تازه خبریں

وزیراعظم کا اقدام خوش آئند البتہ حزب اختلاف کی آراءکو بھی مدنظر رکھا جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد نقوی

\طریقہ کار کے تعین میں اپوزیشن کو نظر انداز کیاگیا تو معاملہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا، اتفاق رائے سے کمیشن اس طرز پر بنایا جائے کہ وہ مستقبل کے راہ عمل کا تعین کرسکے ، وزیراعظم کے بیان پر رد عملاسلام آباد 24 اپریل 2016ء(  جعفریہ پریس  ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے حکومت کی جانب سے پانامالیکس کی تحقیقات کےلئے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ حزب اختلاف کی آراءکو بھی مدنظر رکھا جائے، معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کےلئے کمیشن کے ٹی او آرز کے حوالے سے اپوزیشن کو نظر انداز کیاگیا تو یہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا، فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دینے کےلئے اب عملی اقدامات بھی اٹھانا ہونگے۔    ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ یہ خوش آئند ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں کمیشن کا فیصلہ حکومت نے کیا اور اس سلسلے میں وزیراعظم نے باضابطہ خط بھی لکھا کیونکہ عدلیہ ہی اس کام کو بہتر انداز میں انجام دے سکتی ہے لیکن محترم چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن اس وقت موثر ثابت ہوگا جب ملک کی اکثریت میں اتفاق رائے پیدا ہوجائےگا اور حکومت اپوزیشن کو اس معاملے پر قائل کرنے میں مکمل کامیاب ہوجائےگی۔   علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے پر مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حزب اختلاف کی آراءپر غور کرے اور کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کے حوالے سے اپوزیشن کی آراءشامل کرتے ہوئے انہیں اعتماد میں لے تاکہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے آگے بڑھے اور مستقبل کا لائحہ عمل تجویز کرے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر معاملے پر اتفاق رائے قائم نہ کیاگیا تو پھر مسائل بڑھتے جائیںگے اور اس نظر اندازی کے باعث کمیشن کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہونگے۔ ہمیں اب ایسا طریقہ کار وضع کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سیکنڈلز سے ہمیشہ کےلئے جان چھوٹ سکے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک پاکستان فلاحی ریاست کے تصور کے ساتھ ابھرا تھا جوشائد اب دھندلا چکاہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور اگر ملک کے وسیع تر مفا د میں اس معاملے پرکثرت رائے قائم کرلی جائے تو فلاحی ریاست کا تصور عملی شکل اختیار کرلے گاجس سے ملک کا مستقبل تابناک اور روشن ہوجائےگا۔