تازه خبریں

شیعہ قومی پلیٹ فارم کی سیاسی فعالیت پر اجمالی نظر ۔ امداد علی گھلو

تحریک جعفریہ،  شیعیان پاکستان کی ایک بہت بڑی جماعت ہےاس جماعت نے یوم تاسیس سے لے کر اب تک  شیعیان پاکستان کے حقوق کےدفاع  کے لئے بہت ساری خدمات انجام دی ہیں ۔ سیاسی ،اجتماعی، ثقافتی ،فلاحی ،علمی اور مکتبی میدانوں میں فعالیت کی ہے۔اس تحریر میں ہم نے فقط تحریک کی سیاسی فعالیت کو بیان کیا ہے ۔سیاسی امور تو بہت زیادہ ہیں لیکن یہاں پر ہم نے زیادہ فوکس انتخابات کو کیا ہے۔ واضح رہے کہ تحریک جعفریہ بین ہونے کے بعد سے اسلامی تحریک ،شیعہ علماء کونسل اور دفترقائد ملت جعفریہ پاکستان  کے عناوین سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔ہم نے اپنے ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اسی موضوع پر  روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا  مختصر مگر جامع کام ہے جو بعد میں آنے والے محققین کیلئے پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کا پیغمبراعظمﷺ کے دور میں اور اس کے بعد اسلام کے استحکام اور اس کی نشرواشاعت کے لئے ہر دور کے تقاضوں کے مطابق بھرپور کردار ادا  کرنا اور پھر بعد میں مسند خلافت پر بیٹھنا”اسلامی سیاست” کا ناقابل فراموش باب ہے سیاست کو مذہب سے جدا سمجھنے والے احباب اور پاکستان میں “سیاست” کو منفی و لچر قسم کا مفہوم دینے والے حضرات کے لئے “سیاست علوی” بھر پور جواب فراہم کرتی ہے۔حیدر کرارؑ کے پاکیزہ نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان میں تشیع کے حقوق کے لئے تشکیل پانے والی پاکستان کی شیعہ آبادی کی واحد نمائندہ اور وسیع جماعت “تحریک جعفریہ” تھی جو سازشوں  کی وجہ سے ممنوع قرار دی گئی اور “اسلامی تحریک” کی صورت میں آنے کے بعد ایک بار پھر ظلم کا شکار ہوئی اور ممنوع قرار دی گئی ۔سید الشہدا کے راستے پر چلتے ہوئے فقط “حکومت” کا حصول کبھی بھی تحریک جعفریہ کا ہدف نہیں رہا ہے بلکہ حکومتی ایوانوں اور قانون ساز اداروں تک پہنچنا تشیع کے حقوق کا ایک وسیلہ ہے۔ مدارس، مجالس اور جلوس عزا اسی وقت قائم رہ سکتے ہیں  جب انہیں قانونی تحفظ حاصل ہو اورقانونی تحفظ قانون ساز اداروں تک پہنچے بغیر نہیں ہو سکتا اور ان تک پہنچنا بغیر سیاسی  عمل کے ممکن نہیں؛ لہذا قائد شہید اور ان کے جانشین قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی اسی راہ پر سرگرم عمل تھے اور ہیں۔

   مارشل لاء دور سے “ایم آر ڈی” کی تحریک میں شمولیت ہی تحریک جعفریہ کی سیاسی زندگی کا نقطہ آغاز ہے۔ قائد مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین نے محسوس کیا کہ جب تک جمہوریت کی بحالی نہیں ہو گی تب تک مذہبی حقوق کا تحفظ بھی ممکن نہیں۔ پھر انہوں نے اپنے آخری انٹرویو میں بحالیِ جمہوریت کی  تحریک ایم ۔آر۔ ڈی  کی حمایت  کااعلان کیا۔ بستر علالت پر  “روزنامہ جنگ “لاہور کو قائد  مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین نے ایک انٹرویو دیا۔ یہ انٹر ویو مرحوم قائد کی دور رس سیاسی بصیرت کا ثبوت بھی ہے اور تحریک کے آئندہ اقدامات کیلئے ایک لائحہ عمل بھی تھا۔

روز نامہ جنگ نے لکھا  :

  ” تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قائد علامہ مفتی جعفر حسین نے کہا ہے کہ ایم۔ آر۔ ڈی پنجاب کے لیڈر راؤ عبدالرشید سے ان کی ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے جمہوریت کی بحالی کیلئے انہیں اپنے تعاون اور امداد کا یقین دلایا تھا۔”

” گجرانوالہ میں اپنے مکان پر “جنگ” سےایک خصوصی ملاقات میں انہوں نے کہا کہ مسٹر خاقان بابر نے اس ضمن میں جو بیان دیا ہے میں اس کی تردید کرتا ہوں ۔ انہوں نے بیان دے کر زیادتی کی ہے”۔

“اس سوال کے جواب میں کہ آیا راؤعبدالرشید سے آپکی گفتگو ایم ۔آر۔ڈی کے حوالے سے ہوئی تھی۔ مفتی جعفر حسین نے کہا کہ خاص تو کوئی بات نہیں ہوئی تھی لیکن جمہوریت کی بحالی اور مارشل لاء کے خاتمہ کی بات ہوئی تھی اور میں نے کہا تھا کہ ہم ہر اس جماعت کی حمایت کریں گے جو ملک میں جمہوریت کیلئے کام کرے۔میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ شیعہ فرقہ کی طرف سے ۱۴ اگست کی تحریک میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بحالی کیلئے کی جانے والی ہر جدوجہد کو ہماری حمایت حاصل ہے”۔

” ایک اور سوال کے جواب میں مفتی جعفر حسین نے کہا کہ اسلام میں مارشل لاء کی کوئی گنجائش نہیں اور جو حکومت اسلامی نہیں اس کے اقدامات کس طرح  اسلامی ہو سکتے ہیں۔”

“ایرانی انقلاب کے بارے میں مفتی صاحب نے کہا کہ یہ انقلاب اسلام کے نام پر آیا ہے۔اگرچہ عرب ریاستیں اسے شیعہ انقلاب  کہتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ یہ اسلامی انقلاب نہیں ہے ۔ انہوں نے اس الزام کو بھی غلط قرار دیا کہ ایران یا اس کے کسی اہلکار کی طرف سے پاکستان کی داخلی صورتحال میں کوئی مداخلت ہوئی ہے۔افغان مہاجرین کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں پناہ دینا تو ہمارا فرض تھا۔لیکن انہیں پاکستان کی سیاست امریکہ کی جانب نظر آتا ہے اور حکومت بھی اس سے انکار نہیں کرتی۔”

۱۴ اگست کوصدر ضیاءالحق کے مجوزہ اعلان کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ۱۹۷۳ ء کے آئین کو قائم رہنا چاہیے اور کسی نئے ڈھانچے کی ضرورت نہیں۔جب ایک متفق علیہ دستور موجود ہے، جسے چاروں صوبو ں کے نمائندوں نے بنایا ہے تو اس کی موجودگی میں کسی اور ڈھانچے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نےکہا ۱۹۵۶ ءکے آئین میں فرقہ وارانہ جذبات کے احترام کا زیادہ اہتمام تھا لیکن ۱۹۷۳ ء کے آئین کو قائم رکھنا چاہیے۔انہوں نے فقہی اختلاف کو ایک حقیقت تسلیم کرتے ہوئے کہا اتحادواتفاق قائم کرنا چاہیے۔ مذہبی اختلاف کو نفرت کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔یہ نہ دیکھا جائے کہ یہ شیعہ ہے یا سنی ہے بلکہ دوسرے کی فقہ کو برداشت کیا جائے۔ تعمیری باتوں کے علاوہ معاشی ومعاشرتی انصاف کی طرف توجہ دی جانی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ معیشت کو سُود سے پاک  نہیں کیا جاسکا۔نفع نقصان کی بنیاد پر جو کھاتے شروع کیے گئے ہیں یہ بھی کچھ نہیں ہیں ۔سودی کروبار چل رہا ہے۔اسلام نے عدل و احسان کا تصور دیا ہے ہمارے خیال میں اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔”

” مفتی صاحب نے کہا قیام پاکستان کے بعد جتنی شکایات ہمیں اس حکومت سے پیدا ہوئی ہیں اور کسی حکومت سے نہیں ہوئیں۔ اگرچہ یہ حکومت عادل ہوتی تو ہمیں شکایات پیدا نہ ہوتیں۔﴿ روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۱۰ جولائی ۱۹۸۳ ء و غضنفر علی کاظمی ،مفتی جعفر حسین مرحوم  صفحہ ۵﴾

جنرل ضیاءالحق نے جب ریفرنڈم کی حتمی تاریخ ۱۹ دسمبر ۱۹۸۴ء کااعلان کیا تو تمام جماعتوں سے پہلے تحریک  نفاذ فقہ جفریہ نے وزنی دلائل کے ساتھ ریفرنڈم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور نشرواشاعت کے ذریعے ریفرنڈم کو رد کرنے کیلئے قوم سے اپیل کی۔ ﴿سفیر نور، صفحہ ۱۲۱ ﴾

بین الاقوامی سطح پر ضیاء الحق کے صدارتی ریفرنڈم کا پول بی بی سی نے یوں کھولا :

 “پاکستان کی عوام نے صدارتی ریفرنڈم کا مکمل بائیکاٹ کردیا اور بمشکل پانچ فیصد عوام نے ووٹ ڈالے”۔ ﴿ایضاً ص۱۲۲ ﴾

اگرچہ ایم۔آر۔ڈی کے اراکین نے بھی ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا مگر سب سے موثر اور توانا آواز علامہ شہید عارف حسین الحسینی کی تھی جس کااعتراف  خود ایم ۔آر۔ڈی کے رہنماؤں نے کیا تھا۔ ﴿ایضاً ﴾

قائد شہید نے ایک کانفرنس میں واضح فرمایا :

“ہم نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ملک کی دوسری جماعتوں سے رابطے کر کے آمریت کے خاتمے کیلئے لائحہ عمل تیار کرے گی”۔﴿ ایضاً﴾

اس سیاسی کمیٹی کے سیاسی امور میں مداخلت کے اعلان کے بعد علامہ سید عارف حسین الحسینی نے ملک گیر دورہ جات میں دین اور سیاست کے تعلق پرزور دیا اور اپنی قوم کو سیاست کی اہمیت کا احساس دلوایا۔آپ نے اس سلسلہ میں رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ کے مقام پر ایک اجتماع سے یوں فرمایا کہ:

“ہمارے دو قسم کے مسائل ہیں ایک شیعہ اور دوسرا پاکستان ہونے کے حوالے سے۔ اگر ہم نے مذہبی مسائل کو سیاسی مسائل سے ہٹ کر حل کرنا چاہا تو نتائج قطعاً مثبت نہیں نکلیں گے، چاہے ہم کچھ بھی کرلیں۔ کیونکہ یہ مسائل ایک دوسرے پراثر انداز ہوتے ہیں ۔ اگر ہم مسلکی سیاست اور بین الاقوامی امور میں اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے الگ تھلگ کر لیں تو یہ نہ صرف شرعی ذمہ داری سے انحراف ہو گا بلکہ یہ اسلام اور قرآن سے روگردانی ہو گی۔ اگر ہم نے سیاسی مسائل کو مذہبی مسائل سے دور ہو کر سوچا تو اس کے نتائج بھی بھیانک  ہوں گے۔لہذا دین اور سیاست کا ربط انتہائی گہرا ہے اور ہمیں ان دونوں کوساتھ لے کر چلنا ہو گا”۔﴿ایضاً ۱۲۶﴾

 اسی ضرورت کے پیش نظر  قائد شہید نے “قرآن وسنت کانفرنس “لاہورمیں برملااعلان کیاتھاکہ اب تحریک نفاذفقہ جعفریہ ملک کے مجبور ومحکوم مسلمانوں کے اجتماعی حقوق کی بحالی کے ساتھ ساتھ ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لئے جدوجہدکی راہ اختیار کرے گی” اس لئے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اسلامی ریاست میں رہنے کے ناطے سے ہمارا اولین فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو”قرآن وسنت “کی واضح ہدایات کے مطابق استوار کریں اورمملکت خدادادپاکستان کوباطل سامراجی نظریات سے نجات دلائیں آج ہمارے وطن عزیز میں امریکہ اورمغربی دنیا کا اثرورسوخ اتنا سنگین ہوچکاہے کہ ہمارے صاحبان اقتدارہرمعمولی سے معمولی مسئلے پربھی امریکی منشا کوملحوظ خاطررکھے بغیرقدم نہیں اٹھا سکتے،لہذا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تقدیرکے فیصلے وائٹ ہاؤس کے بجائے اسلام آباد میں ہی ہونے چاہئیں اسی طرح پاکستان کے ایوان (پارلیمنٹ) میں آج تک کوئی ایساشیعہ رکن نہیں پہنچاجوپارلیمنٹ کے اندرشیعہ مکتب کی ترجمانی کرسکے اور ملت جعفریہ کے حقوق کی نگہبانی کرتے ہوئے ملک کے تمام سیاسی ،اقتصادی ،معاشی اورمعاشرتی مسائل پرشیعہ نکتہ نظرکوپیش کرے۔

  جہاں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنے قومی حقوق کی محافظت کی وہاں قائدشہید کے عظیم اہداف اورتحریک کے منشور کی روشنی میں که اب ہمیں شہری حقوق اورمذہبی آزادی کے حصول کے لئے سیاست میں آنا پڑے گااوراس سیاسی آوازکی ترجمانی کے لئے ایوان بالا میں ہمارے ترجمان نمائندگان کاوجودتحریک جعفریہ کی اہم ضرورت ہے قائدشہید کے اس عظیم مقصداورہدف کو حاصل کرنے کے لئے وقت کی ضرورت ،سیاسی تقاضوں اورحالات کے مطابق مختلف اندازمیں کوششیں کیں اورآج تک اس راہ کے راہی ہیں ۔

ان حالات میں جب معاشرے کی عمومی سوچ یه ہوکہ سیاست میں حصہ لینا اورسیاسی امیدوار بننا فقط دنیوی لوگوں کوہی زیب دیتا ہے اس لئے کہ پاکستان کے اس ماحول میں دیندارتو جیت ہی نہیں سکتااوراگرجیت بھی جائے تواسے سیاست کرناہی نہیں آئے گی اسی طرح کچھ سیاسی امیدواربھی یہی سمجھتے ہوں کہ مذہبی امیدواربننے سے ہم نہ ادھرکے رہیں گے اورنہ ادھرکے بلکہ مولویوں کے بقول کہ دین بھی گیا توآخرت بھی گئی والی مثال بن جائے گی اوروقت کے سیاسی ڈکٹیٹربھی اطمینان سے کہیں کہ شیعوں کے ووٹ توہماری جیب میں ہیں تواس صورتحال میں سیاسی میدان اور الیکشن میں حصہ لینے کے لئے کربلاوالوں کی سیرت پرعمل کرتے ہوئے عزم راسخ اوربلندہمت کی ضرورت تھی ۔

قائدملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی جو کہ بہت ہی ذہین ،دوراندیش اور اجتماعی ذہنیت کے مالک ہیں تحریک جعفریہ کی قیادت سنبھا لتے ہی اپنے قائدین کی سیاسی پالیسیوں اوروقت کی اہم ضرورت کے مطابق ، قومی وملی خدمات کے اس سفر کے آغاز میں ہی ملکی سیاست میں عملی طورپر حصہ لینے کا اعلان کردیا ۔

جس کے نتیجہ میں نومبر ١٩٨٨ ء کو جب عام انتخابات کااعلان ہوا توقائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنے قومی پلیٹ فارم سے انتخابات میں مشارکت کااعلان کیا جبکہ ایک طرف سے شریعت بل کامسئلہ بھی اپنی جگہ پرباقی تھا تو دوسری طرف سے اتنے بڑے سیاسی قدم اٹھانے کے لئے مکمل طورپرقومی تیاری بھی نہ تھی ان تمام مسائل ومشکلات کے باوجود قائدشہید کے فرمان اورتحریک کے اعلان شدہ منشورپرعمل کرتے ہوئے حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی نے “تختی” کے انتخابی نشان پرتحریک جعفریہ کے اپنے ذاتی تشخص کے ساتھ شیعہ ووٹ کاسٹ کرانے کا اعلان کیا۔

اس موقع پرتحریک کے سرکردہ رہنماشہید ڈاکٹر محمدعلی نقوی نے فرمایا:

“انتخابات میں کامیابی اپنی جگہ مہم ہے لیکن اس سے بڑھ کر اہمیت کی بات یہ ہے کہ برصغیر کے کسی ملک میں پہلی بار شیعہ جماعت انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اوریہ سیاسی ا قدام ہماری آئندہ کی سیاست پراثراندازہوگا ” ۔ ﴿ تسلیم رضا خان ، سفیر  انقلاب صفحہ ۱۴۴ ،اشاعت اول ۱۹۹۶ ء ﴾

اگرچہ معروضی حالات کے پیش نظرہمیں اس الیکشن میں بظاہروہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی مگراس وقت کے حالات کونظرمیں رکھا جائے توحقیقت میں تحریک جعفریہ اپنے ہدف میں کامیاب ٹھہری کیونکہ اس وقت قومی قیادت اورتحریک کااصلی ہدف فقط یہ تھاکہ حکمرانوں کے سامنے ثابت کیاجائے کہ مکتب اہل بیت کے ماننے والے بھی اس ملک کے باسی ہیں اور یہ کہ نہ فقط شیعیان حیدرکرار اقلیت میں ہیں بلکہ ایک  مستقل قوم ہے جو ملک میں اپنا سیاسی و مذہبی کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

صدر غلام اسحاق خان نے آٹھویں ترمیم کی بنیادپراگست ١٩٩٠ء میں بینظیرحکومت کو ڈیزالو کرنے کے بعدجب تین ماہ کے اندر الیکشن کروانے کااعلان کیا تو (ppp)نے پیش آمدہ حالات کامقابلہ کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے بڑھائے اور بینظیر نے سب سے زیادہ اہمیت تحریک نفاذفقہ جعفریہ کودی یہاں تک کہ بینظیر نے کئی بارتحریک کے اکابرین کو (ppp) میں ضم ہونے کی دعوت دی ۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے حالات کاجائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اپنے رفقاء اورتحریک کے اکابرین کے ساتھ ضروری مشورہ کرنے کے بعد (ppp) کی سربراہی میں بننے والے(p.d.a) اتحادکے ساتھ شامل ہونے کااعلان کیاجس میں تحریک استقلال اور مسلم لیگ (قاسم گروپ) بھی شمولیت اختیارکرچکی تھی۔

  شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی  نے اپنے ایک انٹرویو میں اسی اتحاد کے بارے  کئے گئے ایک سوال کے جواب میں  فرمایا :

“ہم فرقہ کی سطح سے اٹھ کر  سیاست کی وسیع سطح پر پہنچے ہیں اور ملک کے بڑے سیاسی اتحاد میں اپنا تشخص بطور سیاسی جماعت پیش کیا ہے”۔﴿تسلیم رضا خان، سفیر انقلاب صفحہ ۱۴۸ ،اشاعت اول ۱۹۹۶ ﴾

اس سیاسی اتحادمیں شمولیت کے بعدقائدملت جعفریہ اورتحریک کے تمام کارکنان (p.d.a) کی ٹکٹ پرتمام امیدواروں کے لئے سرگرم عمل ہوگئے ۔ملکی پالیسی کے پیش نظر(p.d.a) کے مدمقابل “اسلامی جمہوری اتحاد”کوکامیاب قراردے دیاگیااوراس طرح سے نواز شریف ملک کے وزیراعظم بن کرسامنے آگئے ۔ ﴿تسلیم رضا خان ،سفیر انقلاب  صفحہ ۱۴۹ ﴾

۱۹۹۱ءمیں نواز حکومت نے مہتاب احمد خان کو کشمیر اور شمالی علاقہ جات کا وزیر مقرر کیا  ۔ اسی سال وہاں الیکشن کرانے کا علان بھی کر دیا ۔الیکشن کے ایام قریب ہی تھے کہ نواز حکومت کی طرف سے انتخاباتی حلقہ بندی میں بلاجواز تبدیلی کی گئی کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے امیدواروں کی کامیابی یقینی تھی تو  تحریک جعفریہ  شمالی علاقہ جات کے مسؤل علامہ مرحوم شیخ غلام محمد کے حکم پر عوام نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا اور نواز شریف حکومت کیلئے مشکلات پیدا کر دیں۔﴿محمد یوسف حسین آبادی،تاریخ بلتستان  صفحہ۳۰۵،تحریک جعفریہ پاکستان ۱۹۹۲ تا ۱۹۹۴ کارکردگی رپورٹ صفحہ ۷۹﴾

دوسال کے بعد نوازحکومت کی بھی چھٹی کرادی گئی اورملک کی سربراہی نگران حکومت کے حوالے کر دی گئی ۔تحریک جعفریہ کی صاف وشفاف اورملک میں امن پالیسی کی وجہ سے  منیرحسین گیلانی مسؤل سیاسی امور تحریک جعفریہ پنجاب   کو وزارت تعلیم سونپی گئی ۔﴿ سفیر انقلاب کے صفحہ ۱۴۹ پر اس بارے اشارہ ہوا ہے﴾

نومبر ۱۹۹۲ ء میں تحریک جعفریہ پاکستان نے تاریخی لانگ مارچ کیا جس کے نتیجے میں انتخابات ۹۳ ء کا انعقاد ممکن ہوا۔ جب محترمہ بینظیر بھٹو کوآنے والے انتخابات میں کامیابی کی یقین دہانی کرائی گئی تومحترمہ نے (p.d.a) سے علیحدگی کا اعلان کردیا جس کی وجہ سے تحریک جعفریہ نے بھی ۱۹۹۳ء کے قومی انتخابات میں لوکل ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے اپنے حمایت یافتہ امیدوارکامیاب کرانے کیلئے الیکشن پالیسی مرتب کی۔۱۹۹۳ کے انتخابات میں تحریک جعفریہ  کے صوبہ سرحد کے سیاسی سیل کے ممبر مخدوم زادہ  مرید کاظم صوبائی اسمبلی میں کامیاب ہوئے جو بعد میں صوبائی وزیر بنائے گئے۔ صوبہ پنجاب میں تین نشستوں پر پی پی پی کو شکست دی گئی اور  تحریک کے حمایت یافتہ تین  تین ممبران قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں پہنچے اور وہاں تحریک کا مؤقف پہنچاتے تھے۔ صوبہ بلوچستان میں تحریک کے تعاون سے محمود اچکزئی جیت گئے۔ ﴿تحریک جعفریہ پاکستان،۱۹۹۲ تا ۱۹۹۴ کارکردگی رپورٹ صفحہ ۲۵﴾

لیہ میں تحریک کے امید وار اللہ بخش سامٹیہ صوبائی اسمبلی کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

﴿ انٹرویو علامہ غضنفر علی حیدری آف لیہ ﴾

۱۹۹۴ء میں سینٹ کے انتخابات میں حصہ لے کرصوبہ سرحد سے ایک سینیٹر منتخب کرایا اوراس طرح سے تحریک جعفریہ کے قومی پلیٹ فارم پر  علامہ جواد ہادی صاحب پاکستان کی تاریخ میں پہلے شیعہ عالم دین جوعمامہ،عباوقباکے ساتھ روحانی وعالمانہ لباس میں ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے۔﴿ایضاً کارکردگی رپورٹ  صفحہ ۲۷﴾

ایوان بالا میں فرقہ واریت کے خلاف سینٹ کے ۵۲ ویں اجلاس میں “تحریک التوا ” پیش کی اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے جو حکمت عملی اختیار کی گئی اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوتا ہے کہ تحریک کی جامع اور بھر پور لابنگ کی بدولت یہ “تحریک التواء” آؤٹ آف ٹرن ایوان میں زیر بحث لانے کیلئے منظور کی گئی۔ ﴿ایضاً صفحہ ۳۳ ﴾

۶ مئی ۱۹۹۴ ء کو صوبہ سرحد میں ایک صوبائی نشست پی ایف ۲۹ پر ضمنی الیکشن کاجب اعلان ہوا تو ٹی جے پی کی مخالفت کی وجہ سے پی پی پی یہ ضمنی الیکشن ہار گئی او ر ٹی جے پی کے خلاف زبردست غم و غصے کا اظہار کیا۔ ﴿ علامہ سید جواد ہادی  سابق سنیٹر ، مقالہ ،پی پی پی اور ٹی جے پی کے تعلقات کا اجمالی جائزہ ، مجلہ تحریک ، دسمبر ۱۹۹۵ ء صفحہ ۲۳ ﴾

تحریک جعفریہ پاکستان نے شمالی علاقہ جات میں آئینی حقوق کی بحالی اور خطے کے عوام کے احساس محرومی کے خاتمے کیلئے طویل جدوجہد کی چنانچہ انہی کوششوں کے نتیجے میں  نگران وزیر اعظم معین قریشی کی جانب سے ان علاقوں میں آئینی اصلاحات کا ایک  سیاسی پیکیج سامنے آیا۔

 جب  پی پی پی کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو معمولی سے ردوبدل کے ساتھ اس پیکیج کے تحت شمالی علاقہ جات میں جماعتی بنیادوں پر  الیکشن کرانے کا اعلان کیاجس کے تحت ۲۵ اکتوبر ۱۹۹۴ ء کو ۲۴ نشستوں کیلئے عام انتخابات کا فیصلہ ہوا۔﴿ایضاً   و تحریک جعفریہ پاکستان ۱۹۹۲ تا ۱۹۹۴ کارکردگی رپورٹ صفحہ ۱۷ و ۷۹﴾

 قائدملت جعفریہ کے حکم پر تحریک جعفریہ نے انتخابات میں بھرپورحصہ لینے کااعلان کردیا اوراپنا انتخابی نشان “پھول”  متعارف کرایا ۔اس طرح شمالی علاقہ جات میں پہلی بارپی پی پی،مسلم لیگ اورتحریک جعفریہ کا سخت سیاسی مقابلہ دکھائی دینے لگاجب شمالی علاقہ جات میں الیکشن ورک کے لئے خودقائدملت جعفریہ پہنچے توتحریک جعفریہ کے لئے وہ لحظات تاریخی لحظات تھے قائدملت کے اس طوفانی دورہ کے نتیجہ میں اکتوبر۱۹۹۴ء کے شمالی علاقہ جات کے انتخابات میں تحریک جعفریہ کی بھاری کامیابی نے تمام سیاسی پارٹیوں کوحیران کردیاکیونکہ رزلٹ کے مطابق ۲۴سیٹوں میں سے تحریک جعفریہ نے ۸سیٹیں حاصل کیں جبکہ پپلزپارٹی ۷، مسلم لیگ ۱  اورمختلف آزادامیدواروں نے ٨ سیٹیں حاصل کیں ۔

تحریک جعفریہ کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کے نام اس طرح سے ہیں:

۱۔سیدرضی الدین رضوی     حلقہ نمبر۱        گلگت

۲۔ڈاکٹرمحمداقبال          حلقہ نمبر۳        گلگت

۳۔شیخ غلام حیدر           حلقہ نمبر۴        نگر

۴۔میرشوکت علی خان      حلقہ نمبر۵        گلگت

۵۔پروفیسرغلام حسین سلیم  حلقہ نمبر۷        سکردو

۶۔سیدمحمدعباس رضوی     حلقہ نمبر۸        سکردو

۷۔صادق علی         حلقہ نمبر۱۰        روندو

۸۔حاج محمدحسین     حلقہ نمبر۱۲          شگر

اس بڑی کامیابی کی وجہ سے ہمارے دوکامیاب امیدواروں ”جناب پروفیسرغلام حسین سلیم اورسیدرضی الدین رضوی کو کا بینہ میں وزراء کا مشیر قراردیاگیا۔﴿ انٹرویو پروفیسر غلام حسین سلیم سابق مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل  تحریک جعفریہ پاکستان ؛ تاریخ بلتستان صفحہ ۳۸۸ ؛تحریک جعفریہ پاکستان ،۱۹۹۲ تا ۱۹۹۴ کارکردگی رپورٹ﴾

 تحریک نے ۲۵ نومبر ۱۹۹۴ ء میں “عظمت اسلام کانفرنس ” کا انعقاد مینار پاکستان لاہور پر کیا  ۔ میں نے علامہ سید افتخار حسین نقوی سابق مرکزی سیکرٹری جنرل تحریک جعفریہ پاکستان کا ایک خصوصی انٹرویو  تحریک جعفریہ کے موضوع پر کیا ہے۔ میں نے ان سے ایک سوال کیا کہ تحریک کو ” عظمت اسلام کانفرنس”  کے انعقاد کی کیوں ضرورت پیش آئی تو انہوں نے اپنے جواب میں کہا :

  “دہشت گردی   اور شیعہ مکتب فکر کو کافر قرار دینے کی بھونڈی سازشوں کا قلع قمع کرنے کیلئے ہم نے اس کانفرنس کا انعقاد کیا ۔اس کے علاوہ اپنی ملت کو متحرک کرنا ،اپنا وجود منوانا،تحریک کی سیاسی قوت کا اظہار ،اپنی موجودہ قیادت کا استحکام و تائید اور تحریک کے سیاسی افکار و نظریات کو بیان کرنا  جیسے امور ہمارے اہداف  کا حصہ تھے”۔

میں نے ان سے ایک اور  سوال کیا کہ   تحریک جعفریہ کی تاسیس سے لیکر اب تک تحریک کے جتنے بھی اجتماعات ہوئے ہیں ان میں سے سب سے بڑا اجتماع کونسا تھا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا : “عظمت اسلام کانفرنس”﴿ انٹر ویو علامہ سید افتخار حسین نقوی ۲۰۱۰ ء﴾

۱۹۹۷ء کے عام انتخابات میں تنظیم کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ سیاسی الحاق کرکے انتخابی نشان شیرکے  تحت انتخابات میں حصہ لیا۔اس انتخابات میں دیگرفتوحات کے علاوہ عظیم کامیابی یہ تھی کہ جھنگ کے حلقہ سے فرقہ پرستوں کے سرغنہ اعظم طارق کوبری شکست دے کراپنے امیدوار  جناب امان اللہ سیال کو کامیاب کرایااس الیکشن میں تحریک جعفریہ کے الحاق واشتراک کی وجہ سے مسلم لیگ کو بھی تاریخی اوربھاری مینڈیٹ ملا۔۱۹۹۸ء میں ایک بارپھرفاٹاسے ایک اورعالم دین علامہ عابدحسین الحسینی کواسی روحانی وعالمانہ لباس میں سینٹ کا رکن منتخب کرایا جس کے نتیجہ میں تحریک جعفریہ کی نمائندگی میں دوشیعہ عالم ایوان بالا کے رکن بنے ۔ ﴿دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان ، رپورٹ ، نگاہی گزرا بر شخصیت نمائندہ ولی فقیہ و رہبر شیعیان پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی، مشاہدات ﴾

 آزاد کشمیر کے انتخابات میں “مسلم کانفرنس” سے اتحاد کر کے سیاسی میدان میں بھر پور کردار ادا کیا۔ ﴿شعبہ نشرواشاعت ،تحریک جعفریہ پاکستان ، تعارف، کارکردگی ،وضاحت صفحہ ۱۰﴾

  ۱۹۹۹ ء کوشمالی علاقہ جات میں انتخابات کااعلان ہواتوتحریک جعفریہ نے  ایک بارپھر بھرپور اندازسے انتخابات میں حصہ لینے کااعلان کردیا جس کے  نتیجہ میں تحریک جعفریہ کے مندرجہ ذیل امیدوارکامیاب ہوئے:
۱۔سیدمحمدعباس رضوی سکردو

۲۔عمران ندیم شگر

۳۔سید محمد علی شاہ کھرمنگ

۴۔دیدار علی گلگت

۵۔غلام رضا  گلگت ﴿انٹرویو پروفیسر غلام حسین سلیم ، تاریخ بلتستان صفحہ ۳۸۸﴾

۲۰۰۰ء میں ڈپٹی چیف ایگزیکٹو کی سیٹ کے لئے تحریک جعفریہ کے بلامقابلہ امیدوارحاج فدامحمدناشادجیت کرءشمالی علاقہ جات  کےڈپٹی چیف ایگزیکٹو منتخب ہوئے ۔ ﴿تاریخ بلتستان صفحہ ۳۱۴ ﴾

۲۰۰۱ء میں شمالی علاقہ جات کی صوبائی کابینہ کے لئے تحریک جعفریہ کے پلیٹ فارم سے جناب  علامہ شیخ غلام حیدراورعمران ندیم کوکابینہ میں بعنوان مشیر وزیرانتخاب کیاگیا۔ ﴿ایضاً ۳۱۵ ﴾

اس طرح سے مختلف انتخابات کے مواقع پر قائدشہیدکے خوابوں کوشرمندہ تعبیرکرتے ہوئے قائدملت کی طرف سے ٹکٹ حاصل کرنے والے نمائندگان ایوان بالا تک پہنچے یہاں تک کہ قائدملت جعفریہ کی تدبیر کے نتیجہ میں شمالی علاقہ جات میں تحریک جعفریہ کے منتخب نمائندگان کوحکومتی اختیارات بھی ملے۔

۲۰۰۲ ء کے انتخابات میں دینی ومذہبی جماعتوں سے (اسلامی تحریک کے عنوان سے) اتحاد کے نتیجہ میں “متحدہ مجلس عمل” کوبھاری اکثریت سے ووٹ ملے جس کے نتیجہ میں مکمل طورپرسرحدصوبے میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہوئی تو تحریک کے  تین صوبائی امیدوار کامیاب ہوئے اور ایک خاتون کو  قومی اسمبلی میں نشست ملی علامہ رمضان توقیرصاحب سرحدحکومت میں مشیروزیراعلیٰ کی ذمہ داری انجام دیتے رہے صوبہ سرحد کے علاوہ بقیہ صوبائی حکومتوں میں بھی متحدہ مجلس عمل کی بڑی حیثیت تھی اوراس طرح سے متحدہ کی کامیابی میں اسلامی تحریک کابہت بڑاعمل دخل تھا۔ ﴿علامہ سید ساجد علی نقوی ، شیعیان و چالش ھای پیش رو در پاکستان ،فصل نامہ شیعہ شناسی،سال سوم شمارہ ۱۰ ،تابستان ۱۳۸۴ صفحہ ۲۱۸۔۲۱۹  و انٹرویو ز علامہ سید سجاد حسین کاظمی ،سردار کاظم علی حیدری ۲۰۱۰ ء﴾

۲۰۰۷ ء میں متحدہ  مجلس عمل میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام﴿ ف﴾ کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ۔اور اسی سال محترمہ بینظیر بھٹو کا بھی قتل ہوا چند ماہ بعد الیکشن کا اعلان ہوا تو جماعت اسلامی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جبکہ ایم ایم اے میں شریک باقی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لیا ۔ایم ایم اے کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کیلئے امیدواروں کو دستخطوں کی ضرورت پڑی تو قائد ملت جعفریہ نے قائم مقام صدر ہونے کی حیثیت سے ان کے الیکشن  فارمز پر دستخط کئے۔ اس الیکشن میں ایم ایم اے  پہلے کی طرح تو کامیاب نہ ہوسکی لیکن پھر بھی کسی حد کامیاب ہوئی اور سرحد صوبائی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں میں سے ایک  نشست تحریک کے حصے میں بھی آئی ۔  ﴿انٹر ویوز  علامہ سید عبدالجلیل نقوی، علامہ سید سجاد حسین کاظمی﴾

پی پی پی حکومت نے شمالی علاقہ جات کو گلگت و بلتستان کے نام سے صوبہ نما بنانے کے بعد ۱۲ نومبر ۲۰۰۹ ء کو وہاں پر انتخابات کرانے کا علان کر دیا  ۔اس موقع پر تحریک پر پابندی تھی جس کے نتیجے میں تحریک ایک جماعت کے طور پر الیکشن میں حصہ نہ لے سکی لیکن تحریک کے تین رہنماؤں  نے آزاد امید وار کے طور پر الیکشن میں حصہ لیا ؛الیکشن سے چند روز قبل علامہ شیخ غلام حیدر  کہ جن کی کامیابی حتمی تھی  کا دار فانی سے دار بقا کی جانب انتقال ہو گیا۔ اور باقی دو امیدوار  سید رضی الدین رضوی اور جناب دیدار علی صاحب  کامیاب  ہوئے۔﴿ قم المقدسہ ،انٹرویو علامہ شبیر صابری نمائندہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی ؛  مشاہدات ﴾   بعد میں  جناب دیدار علی صاحب کو پانی وبجلی کی وزارت ملی  جبکہ آزادکشمیر میں اسلامی تحریک  پاکستان کے غلام رضا کو وزیراعظم کاایڈوائزر بنایا گیا۔

الیکشن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی ۸ جون ۲۰۱۵ءکے اہم نکات:

۱۳سال بعد انتخابات میں وارد ہوئے۔

وزارت داخلہ گلگت بلتستان کی جانب سے اسلامی تحریک پاکستان کے انتخابات میں حصہ لینے پر مختلف جہتوں سے مسلسل میڈیا ٹرائل اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

وزارت داخلہ گلگت بلتستان  نے میڈیا کو اسلامی تحریک پاکستان کی تشہیر سے باز رکھنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔

اسلامی تحریک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان میں دائرپٹیشن پر چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نے اسلامی تحریک پاکستان کو الیکشن میں حصہ لینے کا حکم صادر کر دیا۔

چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کے اسلامی تحریک پاکستان کے الیکشن میں حصہ لینے کے فیصلے کے باوجود میڈیا نے آخروقت تک مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے انتخابی مہم کی کوریج نہ کی۔

بلاجواز پابندی کے خاتمے،رائے عامہ ہموار کرنے اور ووٹرز تک پہنچنے میں کافی وقت صَرف ہوا جس کی وجہ سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے پڑے۔

چند سیٹوں پر امام جمعہ گلگت کی تجویز اور فرقہ پرستی کے خاتمے کے لئے انتخابات سے دستبردار ہوئے۔

چند اور سیٹوں پر امام جمعہ اسکردو اورمقامی حالات کی اصلاح کے لئے دستبردار ہوئے۔

مستقل ۴سیٹوں پر انتخاب لڑا،۲پر جیتے ۲پرہارے۔

اس کے علاوہ تحریک کے انفرادی حمایت یافتہ پانچ امیدواروں میں سے تین امیدوار کامیاب ہوئے جن میں سے سابقہ دور میں ایک (فدامحمدناشاد)تحریک جعفریہ کی طرف  سےڈپٹی چیف ایگزیکٹو(جسے اب وزیراعلیٰ کہا جاتا ہے)اور ایک (عمران ندیم)مشیر رہے تیسرے امیدوار بھی اسی نوعیت کے ہیں۔(اسلامی تحریک پاکستان،رپورٹ،الیکشن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی۸جون۲۰۱۵ء)

مذکورہ اقدام پرالزام تراشی:

اسلامی تحریک پاکستان نے تین پی پی پی(دو شیعہ اور ایک سنی) اور دو مسلم لیگ ن(دونوں شیعہ) کے امیدواروں کی انفرادی حمایت کی ہے نہ کہ کسی جماعت کے ساتھ اتحاد کیا ہے لیکن پھر بھی مخالف ٹولہ نے مسلم لیگ ن کو سپورٹ کرنے کا شورمچایا ہے۔

اسلامی تحریک پاکستان نےقانون کی حدود میں رہتے ہوئے انتخابی مہم پر انتہائی مناسب اخراجات کئے۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا طوفانی انتخابی دورہ گلگت بلتستان بے مثال اور بھر پوررہا، عظیم الشان استقبال اور جلسوں کا انعقادہوا،اس کے باوجود میڈیا نے نظرانداز کرتے ہوئے کسی قسم کی کوریج نہ دی۔

الیکشن کے بعدگلگت بلتستان کے اخبارات کی تجزیاتی رپورٹس کے نمایاں نکات:

تمام مذہبی اور سیاسی تنظیمیں نفرت،تعصب اور فرقہ واریت پھیلاتی رہیں جبکہ علامہ سید ساجد علی نقوی اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینےمیں مصروف رہے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے گلگت بلتستان میں اپنے انتخابی دورے کے دوران کسی بھی جماعت پرتنقید اور الزام تراشی کی سیاست سے گریز کیا جس کی وجہ سے تمام حلقوں میں بھرپور مثبت تاثرقائم کرنے میں کامیاب رہے یوں اسلامی تحریک پاکستان نے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی بہترین حکمت عملی سے بڑی کامیابی حاصل کی اور تجزیہ نگاروں کے دعوؤں کو غلط ثابت کردیا۔

اسلامی تحریک نےچارامیدوار کھڑے کئے جس میں سے دوکامیاب ہوگئے یہ اس کی بڑی کامیابی ہے الیکشن کے دوران اسلامی تحریک نے الزام تراشی کی سیاست سے گریزکیااسلامی تحریک پاکستان کی سیاست اور احترام پر مبنی پالیسی کوگلگت بلتستان کی تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے علاوہ عوام نے بھی بےحدسراہا۔ (روزنامہK2۱۰جون ۲۰۱۵)

خواتین کی مخصوص نشستوں میں سے ایک اور ایک ٹیکنوکریٹ کی کل دو سیٹیں تحریک کے حصہ میں آئیں اور یوں اسلامی تحریک پاکستان  دوجنرل سیٹوں سمیت چار سیٹوں کے ساتھ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت کے طور پرابھر کر سامنے آئی۔( روزنامہ رہبر، روزنامہK2،روزنامہ بادِشمال،۲۴جون۲۰۱۵)

اسلامی تحریک پاکستان کےکامیاب امیدواروں کے اسماء درج ذیل ہیں:

۱۔ محمد علی حیدر شیخ

۲۔کیپٹن(ر)سکندر علی

۳۔کیپٹن(ر)محمد شفیع(ٹیکنو کریٹ)

۴۔محترمہ ریحانہ عبادی

گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ  اوراپوزیشن لیڈر کے انتخاب کا مرحلہ:

عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ الیکشن کے بعد حکومت سازی اور اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کا مرحلہ ہوتا ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی میں یہ مرحلہ کیسے ہوا اس پر بات کرنے سے پہلے ۳۳سیٹوں پر مشتمل اسمبلی کی پارٹی پوزیشن واضح کر دیں:

پاکستان مسلم لیگ  ن: 22 سیٹیں لے کر پہلے نمبر پر

اسلامی تحریک پاکستان: 4 سیٹیں لے کر دوسرے نمبرپر

مجلس وحدت مسلمین: 3 سیٹیں لے کر تیسرے نمبر پر

پیپلز پارٹی: ایک سیٹ؛ جمعیت علمائے اسلام (ف):ایک سیٹ ؛  تحریک انصاف :ایک سیٹ اور جب کہ ایک آزاد امیدوار بھی ہے۔اب آتے ہیں حکومت واپوزیشن سازی کی طرف:

پاکستان مسلم لیگ ن کے علاوہ باقی تمام جماعتوں نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا اس لئے اسمبلی میں بھاری اکثرت کی وجہ سے اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر،اور وزیر اعلٰی کے عہدوں پر مسلم لیگ ن کا حق بنتا تھا لیکن اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا کہ جس کے مطابق تحریک انصاف کے راجہ جہانزیب خان اسپیکراور مجلس وحدت  مسلمین کے کاچوامتیاز ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن لڑیں گے۔(روزنامہ باد ِشمال؛روزنامہK2، ۲۵جون۲۰۱۵) لیکن عین انتخاب کے وقت دونوں امیدوارں نے متحدہ اپوزیشن کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے امیدوارں کے حق میں  اپنےنام واپس لے لئے توپھرعبوری اسپیکر وزیر بیگ نےفدامحمدناشاد اورجعفراللہ کے بلا مقابلہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکرمنتخب ہونے کا اعلان کیا۔(روزنامہ بادِ شمال؛ روزنامہK2؛روزنامہ رہبر۲۶جون۲۰۱۵) اسی نوعیت پر  متحدہ اپوزیشن کے ذریعہ وزیراعلیٰ کےانتخاب لڑنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا لیکن سابقہ روش کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لیا جس کے نتیجہ میں حفیظ الرحمن بلا مقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ۔  (روزنامہK2،۲۷جون۲۰۱۵)

تبصرہ:جو افراد  جھوٹ بول کر کہتے رہے کہ اسلامی تحریک پاکستان  تویزیدی پارٹی( مسلم لیگ ن) کی اتحادی  ہے؛یہاں پرسوال پیدا ہوتا ہے  کہ ان کے امیدوار پھریزیدی پارٹی کے حق میں دستبردارکیوں ہوئے؟!

اسمبلی کے اپوزیشن ارکان  کا مذہبی تناسب ملاحظہ ہو:

شیعہ ارکان : 8

بریلوی ارکان : 2

دیوبندی رکن: 1

اب ملت جعفریہ  خود اندازہ لگا لے کہ ایک مخصوص ٹولہ نے کس قدراپنی ملت کا درد رکھتے ہوئے8 شیعہ ارکان کے ہوتے ہوئےبھی گیم کر کے اکلوتے دیوبندی رکن کو اپوزیشن لیڈر بنوا دیا۔۵۰فی صد شیعہ علاقےمیں وزیر اعلیٰ،ڈپٹی اسپیکراوراپوزیشن لیڈر دیوبندی بنے ہیں ۔جب کہ صرف اسپیکر اسمبلی فدا محمدناشادصاحب شیعہ ہیں جو کہ اسلامی تحریک پاکستان کی وجہ سے کامیاب ہوئے اگر اسلامی تحریک ان کی حمایت نہ کرتی تووہ ہار جاتےاور ان کی جگہ بھی آج ایک اسماعیلی شیعہ میر غضنفرعلی اسپیکر ہوتے۔

تاریخی یوٹرن:مخصوص ٹولہ  کی مولانا فضل الرحمن کی شدید مخالفت  اچانک کہاں غائب ہوگئی؟! نیزپورے ملک میں میرٹ اور مینڈیٹ کی باتیں کرنے والی اور مولانا فضل الرحمن کی سرسخت مخالف تحریک انصاف ،اسلامی تحریک پاکستان کے معاملے میں کیسے بے انصاف بن گئی؟!! پی پی پی کے کیا کہنے کہ الیکشن میں  اپنی شکست کا ذمہ دار جس دھڑے کو ٹھہرایا پھر اسی کی گود میں جا بیٹھی ۔

گلگت بلتستان کونسل انتخابات

۱۸اپریل ۲۰۱۶ءکو گلگت بلتستان کونسل کی ۶ نشستوں پر امیدواروں کے لئے اسمبلی  کے ارکان نے حق رائے دہی استعمال کیا؛ ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر رحیم گل نے نتائج کا اعلان کیا۔ اعلا ن کے نتائج کے مطابق اسلامی تحریک  کے علامہ سید محمد عباس رضوی  ۵ ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔(روزنامہ :سلام؛کے ٹو؛رہبر، ۱۹/اپریل۲۰۱۶ء)

واضح رہے کہ گلگت بلتستان کونسل وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ جی بی اور گورنر   جی بی سمیت ۱۵ ارکان پر مشتمل ہوتی ہے جس میں ۶ ارکان کا انتخاب بذریعہ قانون ساز اسمبلی کیا جاتا ہے جب کہ دیگر ارکان کی تقرری کا نوٹیفیکیشن وفاقی حکومت ان کے عہدے کی مناسبت سے عمل میں لاتی ہے، کونسل کا چیئرمین بلحاظ عہدہ وزیراعظم پاکستان ہوتا ہے۔

حرف ِآخر

انتخابات میں شرکت کےساتھ تنظیمی طور پر اور عوامی سطح پر تحریک نے سیاسی عمل میں بھر پور حصہ لیا۔دعوی ٰسے کہا جا سکتا ہے کہ سامراج کے اثر و رسوخ کو روکنے میں تحریک جعفریہ نےاہم کردار ادا کیا اور اسلحہ کے استعمال کے بغیر عوامی طاقت سے اپنے مقاصد حاصل کئے اور سامراجی قوتوں کے ناجائز کاموں کو روکا ہے۔اسرائیل جیسی غاصب حکومت کو تسلیم کرنے کے خلاف،گوادربندرگاہ کا مسئلہ،سیسمک سینٹر،امریکیوں کو برتھیں دینے کا معاملہ،ایمل کانسی اور ایاز بلوچ کی گرفتاری،اغیار کی ثقافتی یلغار،دہشت گردی کے خلاف جہاد، نیشنل اور انٹر نیشنل آل پارٹیز کانفرنسز میں موجودگی،ملک میں امن وامان کے قیام اور  وحدت و اخوت کا قیام کے سمیت تحریک جعفریہ نے کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر اپنا بھر پور کردار ادا کیا ۔یہ تمام جمہوری اور عوامی انداز میں کیا۔مذکورہ معاملات اور ان جیسے دیگر تمام مسائل میں عوامی آواز نے تحریک کا بھر پور ساتھ دیا۔

اتنی محنت،  کاوشوں اور تحریک کے اعلیٰ دینی ،سیاسی اور ملکی مقام سے خائف ہمارا دشمن ہماری وحدت،ہماری قیادت کی بصیرت،ہماری اسلامی یکجہتی کے لئے کی جانے والی کوششوں،ہمارے نظریہ ولایت فقیہ،علماۓ کرام کی بصیرت افروز قیادت،پاکستان میں ہمارے زبر دست کردار،قومی دھارے میں ہماری موجودگی،ہماری استعمار دشمنی اور سامراج مخالف پر مبنی پالیسیوں اور ہمارے روشن مستقبل سے خوفزدہ ہے اس لئے آئے روز ہمیں اپنی قیادت سے نفرت دلا کر،ہماری قیادت اور پلیٹ فارم کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کر کے،ہمیں آپس میں لڑا کر،باہم دست و گریبان کر کے،ہمیں ایک دوسرے سے بد اعتماد کر کے،نوجوانوں کو علماۓ کرام سے بد گمان کر کے،نظریہ ولایت فقیہ سے ہٹا کراور ڈیڑھ اینٹ کی نئی مساجد  بنا کر ملت جعفریہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے۔

  ان حالات میں ہمیں اپنی قیادت اور پلیٹ فارم کو مضبوط کر کے ،نوجوانوں کو علماء کے قریب لا کر ،قیادت اور پلیٹ فارم کے خلاف اٹھنے والی ہر منفی آواز کا جواب دے کر،ملی وحدت کو زیادہ مضبوط کر کے،نظریہ ولایت فقیہ پر کامل ایمان رکھ کر،علماۓ کرام کے وقار میں اضافہ کر کے،آپس میں غلط فہمیوں کو دور کر کے،دشمن کی سازشوں کا ادراک کر کے،ایک با بصیرت مومن کی مانند،با وقار طریقے سے صبر و حکمت کا ہتھیار لے کر حالات کا مقابلہ کرنا ہو گا۔اور اپنے دشمن کو ناکام بنانا ہو گا۔

اس وقت تمام تر رکارٹوں کےباوجودپاکستان کی تمام مقتدرسیاسی مذہبی قوتوں سے قائدملت جعفریہ کے تعلقات اورروابط موجودہیں اور  قائدملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی کی ملک وملت کے مفادمیں مثبت ،صاف وشفاف سیاست کی وجہ سے تمام سیاسی جماعتیں شیعہ علماء کونسل کو پاک وپاکیزہ جماعت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اس طرح سے برابری کی سطح پرمذاکرات اورقومی وبین الاقوامی مسائل پر گفت وشنید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    شیعہ علماء کونسل پاکستان قومی و ملی پلیٹ فارم ہے اس کی مضبوطی خود ہماری اپنی مضبوطی ہے ۔اس پلیٹ فارم کو کمزور کرنا خود اپنے آپ کو کمزور کرنا ہے ۔لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم ولی امر مسلمین ،ولی فقیہ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای مدظلہ اور پاکستان میں ان کے نمائندہ قائد ملت جعفریہ،شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ  علامہ سید ساجد علی نقوی سے اپنے آپ کو مربوط رکھتے ہوئے مکمل ہم آہنگی،اخوت و وحدت،محبت ،حوصلے اور اسلامی جذبے کے تحت اس پلیٹ فارم پر ملت کے مسائل کے حل،مکتب تشیع اور عزاداری سیدالشہداؑ کے تحفظ اور پاکستان میں ملت جعفریہ کے حقوق کی جدوجہد کو جاری رکھیں ۔ یقیناً خداوند تعالیٰ ہمارے ساتھ اور امام زمانہ ؑہمارے حامی و ناصر ہوں گے۔

پاکستان کی سیاسی جماعتیں

آل پاکستان مسلم لیگ  · عوامی نیشنل پارٹی · بلوچ نیشنل موومنٹ · بلوچستان نیشنل پارٹی · متحدہ مجلس عمل (جمعیت علمائے اسلام · جماعت اسلامی · جمیعت اہل حدیث · جمیعت علمائے پاکستان · تحریک جعفریہ)  · جمہوری وطن پارٹی · متحدہ قومی موومنٹ · جموں کشمیر پیپلز پارٹی · نیشنل پارٹی · نیشنل پیپلز پارٹی · پختونخوا ملی عوامی پارٹی · پاکستان مسلم لیگ · پاکستان مسلم لیگ (ج) · پاکستان مسلم لیگ (ف) · پاکستان مسلم لیگ (ن) · پاکستان مسلم لیگ (ق) · پاکستان مسلم لیگ (ض) · پاکستان پیپلز پارٹی · پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) · پاکستان تحریک انصاف · پاکستان عوامی تحریک