تازه خبریں

اردو زبان کا نفاذ ، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمدکو یقینی بنایا جائے قائد ملت جعفریہ پاکستان

اردو زبان کا نفاذ ، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمدکو یقینی بنایا جائے قائد ملت جعفریہ پاکستان

 اردو زبان کا نفاذ ، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمدکو یقینی بنایا جائے ، علامہ ساجد نقوی
نیوز چینلزکے ٹکرز اور اخبارات میں شائع ہونی والی خبروں میں تلفظ کی غلطی ، جملہ بندی ، تذکیر وتانیث و املائی اغلاط کی درستگی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ ک اڈھاکہ میں خطاب سرکاری زبان کے حوالے سے واضح
اصول کا درجہ رکھتا ہے ، جس پر عملدرآمد ضروری ہے ۔

 

رالپنڈی /اسلام آباد24مئی 2019(   جعفریہ پریس  )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اردو نیوز چینلز میں چلنے والے ٹکرزاور قومی اخبارات میںشائع ہونے والی خبروں میں بے شمار املا ئی و تلفظ کی غلطیوں، تذکیر وتانیث و جملہ بندی کی غلط ادائیگی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ نیوز چینلز کے ٹکرز اور اخبارات میں شائع ہونی والی خبروں میں تلفظ کی غلطی ، جملہ بندی ، تذکیر وتانیث و املائی اغلاط کی درستگی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوںنے کہا کہ دور حاضر میں ذرائع ابلاغ میں الیکٹرانک میڈیا و پرنٹ میڈیا کو ایک خاص مقام حاصل ہے ۔

 

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قومی اخبارات و ملکی نیوز چینلز ذمہ داری کے ساتھ قومی اردو زبان کو فروغ دینے میں، ملکی شناخت اورقومی زبان کی بقا میں اہم کر دار ادا کررہے ہیں لیکن بعض نیوز چینلز اور اخبارات ایسے بھی ہیں جو قومی زبان اردو کو فروغ دینے کیلئے کوشاں تو ہیں لیکن عدم توجہی کی بنا پر اردوزبان کے وقار کو مجروح ہونے سے بچا نہیں پارہے جس سے نہ صرف خود ان کے ادارے کی اپنی قابلیت و ساکھ متاثر ہورہی ہے بلکہ قومی زبان بھی متاثر ہو رہی ہے ،اس لئے اصلاح ضروری ہے۔

علامہ ساجد نقوی کا کہنا ہے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی بیشتر تحریروں کے غیر معیاری ہونے کی بنا پر بے شمار الفاظ کا غلط تلفظ رائج ہوگیا ہے۔ مثال کے طور پر لفظ” عطائی“ کو اکثر نیوز چینل تسلسل کے ساتھ”اتائی“ تحریر کررہے ہیں اس طرح ”عوام“کو مونث سمجھتے ہیں اور کہا اور لکھا جاتا ہے کہ ”عوام یہ کہتی ہے “ جوسرا سر غلط ہے یوں کہنا چاہیے کہ ” عوام یہ کہتے ہیں “ اس قسم کی اغلاط بعض اداروں کی جانب سے روز مرہ کا معمول بنتا جارہا ہے جس پر ذمہ داران کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے پاکستان کے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں اردو کے فروغ اور اسکی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دستور پاکستان کے آرٹیکل 251 کے مطابق پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری و دیگر اغراض و مقاصد میں استعمال کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔

 

اردو زبان کی اہمیت کا اندازہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی 21مارچ 1948کو ڈھاکہ میں خطاب سے بھی کیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرکاری زبان کے بارے میں واضح اصول وضع کرتے ہوئے فرمایا تھاکہ پاکستان کی سرکاری زبان صرف اردو ہی ہوگی ، دیگر اقوام کی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ترقی کر سکتی ہے۔
علامہ ساجد نقو ی نے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ 4سال قبل 2015 میں جواد ایس خواجہ نے اردو زبان کے نفاذ کے حوالے سے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ملک بھر میں اردو زبان کو سرکاری اور غیرسرکاری دفاتر میں آئین کے آرٹیکل دو سو اکیاون کے تحت نافذ کیا جائے مگر تاحال عمل درآمد نہ ہوسکا جواد ایس خواجہ ریٹارڈ ہوگئے مگر ان کے حکم پر آج تک عمل درآمد نہ ہوسکا۔وقت کا تقاضا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے ملک بھرکے سرکاری و غیر سرکاری دفاترز میں اردو زبان کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔