تازه خبریں

مسئلہ یمن پر وزیر اعظم کا مصالحتی بیان تعجب انگیز ہے ، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی 

مسئلہ یمن پر وزیر اعظم کا مصالحتی بیان تعجب انگیز ہے ، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی 

مسئلہ یمن پر وزیر اعظم کا مصالحتی بیان تعجب انگیز ہے ، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی 

حوثیوں کے مقابلے میںسعودیوں کی حمایت کا اعلان،تحقیقات کیخلاف ووٹ دینے ، کسی فریق سے رابطہ نہ کرنے اور ایک فریق سے جھولی بھروانے کے بعد ثالثی کیسے ممکن ہو گی ؟
عمران خان ایک بات اور وزیر خارجہ دوسری بات کہہ رہے ہیں کہ فریق ممالک کہیں گے تب مصالحتی کردار ادا کریں گے، قائد ملت جعفریہ پاکستان 
وزیر اعظم کابیان کہ کرپٹ عناصرکو جیلوں میں ڈالیں گے بہت اچھا ، کیا اس ملک میں شہریوں کی آزادی کو سلب کرنے والوں کو بھی جیل میں ڈالا جائےگا؟

 راولپنڈی /اسلام آباد25 اکتوبر2018 ء(جعفریہ پریس    )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا ہے کہ مسئلہ یمن پر وزیر اعظم کا مصالحتی بیان تعجب انگیز ہے، حوثیوں کے مقابلے میںسعودیوں کی حمایت کا اعلان،تحقیقات کیخلاف ووٹ دینے ، کسی فریق سے رابطہ نہ کرنے اور ایک فریق سے جھولی بھروانے کے بعد ثالثی کیسے ممکن ہو گی؟،عمران خان ایک بات اور وزیر خارجہ دوسری بات کہہ رہے ہیں، ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ فریق ممالک کہیں گے تب مصالحتی کردار ادا کریں گے، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے بیانات میں تضادسے حکومتی سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے؟ وزیر اعظم کے خطاب کے بعد شہریوں کے ذہنوں میں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیںکہ گذشتہ ماہ اکتوبر میں پاکستان نے اقوا متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں یمن میں انسانی المیہ پر تحقیقات کو جاری رکھنے کیخلاف ووٹ دیتے ہوئے جانبداری کا ثبوت دیا تھا کیا کوئی جانبدار ملک مخالفت کرنے کے بعد ثالثی کا کر داراد ا کر سکے گا؟ ان تما م کمزوریوں کے باوجود ہم پاکستان کے ثالثی کر دار کی حمایت میں ہیں البتہ پاکستان کو اپنی پوزیشن کوواضح اور مستحکم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ثالثی نتیجہ خیز ثابت ہو سکے۔ انہوںنے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کے دوران اپنے بیانیہ میں اس بات پر زور دیاکہ کرپٹ عناصرکو جیلوں میں ڈالیں گے بہت اچھا ، کیااس ملک میں شہریوں کی آزادی کو سلب کرنے والوں کو بھی جیل میں ڈالا جائےگا؟ علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ حکومتیں تبدیل ہوچکی ہیں لیکن پالیسیوں میں کوئی واضح یا بہتر تبدیلی نہیں نظر آتی شہری آزادیوں کےساتھ بنیادی انسانی حقوق پر پابندیاں اور آئین شکنی تسلسل کے ساتھ جاری ہیں، بہاولنگرکے واقعہ کی ہی مثال لی جائے تو پھر عام آدمی حق بجانب ہے کہ پوچھے کہ کیا یہی گڈ گورننس ہے کہ چادر و چاردیواری کا حق پامال کردیا جائے؟کیا یہی تبدیلی ہے ؟ جس کے بلند و باگ دعویٰ کیئے جارہے ہیں؟ انہوںنے مزید کہا کہ مشور ہ دینے والے کمزور تصویر پیش کررہے ہیں اور کمزوریوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیوکی جانب سے ڈو مور کا مطالبہ اس وقت پھر سامنے آیا ہے جب پاکستان معاشی بحران سے نکلنے اور آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کےلئے ہاتھ پاﺅں مار رہاہے اور بڑی مشکل سے سعودی عرب سے معاشی پیکج لینے میں کامیاب ہواہی تھا کہ امریکہ کی جانب سے دی جانے والی دھمکی کہ اگر پاکستان نے دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم نہ کی تو خمیازہ بھگتنا ہو گا سامنے آگئی جس پرحکومت کو موجودہ حالات کے تناظر میں تمام سنجیدہ سیاسی، مذہبی وعسکری قوتوں کو متحد ہو کر اس سنجیدہ مسئلہ پر اقدام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے مستقبل کو محفوط بناتے ہوئے خطہ سے دہشتگرد ی کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے ۔