سقوطِ ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس سیاہ دن، فراموش نہیں کیے جا سکتے، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
راولپنڈی / اسلام آباد | 16 دسمبر 2025ء:
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ 16 دسمبر 1971ء سقوطِ ڈھاکہ اور 16 دسمبر 2014ء سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور پاکستان کی تاریخ کے وہ سیاہ دن ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 16 دسمبر 1971ء کو پاکستان کو دو لخت کر دیا گیا، جبکہ اسی دن 2014ء کو پشاور میں دہشتگردوں نے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے تعلیم میں مصروف بچوں سمیت 140 سے زائد افراد کو بے دردی سے شہید کیا۔ یہ دونوں سانحات قومی تاریخ کے المناک ترین واقعات میں شمار ہوتے ہیں۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ سقوطِ ڈھاکہ کے پس پردہ کئی عوامل کارفرما تھے جن میں 1955ء میں دستور ساز اسمبلی کا انہدام، تیار شدہ دستور کا راستہ روکنا، دور اندیشی پر مبنی پالیسیوں کا فقدان، طاقت کو مسئلے کا حل سمجھنا اور پاکستان کے وجود سے انکاری بھارت کی سازشیں شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں تاریخ اور تلخ حقائق سے سبق سیکھتی ہیں۔ سیاستدان، مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ ہم نے ان غلطیوں سے کیا سبق سیکھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد آج تک عوام کو ان تلخ حقائق سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے حوالے سے اپنے پیغام میں قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک ہے، جس میں معصوم بچوں سمیت 140 سے زائد ہم وطنوں کو شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد بھی ملک میں متعدد سانحات رونما ہوئے۔
انہوں نے خصوصاً خیبرپختونخوا، بالخصوص ضلع کرم کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام آج بھی اضطراب کا شکار ہیں اور دائمی امن کے منتظر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی سلامتی، امن اور استحکام کے لئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ناگزیر ہے۔