اسرائیل کا وجود کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتاکیوں کہ خود بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے بھی اپنا پہلا پالیسی بیان جو اسرائیل کے بارے میں دیا تھا وہ بھی یہی تھا کہ اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے اسے کسی بھی طور تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے تحت یومِ مردہ باد اسرائیل کے سلسلے میں کراچی حیدرآباد،لاہور، ملتان، گلگت و بلتستان ، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، پشاور ، ڈیرہ اسماعیل خان، پارہ چنار، نصیرا آباد، میرپور خاص ، نوابشاہ، دادو، سکھر ،خیرپور، لاڑکانہ، گھوٹکی ، شکارپور ،کندھ کو ٹ ، کشمور، جیکب آباد سمیت ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں نکالے گئے احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے جے ایس او کے مرکزی صدر برادر غضنفر عباس ساجدی، مولانا عباس مہدی ترابی، مولانا رجب علی حاتمی،مولانا غلام جعفر ، مولانا نصرت علی، نوید علی وآفتاب علی، ذیشان حیدر شمسی ،جنیل حیدر، سید کاظم شاہ، رضوان علی ساجدی و دیگر نے خطاب کیا۔ مقرین نے کہاکہ اسرائیل ایک ناسور کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔ ہر روز قابض اسرائیلی فوجی مظلوم فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتے نظر آتے ہیں۔ خواتین کی بے حرمتی، نوجوانوں کا قتلِ عام اور گرفتاریاں اوران کے گھروں کی مسماری روز کا معمول بن چکا ہے۔ مقررین نے مزید کہا کہ اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار امریکہ ہے کیوں کہ اسرائیل یہ سب کچھ اس کے ایما ء پر کر رہا ہے۔ جبکہ اقوامِ عالم اور بالخصوص مسلم امہ اور عرب ممالک کا کردار بھی افسوس ناک ہے۔ مقررین کا یہ بھی کہنا تھا کہ امتِ مسلملہ جب تک یکجا نہیں ہوگی اس وقت تک مسلمانوں کی حالتِ بد سے بدتر ہی رہے گی لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ امتِ مسلمہ یک جاں ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑیں ۔ مقررین نے مزید کہا کہ گریٹر اسرئیل کا امریکی خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا اور نہ ہی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلفہ تسلیم کیا جائے گا۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر اسرائیل اور امریکہ کے خلاف سخت نعرے دررج تھے۔ مظاہرے کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل کے پرچم بھی نذرِ آتش کیے گئے۔