یومِ دحو الارض: زمین کو امن و شانتی کا محور و مرکز بنانا ہوگا تاکہ انسانیت کا قتل نہ ہو، قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی
ظلم و سامراج نے زمین کا امن تہہ و بالا کر دیا، قائد ملت جعفریہ
یومِ دحو الارض اللہ کی رحمتوں کے نزول کا دن ہے، عبادت اور توبہ کو وظیفہ بنایا جائے
راولپنڈی / اسلام آباد، 13 مئی 2026ء جعفریہ پریس پاکستان — آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے 25 ذی القعدہ یومِ دحو الارض کے موقع پر کہا ہے کہ دحو الارض کا معنی زمین کا پھیلایا جانا، بچھایا جانا یا قابلِ سکونت بنایا جانا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں پانی پر موجود زمین کو پھیلا کر انسانوں کی زندگی کے لیے موزوں بنایا۔ بعض تفاسیر و روایات کے مطابق خانہ کعبہ کے مقام سے زمین کے پھیلاؤ کا آغاز ہوا۔
انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید میں لفظ “دحا” آیا ہے:
“وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحَاهَا”
(سورۃ النازعات، آیت 30)
یعنی “اور اس کے بعد زمین کو بچھایا / پھیلایا۔”
انہوں نے کہا کہ اس دن کے حوالے سے عبادات، روزہ، دعا اور نوافل کی فضیلت بھی روایات میں بیان ہوئی ہے۔
آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ خداوندِ کریم نے یہ زمین رزق کے حصول، رہن سہن، امن، سکون کی بہتری اور انسانوں کی پرورش و بہبود کیلئے بنائی، لیکن اس دور میں ظالم سامراج اور صہیون نے زمین کا امن تہہ و بالا کر دیا ہے۔ فساد فی الارض کے جرم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے، انسانیت کی تذلیل، قتل و غارت، انسانی حقوق کی پامالی، ظلم و جبر، سازشوں، جنگوں اور مکینوں کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنے کی مثالوں سے دنیا بھری پڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں غزہ، لبنان اور ایران کی سرزمین پر تباہی پھیلائی گئی، نسل کشی کی گئی، حالانکہ یہ زمین اس مقصد کیلئے تخلیق نہیں کی گئی۔
آخر میں آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا، زمین کو امن و شانتی کا محور و مرکز بنانا ہوگا تاکہ انسانیت کا قتل نہ ہو۔ ہمیں یومِ دحو الارض پر اللہ کی رحمتوں کے نزول کے دن اظہارِ تشکر کرتے ہوئے عبادت اور توبہ کو اپنا وظیفہ بنانا چاہیے تاکہ کائنات کی تخلیق میں غور و فکر کرنے کا بہترین موقع میسر ہو سکے۔