جنگیں مسائل کا حل نہیں، مگر مسلط ہوں تو دفاع فرض ہے، ایرانی قوم سرخرو ہوئی
ایرانی قوم کی استقامت قابلِ تحسین، پاکستان نے بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا: قائد ملت جعفریہ
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ خود بڑے مسائل کو جنم دیتی ہیں، تاہم جب کسی قوم پر جنگ مسلط کر دی جائے تو اپنے وطن، آزادی اور خودمختاری کا دفاع زندہ قوموں کا فریضہ بن جاتا ہے۔ ایرانی قوم تین ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جارحیت کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی اور استقامت، قربانی اور اتحاد کی نئی مثال قائم کی۔
انہوں نے پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک کی کاوشوں سے جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت ایک ابتدائی مرحلہ ہے، جبکہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات اور آئندہ سامنے آنے والے مسودے کے بعد مزید حقائق واضح ہوں گے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد نقوی نے کہا کہ جس انداز میں ایرانی قیادت، عوام اور مختلف طبقات نے مسلط کردہ جنگی جنون اور جارحیت کا مقابلہ کیا، وہ تاریخ میں ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے رہبر انقلاب اسلامی ایران سمیت اہم شخصیات، طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی قربانیوں کے ذریعے نہ صرف اپنے وطن اور تہذیب کا دفاع کیا بلکہ عالم اسلام اور مظلوم اقوام کے وقار کو بھی بلند کیا۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد، استقامت اور جرات کے ذریعے ایرانی قوم نے ثابت کیا کہ قومی یکجہتی بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی اتحاد اور قربانی کا جذبہ قوموں کو سرخرو کرتا ہے۔
قائد ملت جعفریہ نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دوستی، باہمی تعلقات اور ہمسائیگی کے تقاضوں کو احسن انداز میں نبھایا اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مثبت کردار ادا کیا۔ یہ سفارتی حکمت عملی خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے قابلِ قدر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں امت مسلمہ کو اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ہر قسم کی بیرونی سازشوں، انتشار اور تفرقے سے ہوشیار رہنا ہوگا تاکہ خطے میں قائم ہونے والا امن مزید مضبوط ہو اور اس کے مثبت اثرات مظلوم اقوام تک پہنچ سکیں۔