تازه خبریں

٣٤ ممالک کا اتحاد، ایران سعودیہ تنازعہ اگر پاکستان صلح کرا لے تو یہ پاکستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہوگا علامہ عارف واحدی

جعفریہ پریس : اس وقت عالمی سطح پر امت مسلمہ پر جو خلفشار ہے ہم سمجھتے ہے وہ عالمی سماراجی قوتوں کی بہت بڑی سازش ہے اس کو حل کرنے کے لئے مسلم امہ کو اکٹھا ہونا ہوگا اور خاص کر سعودی عرب اور ایران کے مابین جو تنازعات پیدا ہوۓ ہیں ہم سمجھتہے ہے یہ بہت بڑی سازش ہے اور تنازع کو حل کرنے کے لیے تمام مسلم ممالک سر جوڑ کر بیٹھیں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ہم اپنے ملک پاکستان کے حکمرانوں کو خصوصی طور پر کہیں گے کہ اس وقت پاکستان بہت بڑا کردار ادا کر سکتا ہے دنیا کی ایک بہت بڑی طاقت ہونے اور مسلمان ایٹمی قوت ہونے کی ناطے پوری امت پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے کہ اس مسئلے کو حل کرانے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے ہم چاھتے ہیں کہ پاکستان ٣٤ ممالک کے اتحاد میں جانے کی بجاے ثالث کا کردار ادا کرے اور سعودیہ اور ایران کو قریب لائے _ ہم سمجھتے ہے یہ اختلاف ان دونوں ممالک کو نقصان دینے کی بجاے پورے خطے کو نقصان پہنچاۓ گا اور اس کا نقصان پاکستان کو بھی ہو سکتا ہے لہٰذا عقلمندی کا مظاہرہ کیا جائے اور ٣٤ ممالک کے اتحاد میں جا کر فرقہ وارانہ اتحاد میں شامل ہونے میں نہ پاکستان کی قوم راضی ہے نہ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں راضی ہے لہذا اس اتحاد میں جانے کی بجاۓ اسکو اچھے انداز میں حل کرے تو یہی پاکستان کی سالمیت کے لیے بہتر ہوگا اور امت مسلمہ پر ایک اچھا پیغام جاۓ گا ، پاکستان کی دوستی ایران سے بھی اور سعودیہ سے بھی ہے ، اسکے باوجود کسی ایک فریق کی طرف جانے سے دوسرا فریق یقینا پاکستان سے ناراض ہوگا اور اس وقت پاکستان کی جو صورتحال ہے ایک طرف ہمسایہ انڈیا ہے جسکے ساتھ صورتحال بہتر نہیں ہے اور دوسری طرف افغانستان ہے وہاں بھی بہتری نہیں ہے ایک ایران ہے جسکے ساتھ دوستانہ ماحول ہے ہم سمجھتے ہے اس دوستانہ ماحول کو بہتر رکھا جائے اور درمیان میں ثالث کا کردار ادا کرتے ہوۓ اگر پاکستان صلح کرا لے تو یہ پاکستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہوگا اور پاکستان کا مقام عالمی دنیا اور امت مسملہ میں بڑھے گا _