اخلاق ِ رسول ﷺ اور امت ِ رسول ﷺ محمد علامہ رمضان توقیر

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اخلاق ِ رسول ﷺ اور امت ِ رسول ﷺ
علامہ محمد رمضان توقیر
مرکزی نائب صدر
شیعہ علماء کونسل پاکستان
خالق ِ کائنات نے انسانوں کو جتنی نعمات اور خزانوں سے نوازا ہے ان میں بلاشک و تردید اگر کوئی چیز سب سے اعلی مقام کی حامل ہے تو وہ اخلاق ہے۔ اخلاق نعمت ِ عظیم ہے جو انسان کو اس دنیا میں بھی ممتاز و منفرد اور جاذب و دلکش و کامیاب رکھتی ہے بلکہ آخرت میں بھی جنتیوں کے آخری مقام تک لے جاتی ہے۔ حضور اکرم نور ِ مجسم رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کا ممکنہ حدود میں اعلی ترین نمونہ ہیں۔ کفار و مشرکین کے ساتھ برتاؤ سے لے کر اہل ِ خانہ یعنی اہل ِ بیت ؑ کے ساتھ برتاؤ تک سیرت ِ نبوی ؐکے ہر مرحلے میں اخلاق کا اعلی ترین معیار پایا جاتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالے نے آپ ؐ کے لیے معلم ِ اخلاق‘ منبع ِ اخلاق‘ سراپا اخلاق اور مرکز ِ اخلاق ہونے کے جتنے بھی دعوے کئے ہیں آپ ؐ نے اپنی سیرت سے ان تمام دعووں کو حق اور سچ کر دکھایا ہے تبھی تو آپؐ کی حیات و سیرت کو کائنات کے انسانوں کیلئے نمونہ عمل اور واجب الاطاعۃ قرار دیا گیا ہے۔ دنیا میں آپ کی تشریف آوری کی اغراض میں سے ایک بڑی غرض ہی اخلاق ِ حسنہ کی تکمیل ہے۔ چنانچہ ارشاد ِ گرامی ہوا۔ ”بعثت لا تتم مکارم الاخلاق“ یعنی میں (رسول اللہ) دنیا میں اخلاق ِ حسنہ کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ پھراللہ کے قرآن نے آپ ؐ کے اخلاق کی گواہی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ”انک لعلی خلق عظیم“ یعنی بے شک آپ ؐ اخلاق کے سب سے بڑے مرتبے پر فائز ہیں۔ اہل ِ بیت ؑ اور صحابہ اس بات کو متعدد بار روایت کرتے ہیں کہ حضور ِ اکرم ﷺ لوگوں کو ہمیشہ اچھے اخلاق اور اعلی تربیت کی نصیحت و وصیت کرتے تھے۔ لوگوں کو عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتے تھے۔
ذیل میں ہم اخلاق والے رسول ؐ کی احادیث میں چند احادیث کا ذکر و بیان کرکے موجودہ دور میں اپنی اخلاقی کیفیت کا جائزہ لے کر نتیجہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مومنوں میں افضل ترین وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مومنوں میں ایمانی اعتبار سے اکمل وہ ہیں جن کا اخلاق اچھا ہے۔ جو اپنے پہلووں کو لوگوں کے لئے جھکانے والے ہیں اور لوگوں سے محبت کرتے ہیں اور لوگ ان سے محبت کرتے ہیں۔ اس آدمی میں بھلائی نام کی کوئی چیز نہیں جونہ لوگوں سے محبت کرتا ہے اور نہ ہی لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ انسان اپنے اچھے اخلاق کے سبب رات کا قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کے درجات حاصل کرلیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالی کو تمام بندوں سے محبوب ترین بندہ وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ بے شک لوگ حسن ِ اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں دئیے گئے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ ترازو میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ بھاری ہوگی تو وہ حسن ِ اخلاق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ قیامت کے روز مجلس اور قربت کے لحاظ سے میرے قریب وہ ہوگا جس کا اخلاق بہتر ہوگا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں اس آدمی کو جنت کے کنارے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑوں کو چھوڑ دیتا ہے اور جنت کے درمیان میں گھر کا ضامن ہوں جو اپنے مزاح میں بھی جھوٹ کو چھوڑ دیتا ہے۔ اور جنت کے اعلی مقام میں گھر کا ضامن ہوں جس کا اخلاق اچھا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس بن مالک سے فرمایا۔ میرے بچے اگر تم سے ہو سکے تو صبح و شام اس طرح گذارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کوئی میل اور کھوٹ نہ ہو۔ تو یہ ضرور کرو۔ پھر فرمایا۔ میرے بچے یہ دل صاف رکھنا میری سنت ہے جس نے میری سنت سے محبت رکھی اور اس پر چلا وہی میری محبت رکھتا اور جو مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک اور مقام پر فرمایا۔ ”میری امت میں تو مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز ڈھیر ساری نمازیں‘ روزے اور زکاتیں لے کر آئے گا مگر ساتھ ہی اس حال میں آئے گا کہ کسی کو گالی دی ہوگی کسی پر تہمت لگائی ہوگی کسی کامال کھایا ہوگا کسی کا خون بہایا ہوگا کسی کو مارا ہوگا۔ پس ان مظالم کے قصاص میں اس دعوے دار کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی یہاں تک کہ اگر حساب پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان دعوے داروں کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے اور پھر وہ سر کے بل آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ وارث ِ اخلاق ِ رسول ؐ حضرت علی علیہ السلام کا ایک ارشاد گرامی ہے کہ حسن ِاخلاق تین چیزوں میں ہے۔ ۱۔ محرمات سے اجتناب ۲۔ حلال طلب کرنا۔۳۔ اہل و عیال کے ساتھ بہت عمدہ برتاؤ کرنا۔
آج ہم جس مشکل ترین اور کٹھن دور سے گذر رہے ہیں اس میں حسن ِ اخلاق کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ ایسے میں جب لوگ محبتوں کی بجائے نفرتیں تقسیم کررہے ہیں۔ امن کی بجائے بدامنی اور فساد پھیلا رہے ہیں۔ اعتماد و قربت کی بجائے بداعتمادی اور دوری کو رواج دے رہے ہیں۔ خوشی کے بجائے حسد و کینہ دلوں میں رکھے ہوئے ہیں۔ دوستی و پیار کی بجائے کدورت و عداوت کی پالیسیاں تشکیل دے رہے ہیں۔ عفو و درگذر کی بجائے قتل و دہشت گردی پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ مثبت افکار کی بجائے منفی سوچوں کی ترویج کی جارہی ہے۔ جدال و قتال کی تبلیغ زوروں پر ہے۔ ایک دوسرے کو دور کرنے کے لئے سلام و دعا و مصافحہ حرام کرنے سے لے کر کفر و شرک کا فتوی لگانے کے پست ترین طریقے اختیار کئے جارہے ہیں۔
اخلاق اور محبت و برداشت کی بجائے نفرت و تعصب و جہالت کے پھیلاؤ کی محافل منعقد کی جارہی ہیں۔ اخلاق سے بات کرنے والے کو کمزور و بزدل بلکہ بعض شدت پسند تو بااخلاق کو بے غیرت سمجھتے ہیں جبکہ بد اخلاق‘ بد زبان اور حملہ آور لوگوں کو ہیرو اور رہبر کا مقام دیا جارہا ہے۔ سیرت نبوی ؐ میں سے اخلاق کی بات بیان کرنے والے کی بات پر دھیان نہیں دیا جاتا جبکہ انتشار و افتراق کی بات کرنے والے کے بیانات پر داد کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں۔ اخلاق اور تحمل کی تبلیغ کرنے والے کو جہنمی اور حدت و شدت کی تبلیغ والوں کو جنتی کہا جارہا ہے۔ ایسے عالم میں ہم پر واجب لازم بلکہ اوجب ہے کہ ہم سیرت ِ نبوی ؐ کے سب سے اہم اور طاقتور ترین اور موثر ترین پہلو یعنی حسن ِ اخلاق کی تبلیغ و ترویج و نصیحت و وصیت و نشر و اشاعت کریں تاکہ اس دنیا میں امن و اخوت سے گذر کر اگلی دنیا میں جنت کے اعلی ترین مقام تک پہنچ سکیں۔
٭٭٭٭٭