قائد ملت جعفریہ پاکستان کا محرم الحرام 1448ھ پر پیغام
عزاداری سید الشہداءؑ ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی
تمام مسالک کے علماء، ذاکرین اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں، قائد ملت جعفریہ
اتحاد و وحدت کی فضا کو مزید مضبوط کریں، ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین سے اجتناب کرتے ہوئے تعاون اور برداشت کا ماحول پیدا کریں، پیغام
راولپنڈی / اسلام آباد 15 جون 2026ء (جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے محرم 1448ھ کے آغاز پر علماء، ذاکرین، واعظین، بانیان مجالس، لائسنسداران، عزاداران، ماتمی و نوحہ خواں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ماہ محرم الحرام کی آمد آمد ہے۔ یہ ماہ مقدس ہمیں نواسہ رسول اکرمؐ، محسن انسانیت، امام عالی مقامؑ، سید الشہداء حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کے مشن اور جدوجہد کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
محافل عزاداری اور مجالس عزا کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ حسینیت کے مقاصد اور یزیدیت کے عزائم کو دنیا کے سامنے واضح کیا جا سکے اور مشنِ حسینؑ کی روشنی اور رہنمائی میں دور حاضر کے مسائل اور چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے راہ عمل اختیار کی جا سکے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اگرچہ عزاداری سید الشہداءؑ برپا کرنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے اپنے انداز رائج ہیں لیکن پاکستان کے مسلمان اپنے الگ اور مخصوص انداز سے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرتے اور ان کے مشن کی ترویج کے لیے محافل برپا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عزاداری سید الشہداءؑ ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے اور اس سے انسان کے ذاتی رویے سے لے کر اجتماعی معاملات تک انقلاب رونما ہوتا ہے۔ بعض عناصر عزاداری کے خلاف اقدامات کرتے ہیں اور ایام عزا کی آمد سے قبل ہی ملک میں سنسنی، خوف، بدامنی یا جنگ کا سماں پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس صورتحال کا خاتمہ کرنا ریاست، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایام عزا مسلمانوں کے درمیان دین محمدیؐ اور اہل بیت محمدؐ کی محبت و عقیدت میں اضافے اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک حسین موقع کے طور پر آتے ہیں، لہٰذا سرکاری سطح پر محرم الحرام کو خوف کی علامت یا انتشار کا باعث قرار دینا محرم کے تقدس کی نفی کرتا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ تمام مسالک کے علماء، ذاکرین اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں، اتحاد و وحدت کی فضا کو مزید مضبوط کریں، ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین سے اجتناب کرتے ہوئے تعاون اور برداشت کا ماحول پیدا کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ اجتماعی وحدت کو برقرار رکھتے ہوئے انتشار و افتراق پھیلانے والی ہر قوت کی حوصلہ شکنی کی جائے، انتہاپسند عناصر سے اعلانِ لاتعلقی کیا جائے اور ان کے عزائم کے سامنے وحدت کی مضبوط دیوار کھڑی کر دی جائے تاکہ وطن عزیز پاکستان میں فضا مزید بہتر ہو، تعصب و کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہو، شرپسند ناکام و رسوا ہوں، ہر قسم کی نفرت اور عداوت کا خاتمہ ہو اور اسلامی و فلاحی معاشرے کے سائے میں پاکستان عالم اسلام کے لیے نمونۂ عمل بن سکے۔