حالیہ دنوں ایران میں رونما ہونے والے واقعات کے حوالے سے آگاہی
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ا۔۔۔ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، حالانکہ ا۔۔۔ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا، خواہ کافر اسے ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔
(القرآن)
اسلامی ایران گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایسے واقعات کا گواہ بنا جو کینہ توز دشمنان کی براہ راست مداخلت اور سازشوں کے نتیجے میں پیش آئے۔ وہی دشمن جو خطے کے عوام کے خلاف اپنی مسلسل خیانتوں اور 12 روزہ جنگ کے دوران یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ بے گناہ شہریوں بالخصوص بزرگوں، عورتوں اور بے سہارا بچوں پر حملہ اور قتل و غارت سے بھی ہرگز گریز نہیں کرتے۔
افسوس کہ انہی سازشوں کے باعث ملک کو خاک و خون میں دھکیل دیا گیا اور تخریب کاری کے ساتھ ساتھ متعدد بے گناہ ایرانی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس پس منظر میں، ان ابہامات اور سوالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو دنیا بھر کے آزادی پسندوں اور استکبار مخالفین کے ذہنوں میں ہیں، درجِ ذیل نکات کی یاد دہانی ضروری ہے:
1۔
ایران کے بعض عوام کی جانب سے معاشی اور روزمرہ زندگی کے حالات کے خلاف احتجاج جو معاشی پابندیوں، اصلاحی/تعدیلی پالیسیوں کے نفاذ اور ان کے نتائج، ازجملہ مہنگائی اور افراطِ زر، نیز بعض عوامی اداروں میں بدانتظامی اور ان سب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدعنوانی و ناجائز فائدہ اٹھانے کی کیفیت سے جنم لیتا ہے، عوام کا فطری حق ہے۔ اس حق کی توثیق رہبر معظم انقلاب نے بھی کی۔ سرکاری ذمہ داران نے معترضین سے مذاکرات کیے، اور سکیورٹی اداروں نے احتجاج کرنے والوں اور مظاہرین کے ساتھ کسی قسم کی سختی نہیں کی۔
2۔
امریکا اور صہیونی رژیم کی براہ راست مداخلت، جس پر ٹرمپ، پومپیو اور صہیونی حکام کے بیانات، گرفتار شدگان کے صریح اعترافات، زمینی شواہد، نیز اسلحے، وسائل اور مالی معاونت کی تقسیم گواہ ہیں، نہایت ہولناک اسلحے کے استعمال اور سکیورٹی اہلکاروں اور بے دفاع عوام کے خلاف قتل و غارت پر مشتمل رہی۔
یہ مناظر داعش کی درندگی، غزہ و فلسطین میں صہیونی افواج کی سفاکی، اور اس سے پہلے ویتنام و جاپان میں امریکا کے جرائم کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ اسے امریکا اور صہیونی رژیم کی جانب سے ایران کے خلاف 12 روزہ جارحانہ جنگ کے دوسرے مرحلے کے طور پر دیکھا گیا۔
زیادہ سے زیادہ خوف و ہراس پھیلانے کی منظم کوششوں کے ساتھ بے گناہوں کو زندہ جلانے، سر قلم کرنے، ہمہ جہت حملوں، تباہ کن ہتھکنڈوں کے استعمال، آگ لگانے، عوامی مقامات، بسوں حتیٰ کہ ایمبولینسوں، گھروں اور ذاتی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے جیسے اقدامات کیے گئے۔ اس طرح سکیورٹی مراکز سے بھی بڑھ کر عوام ہی کو نشانہ بنایا گیا اور پُرامن احتجاج و مطالبات کے مناظر کو میدانِ جنگ میں بدل دیا گیا۔
اگرچہ معترضین کی بیداری اور شعور کے باعث عوام اور عالمی استکبار کے کرائے کے ایجنٹوں کی صفیں الگ ہو گئیں، تاہم عوامی املاک کو بھاری نقصان پہنچا جس کی قیمت بالآخر شہریوں ہی کو چکانا پڑے گی۔
3۔
منظم حملوں، سرکاری و نجی املاک کی توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے علاوہ، گزشتہ چند دنوں کے ہنگاموں اور جرائم کے دوران عوام کے مقدسات کی بے حرمتی، مساجد، امام زادوں کے مقبروں اور مقدس مقامات کی تخریب اور نذر آتش کیے جانے جیسے اقدامات بھی سامنے آئے۔
دینی مراکز پر حملے، قرآن مجید کو نذر آتش کرنا، کتب خانوں پر یلغار اور ان کی تمام کتابوں حتیٰ قیمتی خطی نسخوں کو تلف کرنا، مسلمانوں کی مقدس اقدار کے خلاف توہین آمیز نعرے لگانا — یہ سب ایسے اقدامات تھے جو انسانی حقوق کے کسی بھی اصول، آزادیوں اور دوسروں کے مقدسات کے احترام سے ہم آہنگ نہیں۔
یہی امر اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ملک سے باہر موجود دین دشمن عناصر نے ان حرکات کی قیادت کی اور انہیں دیندار ایرانی عوام کے خلاف منظم کیا۔
4۔
اس منظم سازش کا ایک مقصد ملک کی نوجوان نسل کو نشانہ بنانا بھی تھا؛ جس کے لیے بچوں، نوجوانوں اور جوانوں کو بھڑکایا گیا اور سوشل میڈیا میں متن، آڈیو، تصویر اور ملٹی میڈیا پر مشتمل بھاری اور مسلسل مواد کے ذریعے ان کے وقتی جذبات سے فائدہ اٹھایا گیا۔
تاہم خوش قسمتی سے، عوام کے ایمان، خاندانوں اور اساتذہ کی بصیرت، اور متعلقہ حلقوں کی بروقت آگاہی کے باعث ایران کے عزیز نوجوانوں اور جوانوں نے جلد ہی اپنی صفیں فسادی عناصر سے جدا کر لیں۔
5۔
اس بحران کے مقابلے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے نظام اور سیاسی، انتظامی، سلامتی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کا طرزِ عمل دشمن کے شدید حملوں کے باوجود پُرسکون اور حکمت آمیز رہا، جس میں عوامی آگاہی کے مواقع فراہم کیے گئے اور حقیقی معترضین اور بیرونی دشمنوں سے وابستہ شرپسندوں کے درمیان واضح امتیاز قائم رکھا گیا۔
یہ پالیسی رہبر معظم انقلاب کی رہنمائی میں بخوبی نافذ ہوئی اور ایک بار پھر رہبر معظم کے مقام، دانائی اور کلام کے اثر و نفوذ کو نمایاں کر گئی، جیسا کہ انقلاب کے تمام مراحل اور 12 روزہ جنگ میں بھی ہم نے دیکھا، اور اس کے نتیجے میں اسلامی ایران کے خلاف عالمی دشمنوں کی سازشوں اور بحرانوں پر نہایت دانش مندانہ قابو پایا گیا۔
6۔
امریکا اور مغرب کی جانب سے ایرانی عوام پر عائد پابندیوں اور معاشی دباؤ سے پیدا ہونے والی مشکلات، نیز اندرونی میدان میں موجود کمزوریاں، طے شدہ کلی پالیسیوں، مختلف شعبوں سے مذاکرات، عوام کے لیے آگاہی پر مبنی اطلاع رسانی اور عملی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔
اگرچہ اس اصلاحی عمل کے کٹھن اثرات عارضی طور پر محسوس ہوں گے، تاہم امید ہے کہ تکمیلی اقدامات اور عوامی تعاون کے ساتھ خداوندِ متعال کی مدد سے ملک استحکام کے ساحل تک پہنچے گا۔ یہ خود معاشی کارکنوں کے جائز احتجاجات کا منطقی انجام اور دشمنانِ ایران کے لیے ایک بھرپور جواب ہوگا۔
7۔
عوامی مارچ، بالخصوص ان شہیدانِ گرانقدر کے شاندار جنازے جنہوں نے ان دنوں جامِ شہادت نوش کیا، اور ان کا نقطۂ عروج پیر 21 جنوری کو ایران کے تمام شہروں اور دیہات، بشمول تہران، میں ہونے والا ملک گیر مارچ، ایک بار پھر ثابت کر گیا کہ ایرانی عوام کی صف خود فروختہ عناصر اور غیرملکی آقاؤں کے آلہ کاروں سے جدا ہے۔
حتیٰ کہ نوجوانوں نے بھی حق و باطل میں تمیز کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ شدید معاشی دباؤ، دشمن کا پروپیگنڈا اور ہائبرڈ، نفسیاتی، میڈیا اور نرم جنگ کے باوجود، ایرانی عوام بدستور اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے عوامی نظام کی حمایت کرتے ہیں اور دشمن کو کسی بھی طرح کے سوءاستفادہ کا موقع نہیں دیتے۔
8۔
ہم، اسلام اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کے ماننے والے، عدل کے علمبردار اور ظلم و استکبار کے خلاف جدوجہد کرنے والے، امید کرتے ہیں کہ ہمارے تمام ہم دل ساتھی اپنی بلند ہمتی کے ساتھ دنیا بھر میں حق کے دفاع، روشنگری اور آگاہی کے فروغ کی راہ میں قدم بڑھائیں گے۔
اور کہہ دیجیے: عمل کرو، پس ا۔۔۔ تمہارے عمل کو دیکھے گا، اور اس کا رسول اور اہلِ ایمان بھی…
(القرآن)
مرکزی دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان