تازه خبریں

27 رجب یوم بعثت و شب معراج پر علامہ سید ساجد علی نقوی کا خصوصی پیغام

یوم بعثت و شب معراج: انسانیت کی دنیوی و اخروی فلاح کی نوید | علامہ ساجد نقوی

یوم بعثت و شب معراج کے دن انسانوں نے اپنی دنیوی و اُخروی فلاح کی نوید پائی، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

27 رجب، بعثت پیغمبر اکرم ﷺ انسانیت کو بت پرستی اور ہر قسم کے منفی عقائد سے نجات دلا کر خدا پرستی اور توحید شناسی کی سمت لے جانے کا مبارک دن ہے، قائد ملت جعفریہ

واقعہ معراج انسانی بلندی کی بے نظیر مثال ہے، روز افزوں سائنسی علوم کا ارتقاء واقعہ معراج کیلئے مہرِ تائید و تصدیق ثبت کر رہا ہے، 27 رجب کی مناسبت سے پیغام

راولپنڈی/ اسلام آباد 16 جنوری 2026 ء ( جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یوم بعثت رسول اکرم ﷺ اور شب معراج پر اپنے پیغام میں کہا کہ 27 رجب کو بعثت پیغمبر اکرم ﷺ انسانیت کو بت پرستی اور ہر قسم کے منفی عقائد سے نجات دلا کر خدا پرستی اور توحید شناسی کی سمت لے جانے کا مبارک دن ہے۔

اسی دن کائنات کے انسانوں نے اپنی دنیوی و اخروی فلاح کی نوید پائی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کے رہتی دنیا تک مبعوث بہ رسالت ہونے کا اعلان فرمایا۔

روز مبعث سے قبل انسانیت جس ابتری اور زوال کا شکار تھی، انسانی معاشرہ جس خلفشار میں مبتلا تھا، قدم قدم پر مفاسد نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ نفرتوں اور جنگوں نے انسانی جانوں کو بے وقعت کر دیا تھا، تکریمِ خاتون اور حقوقِ دختر پامال کیے جا رہے تھے، ہر شخص نے اپنی پسند اور خواہش پر خدا تراش رکھے تھے۔

اخلاقیات اور صبر و برداشت کا نام و نشان نہیں مل رہا تھا، خالق کے ساتھ مخلوق کا رشتہ قائم ہونا تو دور کی بات، مخلوق کو حقیقی خالق کا حقیقی تعارف ہی یاد نہیں رہا تھا۔ ایسے ماحول اور اس زمانے میں حضور اکرم ﷺ کا مبعوث ہونا عالمِ انسانیت کے لیے ایک عظیم خوشخبری اور دائمی نجات کی نوید ثابت ہوا۔


ایک اور 27 رجب کی شب کو ہونے والا واقعہ معراج انسانی بلندی کی بے نظیر مثال ہے۔ روز افزوں سائنسی علوم کا ارتقاء واقعہ معراج کی تائید میں ہے۔ معروف سائنسدان آئن سٹائن نے اس کو مانا اور اس کی تائید کی اور معروف فلسفی ملا صدرا نے بھی اس کا ادراک کیا۔

جسمانی و روحانی معراج سے قطع نظر ہم اگر واقعہ معراج کا بنظرِ غائر جائزہ لیں تو ہمیں پیغمبر اکرم ﷺ کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ قربت و محبت اپنے عروج پر نظر آتی ہے جو اپنے اندر ایسی خاصیت رکھتی ہے جو کسی دوسرے نبی کے حصے میں نہیں آئی۔

شبِ معراج خالق اور مخلوق کے درمیان سب سے معتبر وسیلے اور ذریعے یعنی حضورِ اکرم ﷺ کے توسط سے بنیادی اصول و ضوابط فراہم کیے گئے۔

واقعہ معراج چشمِ زدن میں طویل فاصلوں کو عبور کرکے ایک خاص مقام پر پہنچنا قدرت کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے، جس کے حقائق سے اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی آگاہ ہیں، البتہ جس میں انسانوں کے لیے بے شمار اسباق پنہاں ہیں۔

واقعہ معراج جہاں ہمارے لیے مسرتوں اور خوشیوں کا سامان فراہم کرتا ہے وہیں ہمیں زندہ رہنے کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ معراج کے تحائف میں سے ایک عظیم تحفہ نماز ہے جس کی ادائیگی بقولِ پیغمبر ﷺ مومن کی معراج ہے۔

لہٰذا ہمیں اپنی معراج کو مدنظر رکھنا چاہیے تاکہ ہمیں بھی قرب و ملاقاتِ خدا کی نعمت حاصل ہو سکے۔