خیبر پختونخواہ حکومت سمیت قانون نافذ کرنےوالے ادارے شہریوںکے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کےلئے ہر ممکن اقدامات کریں ۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا نے والے دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں انہیںفی الفور قانون کے شکنجہ میں جکڑ کر تختہ دار پر لٹکایا جائے ، مطالبہ
اسلام آباد/راولپنڈی 09 اگست 2018 ء( جعفریہ پریس ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے ترجمان کا کہنا ہے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پروا میں ٹارگٹ کلنگ کے تین مختلف واقعات میں تین معصوم لوگوں کی شہادت پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں عرصہ دراز سے دہشت گرد اور شرپسند عناصر کی جانب سے جو کھیل کھیلا جا رہاہے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اور ان تمام واقعات کی ذمہ داری خیبر پختونخواہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے جو شہریوں کی قیمتی جانو ں کی حفاظت کرنے میں ناکا م نظر آتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ عرصہ دراز سے قاتل شہر میں دلیری کےساتھ واردات کرکے فرار ہو جاتے ہیںجو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ؟ انہوںنے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے صبر کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے اور صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ سمیت قانون نافذ کرنےوالے ادارے شہریوںکے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کےلئے ہر ممکن اقدامات کریں ۔ترجمان قائد ملت جعفریہ نے مزید کہاکہ ایک سازش کے تحت ملک میں شرپسندی پھیلا کر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخواہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا نے والے دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں انہیں فی الفور قانون کے شکنجہ جکڑ کر تختہ دار پر لٹکایا جائے ۔کل ہونیوالے واقعات میں چودھواںموڑ عربی مسجد کے قریب باقرحسین ولد ہاشم حسین سکنہ ببر پکہ کو فائرنگ کرکے شہید کیا، دوسرے ا واقعہ میں ماہڑہ اڈہ کے قریب کالو ولد غلام حیدر سکنہ چڑا پولاد کو فائرنگ کرکے شہید کیا جبکہ تیسرے واقعے میں میرن سفیدہمائز پر حفاظت حسین ولد اللہ ڈوایہ سکنہ پروا کو فائرنگ کرکے شہید کیا افسوس ناک امر یہ ہے کہ پولیس تھانہ کے قریب ہونے والے دہشتگردی کے واقعہ پر تھانہ پولیس نے موقع پر پہنچنے کی بجائے تھانے کے گیٹ بند کر لئے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس دہشتگردی کی روک تھام کرنے میں کتنی مخلص ہے ایسے بزدل افسران کے خلاف کاررووائی عمل میں لاتے ہوئے نوکریوں سے فارغ کرکے ان کی جگہ ایماندار اور دلیر آفیسر تعینات کئے جائیں ۔ڈی پی اور ڈیرہ اسماعیل خان ظہوربائزآفریدی بھی جواب دہ ہیں کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرنے میں کیوں ناکام ہیں اور دہشتگردوںکو قانون کے شکنجے میں کیو ں نہیں جکڑ پارہے پورے خطے میں تشویش کی لہرموجود ہے کہ وہ قاتلوں کو پکڑنے میں کیوں ناکام ہیں لہذا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داران کو چاہیے کہ باقر حسین ، کالو اور حفاظ ت حسین کے قاتلوںکا سراغ لگاکر انہیں فی الفور گرفتارکرکے واقعی سزا دی جائے اور ڈیرہ اسماعیل خان کی عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے علاقے میں پائیدار امن کے قیام کےلئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات اٹھائے جائیںتاکہ شرپسند وں کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہوسکے ۔




