اسلام آباد::انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کی طرف سے محرم الحرام کے حوالے سے تحمل،برداشت اور رواداری کے موضوع پر ایک اھم ترین نشست کی گئی،جس میں اکثر و بیشتر دین سے دلچسپی رکھنے والی یونیورسٹی کے دانشوران اور اسلامی سکالرز نے ڈیبیٹ میں حصہ لیا۔اس اجلاس کی صدارت اسلامی یونیورسٹی کے صدر محترم ڈاکٹراحمد بن یوسف الدرویش نے کی جبکہ اسی یونیورسٹی کی زیر نظر اقبال انسٹیوٹ کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر حسن الامین اور شریعہ فیکلٹی کے ڈائریکٹر نے بھی شرکت کی اور اپنی قیمتی آرا سے نوازا۔
علامہ عارف حسین واحدی نے یونیورسٹی کی دعوت پر شرکت کی اور اسی موضوع پر گفتگو کرنے کا ایک اچھا موقعہ ملا،جس میں انھوں نے موضوع پر قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی گفتگو کی،معاشرے میں عدم رواداری اور انتشار و افتراق پر گفتگو کرتے ھوئے کہا کہ ھمارے معاشرے میں ایک عرصے سے مسلسل تعصبات اور مسلکی نفرت پھیلانے،انتشار،افتراق اور عدم برداشت کو ھوا دی گئی،حالانکہ اس ملک مین مسلکی انتشار اور فرقہ واریت نہیں تھی اس اتحاد و محبت بھارے کی بدولت دنیا کے نقشے پر پاکستان جیسا پہلا ملک اسلام کی بنیاد پر منصہ ظہور پر آیا اور ترقی کی منازل طے کیں یہود و ھنود کی سازشوں کے مقابلے میں پہلا اسلامی ایٹمی ملک بنا جو دشمنوں کو ایک آنکھ نہ بھایا ایک بہت بڑی سازش کے تحت اتحاد و محبت کی خوبصورت فضا کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔شدت پسندی،انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو معاشرے میں عام کرنے کے لئے تکفیر،گالی گلوچ،توھین آمیز رویوں کی وجہ سے ملکی استحکام کو خطرات سے دوچار کیا گیا اسلام کو دنیا میں بدنام کیا گیا،جو دین امن و آشتی اور سلامتی کا علمبردار تھا اس دین کو دھشتگرد دین کی صورت میں دنیا میں متعارف کرایا گیا ،میں اس احباب علم و دانش کی نشست میں جرئت سے کہنا چاھتا ھوں کہ انتشار و افتراق پھیلانے کی اندرونی یا بیرانی سازش ھو گی مگر آئیں غور کریں کہ ھمارے اپنے معاشرے سے ان کے ھاتھوں کیون کھلونا بننے والے کون تھے؟؟؟کیا ھم جرئت سے ان فرقہ پرست اور شدت پسند عناصر کو اپنی صفوں سے اٹھا کر باھر پھینک سکتے ھیں اور دوبارہ محبت،اخوت اور بھائی چارے کی فضا ایجاد کرنے میں اپنا اھم کردار اد کر سکتے ھیں؟؟؟اگر آپ تیار ھین تا ھم اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لئے تیار ھیں ھم امت واحدہ کے قرآنی تصور کو اجاگر کرنے کے لئے ھمہ وقت تیار بلکہ ھراول دستے کا کردار ادا کریں گے بلکہ اس تمام بد قسمت دور میں ھماری قیادت نے اتحاد و وحدت کے بانیوں کا کردار ادا کیا ھے۔بلکہ ملی یکجہتی کونسل کے تمام محترم و مکرم راھنماوں نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ۔شائد میرا یہ دعوا بے جا نہ ھو گا کہ اسلامی ممالک میں جو محبت اور اخوت کی فضاقائم کر کے ھمارے ملک اور معاشرے میں ھر مسلک کے جید اور بزرگ علمائ کرام نے بھت اھم کردار ادا کیا اتحاد کے فورم بنا کر فرقہ واریت کے ناسور کو دفن کرنے کی کوشش کی وہ فضا کسی اور اسلامی ملک میں قائم نہ ھو سکی۔
علامہ عارف واحدی نے اتحاد امت کی فضا قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ھوئے کہا کہ آج اسلام و پاکستان کےخونخوار دشمنوں یہود و ھنود نے ھمارے لئے بارڈرز پر خطرے کی فضا قائم کی ھوئی ھے پاکستان کو اندرونی اور بیرونی بڑے چیلنجز کا سامنا ھے ھر دور سے زیادہ مذھبی اور دینی طبقے کی ذمہداری بنتی ھے کہ اپنی صفوں اور معاشرے میں محبت و اخوت،رواداری اور برداشت کی فضا ایجاد کریں امت مسلمہ کے تمام مسلمہ مسالک میں پچانوے فی صد اشتراک اور پانچ فیصد فروعی نوعیت کے اختلاف ھیں عقیدہ توحید،مقام رت،ختم نبوت پر ھم سب متفق ھیں،عظمت قرآن پر ھم سب کا اتفاق ھے ھم سب کا متفقہ عقیدہ ھے کہ قرآن کی حفاظت کی ذات خداوندی نے خود ذمہ داری لی ھے یہ قرآن کرین آئین زندگی بشر ھے ھم سب کا متفقہ عقیدہ ھے کہ قرآن کریم میں کوئی تحریف نہیں ھوئی قیامت پر ھمارا مشترکہ یقین ھے ،اھلبیت اطہار،صحابہ کرام،ازواج مطہرات کا احترام ھمارے عقیدے کا حصہ ھے،محرم کے ایام ھیں نواسہ رسول امام حسین کی قربانی کی یاد ھر مسلمان مسلک کے لوگ اپے انداز میں مناتے ھیں ھم سب یہ تسلیم کرتے ھیں کہ مٹتے ھوئے اسلام کو کربلا سے نئی زندگی ملی ،میرے خیال مین چند فقہی اور فروعی مسائل میں اختلاف کی وجہ ان دوریوں کا سبب نہیں بننا چاھئے ھمیں اپنی ذمہ داریوں کا حساس کرنا ھو گا اور ایسی اتحاد و وحدت کی محافل کی خبر عام لوگوں تک پہنچانا انتہائی ضروری ھے تاکہ کم علم اور کج رو عناصر وھان اپنی شرارتوں کی وجہ سے بگاڑ پیدا نہ کر سکیں۔
علامہ واحدی نے امت مسلمہ اور اسلامی ممالک کے اتحاد پر زور دیتے ھوئے کہا کہ میرا یہ نظریہ ھے کہ ھمیں دو اھم پاکستان کے دوست ملکوں ایران اور سعودی عرب کو ٹھیک ٹھاک پیغام دینا ھو گا کہ اگر آپ دونون کے درمیان اختلاف کی کیفیت برقرا رھے گی تا امت مسلمہ کمزور ھو گی اور اگر آپ کے درمیان اتحاد و وحدت کی فضا قائم ھو گی تو امت مسلمہ مضبوط ھو گی،سعودی عرب کے کطھ علمائ کرام کے استفتا پر رھبر انقلاب آیۃ اللہ خامنائی نے ازواج مطہرات اور صحابہ کرام کے احترام پر جو فتوی دیا ھے اس کو بھی اتحاد امت کی بنیاد بنایا جا سکتا ھے امید ھے محرم الحرام میں امن و امان کی فجا بہتر رھے گی اور ھم سب ملکر ان حالات لو بہتر بنانے مین اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔
علامہ عارف واحدی سے بعض سکالرز اور اسٹوڈنٹس نے شیعہ عقائد اور رسوم کے بارے مین سوالات کئے گئے جن کے انتہائی محبت کی فضا میں علامہ صاحب نے تسلی بخش جواب دئے،نشست کے بعد مختلف میدیا چینلز نے علامہ صاحب سے انٹرویوز بھی کیے اور اسلامی یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کو علامہ صاحب نے خصوصی پیغام بھی ریکارڈکرایا۔