تازه خبریں

پاکستان ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے حامل 10 سے 15 ممالک میں شامل ہوگیا

پاکستان ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے حامل 10 سے 15 ممالک میں شامل ہوگیا

سپارکو نے پاکستان کے پہلے ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ کو کامیابی سے چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سیٹر سے کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا۔

پاکستان ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہوچکا ہے جن کے پاس ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ ٹیکنالوجی موجود ہے۔ 

پاکستان خلا میں کامیابی کے ساتھ اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے اور ملکی سطح پر سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی طرف گامزن ہے۔ 

پاکستان کے آٹھ سیٹلائٹ خلا میں پہلے ہی ملک کو مواصلات، زمین کی نگرانی، تحقیق و تجربات میں معاونت کررہے ہیں۔ اب سپارکو نے پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ جسے ایچ ایس ون کا نام دیا گیا، کامیابی سے لانچ کردیا۔

سپارکو ماہرین کے مطابق یہ ایک طرح کا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ہے جو زمین کے مدار میں رہ کر زمین کا مشاہدہ کرے گا اور یہ پاکستان کا پانچواں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ہے جونہ صرف زمین کی سطح بلکہ زمین کے اندر کی بھی معلومات فراہم کرے گا۔

سپارکو اسپیس وژن 2047 پر گامزن ہے اس کا مقصد ہے کہ پاکستان کو خلا کے شعبے میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنا ہے۔ 

سپارکو ماہرین کے مطابق پاکستان اپنا ایک روبوٹ چاند پر بھیجنے کے مشن پر بھی کام کررہا ہے، 2028 سے پہلے اس مشن کو مکمل کرنے پر کام کیا جارہا ہے اور پاکستانی خلا باز کو چاند پر اتارنے کے مشن پر بھی کام کیا جارہا ہے۔