قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بزرگ عالمِ دین، محقق، مترجم اور نابغہ روزگار دینی و سماجی شخصیت علامہ سید صفدر حسین نجفی کی 26ویں برسی کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ ملک کو معاشی و معاشرتی مشکلات، سماجی مسائل اور نامساعد حالات کا سامنا رہا، تاہم علامہ صفدر نجفی نے ان تمام چیلنجوں کے باوجود جس انتھک محنت، لگن اور اخلاص کے ساتھ ملک و ملت کی خدمت کی، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جانے کے لائق ہے۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک دینی مراکز، مساجد، دینیات سینٹرز کا قیام، سماجی و فلاحی میدان میں مسلسل خدمات اور ایک موسس و مربی کی حیثیت سے گرانقدر کردار—یہ سب وہ اسباب تھے جن کی بنیاد پر مرحوم کو بجا طور پر “محسنِ ملت” کا خطاب دیا گیا۔ درحقیقت انہوں نے عوام میں فکر و شعور اجاگر کرنے کے لیے شب و روز جدوجہد جاری رکھی اور ملت کے فکری و دینی ڈھانچے کو مستحکم کیا۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ مرحوم علامہ صفدر نجفی کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ ہر دور میں ملی امور کے حوالے سے نہ صرف متفکر رہے بلکہ ملی قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ملت کی خدمت کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ اسی طرح انہوں نے داخلی وحدت کے استحکام اور بیرونی مشکلات کے حل کے لیے بھی ہمیشہ عملی اور حکیمانہ کردار ادا کیا، جس کا اثر آج تک محسوس کیا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان نے زور دیا کہ تصنیف و تالیف کے میدان میں علامہ سید صفدر حسین نجفی نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ خصوصاً تفسیر نمونہ کا اردو ترجمہ ان کے علمی ورثے کا ایک عظیم ستون ہے۔ انہوں نے متعدد قلمی اور علمی آثار چھوڑے، نتیجتاً ہر دور میں طلبہ، محققین اور اہلِ علم ان سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں۔ بالآخر ان کی خدمات قوم و ملت کے لیے ایسا علمی سرمایہ بن چکی ہیں جو آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔