اپنے بنیادی شہری اور آئینی حقوق کے حصول کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے،علامہ ساجد نقوی
آئین پاکستان پر اُس کی روح کے مطابق عمل نہ ہونے کی وجہ سے عوام کے بنیادی ،شہری اور آئینی حقوق شدید متاثر ہورہے ہیں،قائد ملت جعفریہ پاکستان
ملک میں کرپشن ، مہنگائی،بے روزگاری،عدل وانصاف کا فقدان ،عدم مساوات سمیت غرض ہرشعبہ ہائے زندگی میں طبقاتی تقسیم نے امیر کو امیرتر اورغریب کو غریب تر کردیاہے(راولپنڈی /اسلام آباد 27جولائی 2016ء ( جعفریہ پریس) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ اس ملک میں کرپشن ، مہنگائی،بے روزگاری،عدل وانصاف کا فقدان ،عدم مساوات، تعلیم وصحت سمیت غرض ہرشعبہ ہائے زندگی میں طبقاتی تقسیم نے امیر کو امیرتر اور غریب کو غریب تر کردیاہے حتیٰ کہ پاکستان کے اکثریت عوام خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان پر اُس کی روح کے مطابق عمل نہ ہونے کی وجہ سے عوام کے بنیادی ،شہری اور آئینی حقوق شدید متاثر ہورہے ہیں ۔عدم برداشت ،انتہا پسندی اور دہشتگردی جیسی مہلک اور خطرناک صورتحال کا سامناہے عوام دو دہائیوں سے دہشتگردی کی چکی میں پیس رہے ہیں کوئی حکومت عوام کو حقائق بتانے کو تیارنہیں کہ آخر یہ کیا ہورہاہے حتیٰ کہ متاثرہ عوام کو حقائق جاننے کابنیادی حق بھی نہیں دیا جارہا۔عوام یہ جاننے کیلئے بے حداضطراب کا شکار ہے کہ آخریہ دہشتگرد جنونی کون لوگ ہیں، کہاں سے آئے ،ان کی ذہنی و عسکری تربیت کس نے l، ان کو دہشتگردی کے مواقع کس نے فراہم کیئے، ان کے پاس بے پناہ وسائل کہاں سے آئے اور آرہے ہیں جو بعض ملکوں کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہیں،ان کے سرپرست کون ہیں،ان کو اطلاعات کو ن فراہم کرتا ہے ،انہیں جیلوں میں پروٹوکول اور وسائل کون مہیا کرتا ہے کہ یہ زندانوں میں بیٹھ کر دہشتگردی کی کاروائیا ں کراتے ہیں حتیٰ کہ انہیں جیلوں سے فرارکرالیاجاتاہے ،یہ کون لوگ ہیں جو لشکرکی صورت میں ملک کی بڑی بڑی جیلوں پر حملہ آور ہوکراپنے ساتھی چھڑا لے جاتے ہیں اور اپنے مخالفین کا قتل عام کرتے ہیں،آخریہ کون لوگ ہیں جو بین الاقوامی سیاحوں سمیت عوام کو بسوں سے اتارکر شناخت کرکے اپنی دہشت و بربریت کا نشانہ بناتے ہیں کون ذمہ دار ہے جو ان حقائق سے اس بیچاری عوام کو آگاہ کرے گا۔علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھاکہ کوئٹہ میں کتنے لرزہ خیز اور دردناک سانحات رونماہوئے، بڑی بڑی شخصیات ٹارگٹ کلنگ کا شکارہوئی ہزارہ برادری پر مسلسل قیامتیں ڈھاکرمحصورکردیا گیالیکن ان سانحات کے پس پردہ حقائق سے آج تک پردہ نہیں ہٹایا گیا اور نہ ہی قاتلوں اور دہشتگردوں کو انصاف کے کٹھرے میں لایاگیا ہے ابھی تک سوگواران انصاف کے منتظرہیں ۔براستہ کوئٹہ تفتان مقامات مقدسہ عراق و ایران جانے والے زائرین کابے دردی سے قتل عام کیاگیا عوام دہشتگردوں قاتلوں کو قانون کے شکنجے میں کس کرانصاف کے کٹھر ے میں لانے کے منتظرہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشہ ایک عرصے سے زائرین کو بے پناہ مسائل و مشکلات کا سامنا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ان راستوں کو استعمال کرنا عوام کا بنیادی ،شہری اور آئینی حق ہے ان مسائل کی وجہ سے ملک بھرکے عوام میں شدیدمایوسی ،بے چینی اوراضطراب پایا جاتاہے جو کسی وقت بھی بے قابو ہوسکتاہے ۔ہم نے ان مسائل کے تدارک کیلئے صدر مملکت ،وزیراعظم ،وزیرداخلہ ،وفاقی اور بلوچستان حکومت کومتعددبار خطوط اور رابطوں کے ذریعے متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے اورآج آپ حضرات کے ذریعے حکمرانوں سے اس اہم مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں اور ہم واضح کرتے ہیں کہ عوام کسی بھی صورت میں اس راستے سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں چاہے اس کی جتنی بھی قیمت ادا کرناپڑے عوام اپنے بنیادی شہری اور آئینی حقوق کے حصول کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اسی لیے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے اجتماعات میں عوام کی طرف سے درج ذیل قرارداد پاس کرکے حکمرانوں کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کرائی جا رہی ہیں ۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ زائرین کیلئے اس راستے سے مشکلات دور کرنے کیلئے مثبت اور حقیقی اقدامات کرے تاکہ ملک بھرکے عوام میں پائی جانے والی بے پناہ بے چینی اور بے حداضطراب کاتدارک ہوسکے ۔کسی مکتب فکر کے مقدسات کی توہین سے سختی سے اجتناب کیاجائے۔ ہمارا پیغام یہی ہے کہ اتحاد و اتفاق ،تحمل و رواداری سے اتحاد بین المسلمین کو فروغ دے کراسلام کو مضبوط کیاجائے متحدہ مجلس عمل اورملی یکجہتی کونسل میں شامل تمام مکاتب فکرکے اکابرین کی مدبرانہ فکر وسوچ اور محنتوں سے ملک میں فرقہ واریت دم توڑچکی ہے پاکستان میں کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ باقی نہیں رہا۔ دہشتگردی اورجنونیت کاخاتمہ بلا امتیازآئین و قانون کے نفاذ سے ممکن ہے۔