہ دیتے ھیں کہ قوم کے ایک متفقہ موقف کے لئے ضروری ھے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور تمام دینی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹایز کانفرنس بلائی جائے اور امریکہ کی اس جسارت اور گستاخی کا دوٹوک جواب دیا جائے۔تمام جماعتیں اور طبقات اپنے اختلافات ایک طرف رکھ کر دشمن کے مقابلے میں ایک پیج پر آجائیں۔اسی میں ملک و قوم کا مفاد ھے۔
محرم الحرام میں امن و امان کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ھوئے علامہ عارف واحدی نے کہا کہ اتحاد امت کے لئے ھم نے بہت قربانیان دی ھیں ھم سب کی کاوشیں ھین مگر بعض عناصر اور گروہ ایک سازش کے تحت دونوں طرف کاوائیاں کر کے یہ شو کرتے ھیں کہ یہ مسالک کی جنگ ھے،ھمیں اس پر واضح موقف اپنانا ھو گا،چند روز پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں ھوشربا انکشافات ھوئے جس سے ھم سب کی آنکھین کھل جانی چاھئیں کہ پانچ سال پہلے تعلیم القراان پر حملہ کرنے میں کونسے عناصر ملوث تھے،ان سازشوں کو سمجھنا ھو گا اور ان حالات کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھیں گے تو ھم ملکر وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ھیں۔
آخر میں ان دونکات پر ملی یکجہتی کونسل کی طرف سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جو میڈیا پر نشر ھو چکا ھے جس میں قوم کی بھر پور ترجمانی کی گئی۔