تازه خبریں

سرگودھا:جامعہ سلطان المدارس کے جلسہ میں علامہ عارف حسین واحدی نے شرکت اورخطاب کیا۔

سرگودھا:جامعہ سلطان المدارس کے جلسہ میں علامہ عارف حسین واحدی نے شرکت اورخطاب کیا۔

سرگودھا:جامعہ سلطان المدارس کے جلسہ میں علامہ عارف حسین واحدی نے شرکت اورخطاب کیا۔
تاریخ اور عقائد تشیع پر تفصیلی گفتگو کی،ھر دور میں علمائ بزرگوار تشیع کے کردار،زحمات اور دنیا تک تشیع کے افکار،نظریات اور عقائد پہنچانے کے لئے کاوشوں کا ذکر کیا- 
آج کے دور میں تشیع کے خلاف سازشوں کا ذکر کرتے ھوئے کہا کہ ھمیشہ تشیع اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار رھا۔آج کے دور کے حوالے سے تین نکات کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کہا کہ
1:اس وقت سٹیج اور عزاداری سید الشہدا ع کے مقدس پلیٹ فارم سے ایک سازش کے تحت تشیع کے عقائد میں خرافات اور اسرائیلیات کو شامل کر کے مکتب کے روشن چہرے کو بگاڑنے کی سازش کی جا رھی ھے،جس سے مختلف طبقات میں تشیع کے حوالے سے استہزا کی کیفیت پیدا ھو رھی ھے،کبھی کہا جاتا ھے کہ پاکستان کو ذوالجناح نے بنایا ھے،کبھی کہا جا رھا ھے کہ نیپال میں عاشورہ کے دن لوگ خود کو چھریاں مارتے ھیں مر جاتے ھیں شام کو زندہ ھو کر گھر واپس پہنچ جاتے ھیں،بعض مقامات پر کچھ لوگ من گھڑت تاریخ پیش کرتے ھیں کہ یورپ،آمریکا،ایشیا،ملیشیا وغیرہ اولاد آدم کے نام تھے،سب سے بڑھ کرکربلا نے جو ظلم و ستم کے خلاف کردار ادا کیا اس میں بنیادی نکتہ انکار بیعت ھے -مثلی لایبایع مثلہ- کی للکار نے قیامت تک ظلم کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کردیا ھے مگر بعض ناھنجار سٹیج حسینی سے توھین شھید کربلا کر رھے ھیں کہ امام ع نے ایک کاسہ پانی کے بدلے بیعت پہ آمادگی ظاھر کی،اس کے علاوہ آئے روز ایسی خرافات کو از خود جعل کر کے شامل کیا جاتا ھے اور مکتب تشیع کی طرف منسوب کیا جاتا ھے جو تشیع کے لئے بہت بڑے مسخرے اور بدنامی کا سبب بن رھے ھیں اور صد افسوس،عوام کا ایک طبقہ ایسے مطالب پر داد تحسین دیتے ھیں تو بہت بڑی غلط فھمی پیدا ھوتی ھے اس وقت سخت ضرورت ھے کہ علمائ حقہ کے ھم آواز ھو کر اچھے انداز میں اس سازش کا مقابلہ کیا جائے،تشیع کی اصل روح اور روشن چہرے پر کوئی حرف نہ آئے چونکہ موجودہ اور آئندہ نسلوں تک اصل تشیع کو پہنچانا ھماری ذمہ داری ھے۔
2:ھر دور میں دنیا کے ھر مظلوم کی حمایت اور ھر ظالم کے مقابلے کے لئے کربلا ایک رول ماڈل رھا ھے صدیوں سے کربلا کے زائرین کو روکنے،انکے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے ناکام کوششیں جاری رھیں،سب رکاوٹوں اور مشکلات کو خاطر میں نہ لاتے ھوئے کربلا دنیا کے کروڑوں انسانوں کی امیدوں کا مرکز اور آنکھ کا تارا بن چکا ھے چنانچہ اربعین حسینی کے موقعہ پر پوری دنیا سے کروڑوں عاشقان حسین ع کربلا پہنچتے ھیں اور اپنی عقیدت اور نیازمندی کا عملی اظہار کرتے ھیں پاکستان سے بھی ھر سال لاکھوں عقیدت مند جاتے ھیں مگر بائی روڈ جانے والے زائرین کے لئے سابقہ حکومت نے کوئٹہ اور تفتان میں بے حساب رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی اب جب نئی حکومت آئی توقع تھی کہ تبدیلی آئیگی مگر ابھی وہی سابقہ حکومت کا انداز چل رھا ھے بار بار مذاکرات کئے مگر وعدوں کے باوجود کوئی تبدیلی نہیں آرھی اس وقت بھی زائرین کی سینکڑوں بسیں کوئٹہ،تفتان اور دیگر مقامات پر رکی ھوئی ھیں۔علمائ کرام اور پورے ملک کے عوام آگاہ رھیں کہ ھم حکومت سے بار بار مطالبہ کر رھے ہیں کہ اس مشکل کو جلد حل کیا جائے یہ ھمارا قانونی اور آئینی حق ھےورنہ ھم یھی سمجھیں گے کہ موجودہ حکومت بھی اسی سابقہ پالیسی پر چلتے ھوئے زائرین کے لئے رکاوٹیں کھڑی کر رھی ھے۔
3:عزاداری کی پہچان تشیع کے دوسرے نام کے طور پرھے اس مسئلے میں سابقہ پالیسی کے مطابق مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رھی ھیں چاردیواری کے اندر مجالس اور روائتی جلوسوں پر پابندی لگانا اور مقدمات درج کرنا اسی طرح جاری ھے جو کسی صورت بھی ھمارے لئے قابل قبول نہیں،امید ھے موجودہ حکومت ان مسائل کو درک کرے گی اور مقدمات کا اندراج بند ھو گا بلکہ وعدے کے مطابق پچھلی ایف آئی آرز کو واپس لیا جائے گا تاکہ مکتب اھلبیت ع کے پیروکاروں میں کوئی مایوسی اور ناامیدی پیدا نہ ھو-ا
آخر میں علامہ عارف واحدی نے کہا کہ میں چاھتا تھا کہ اس بڑے علمی مرکز میں ان اھم مسائل کی طرف توجہ دلاؤں جہاں پورے ملک سے علمائ کرام اور نظریاتی مومنین کا شاندار اجتماع ھےتاکہ انشااللہ مل کر اتحاد و وحدت کے ساتھ ان مشکلات کا آسان حل تلاش کر سکیں۔