تازه خبریں

شیعہ علماء کونسل پنجاب کی لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس

شیعہ علماء کونسل پنجاب کا عزاداری پر پابندیوں کے خلاف احتجاج کا اعلان، 11 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش

شیعہ علماء کونسل پنجاب نے عزاداری پر پابندیاں مسترد کر دیں، 2 اگست کو احتجاج کا اعلان

لاہور: شیعہ علماء کونسل پنجاب نے عزاداریِ سیدالشہداءؑ پر عائد پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے 11 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا اور مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں 2 اگست کو لاہور میں پرامن احتجاج کا اعلان کیا۔

یہ اعلان شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ اشتیاق حسین کاظمی، وسطی پنجاب کے صدر سید ساجد حسین نقوی، جنوبی پنجاب کے سینئر نائب صدر مبشر حسین بھٹہ اور فوکل پرسن قاسم علی قاسمی نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر حافظ کاظم رضا نقوی، نیر عباس کاظمی، صغیر عباس ورک، لعل مہدی خان، صفی الحسنین شیرازی سمیت دیگر علماء، ذاکرین اور رہنما بھی موجود تھے۔

رہنماؤں نے اپنے 11 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں مطالبہ کیا کہ عزاداری پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں، نظر بند عزاداروں کو فوری رہا کیا جائے، فورتھ شیڈول کے مبینہ غلط استعمال کا خاتمہ کیا جائے، مجالس و جلوسوں کے انعقاد میں حائل رکاوٹیں، شورٹی بانڈز اور مچلکوں کی شرط ختم کی جائے، نئی آبادیوں میں اہلِ تشیع کی مساجد و امام بارگاہوں کی تعمیر اور این او سی کے اجرا کو یقینی بنایا جائے۔

علامہ اشتیاق حسین کاظمی نے کہا کہ عزاداری سے متعلق سرگرمیوں کو بلاجواز جرم بنایا جا رہا ہے، جبکہ مجالس، سبیلوں اور تبرک کی تقسیم پر مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فورتھ شیڈول کو ریاست مخالف عناصر کے بجائے عزاداروں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔

سید ساجد حسین نقوی نے کہا کہ مجالسِ عزا کے انعقاد کے لیے “اجازت” کی شرط غیر ضروری ہے، کیونکہ مذہبی اجتماعات آئینی حق ہیں۔ انہوں نے اربعین واک، نئی مجالس اور جلوسوں کے انعقاد میں درپیش رکاوٹوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عزاداری کے آئینی حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مبشر حسین بھٹہ نے کہا کہ مجالس کے اوقاتِ کار سے متعلق حکومتی نظام کو موجودہ حالات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئی مجالس اور جلوسوں کے روٹس کی منظوری دی جائے۔

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ عزاداروں کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں، جیلوں میں اہلِ تشیع قیدیوں کو عبادات اور عزاداری کی سہولت فراہم کی جائے، علماء، ذاکرین اور خطباء پر عائد زبان بندی اور ضلع بندی ختم کی جائے، جبکہ مذہبی آزادی کے آئینی حق کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر سنجیدگی سے عمل درآمد نہ کیا گیا تو 2 اگست کو لاہور میں پرامن احتجاج کیا جائے گا، جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ بھی حالات کے مطابق کیا جائے گا۔