تازه خبریں

امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کا طرز حکمرانی قائد ملت جعفریہ پاکستان

امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کا طرز حکمرانی
ہر دور کے حکمرانوں کے لئے روشن مثال
سید ساجد علی نقوی
قائد ملت جعفریہ پاکستان

علوی سیاست کا یہ امتیاز رہا ہے کہ امیر المومنینؑ نے حکومت کا حصول کبھی ہدف نہیں سمجھا بلکہ اپنے اصلی اور اعلی ہدف تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دیا۔ اس حوالے سے آپ کا ایک معروف قول ہے کہ ’’میرے نزدیک حکومت ایک پھٹے پرانے جوتے سے بھی کم تر حیثیت رکھتی ہے مگر اس صورت میں جب اس کے ذریعے کسی حق کو قائم کرسکوں اور کسی باطل کا خاتمہ کرسکوں‘‘۔ ذاتی نوعیت کے مسائل پر گفتگو کے لئے بیت المال کے چراغ کو ہٹاکر حضرت کا اپنے گھر سے چراغ منگوانا حکمرانوں کے لئے ایک روشن مثال ہے کہ ذاتی ضروریات پر قومی امانت کو صرف کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ فرامین حکمرانوں کے لئے روشن مثالیں ہیں کہ وہ گڈ گورننس قائم کرتے وقت کس طرح اپنی ذات پر قوم کو ترجیح دیتے ہیں اور انصاف کا قیام کسی مصلحت کے بغیر کرتے ہیں۔
وہ ایک ہی وقت میں الہی اور جمہوری عہدے کا حامل ہونے کی وجہ سے اپنا منفرد اور ممتاز مقام رکھتے تھے۔ لیکن عاجزی کا ایک انداز ان کے اپنے فرمان میں ہے کہ ’’میں امیر المومنینؑ کہلانے کا حق دار نہیں بن سکتا جب تک میں عوام کے دکھ درد میں برابر کا شریک نہ بن سکوں‘‘ یہی وجہ ہے کہ برسراقتدار آنے کے بعد انہوں نے کوئی امتیازی رویہ نہیں اپنایا اور اور کسی قسم کی مراعات کی رسم نہیں ڈالی بلکہ میرٹ اور شفافیت کے رہنما اصول پیش کئے۔امامت کے لئے منصوب ہونے کے باوجود آپؑ نے حکمرانی عوام کے بے پناہ اصرار پر قبول فرمائی۔ عوام کا اصرار آپؑ کی بے پناہ عوامی مقبولیت اور عوامی اعتماد کی دلیل ہے اور یہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔
امیرالمومنین ؑ کا عدل و انصاف کے نفاذ کا منفرد پہلو انہیں دنیا کے تمام سابقہ اور آئندہ حکمرانوں سے جدا اور منفرد کرتا ہے ۔ عدل علی ؑ آج بھی دنیا میں ایک نمونے اور ماڈل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور امیرالمومنین ؑ کا طرز حکمرانی اور طرز جہاں بانی اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی موضوع پر دنیا کے مشہور دانشور جارج جرداق نے ’’ انسانی عدالت کی آواز ‘‘ کے نام سے تاریخی کتاب لکھی ہے۔آپ نے عدل و انصاف کا معاشروں، ریاستوں، تہذیبوں، ملکوں، حکومتوں اور انسانوں کے لیے انتہائی اہم اور لازم ہونا اس تکرار سے ثابت کیا کہ عدل آپ کے وجود اور ذات کا حصہ بن گیا اور لوگ آپ کو عدل سے پہچاننے لگے۔ اپنے ملک اور معاشرے میں عدل اجتماعی نافذکرنے تک آپ کی پوری زندگی عدل سے مزین رہی اور آپ نے گھر سے لے کر معاشرے اور حکمرانی تک عدل و انصاف کے معاملات میں کبھی مصلحت سے کام نہیں لیا ۔ اسی لیے کہا گیا کہ عدل کے سبب آپ ؑ کی شہادت واقع ہوئی ۔ اسی طرح حضرت ؑ کی طرف سے مالک اشتر کو گڈگورننس اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ارسال کردہ ہدایات آج کے دور کے حکمرانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔

امیر المومنینؑ کی ذات مجموعہ کمالات تھی۔ ان کی فضیلت اور خصوصیات پر قرآنی آیات اور احادیث پیغمبر گرامیؐ قدر اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ قرآنی تعلیمات اور سنت رسولؐ کی عملی تعبیر کا مشاہدہ آپؑ کی سیرت عالیہ میں کیا جاسکتا ہے۔ آپؑ انسانی اخلاق اور فضائل و کمالات میں انسان کامل تھے لہذا ان کی زندگی کا ہر پہلو کمال کے متلاشی انسانوں کے لئے چراغ راہ ہے۔ چنانچہ قرآن اور سنت پر ایمان رکھنے والوں کو یہ دونوں چیزیں سیرت علیؑ میں تلاش کرنی چاہیں کیونکہ پیغمبر گرامیؐ قدر اپنے اس فرمان میں فیصلہ فرماچکے ہیں کہ ’’علیؑ قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علیؑ کے ساتھ ہے۔ علیؑ حق کے ساتھ ہے اور حق علیؑ کے ساتھ ہے۔ علیؑ خلوت و جلوت میں میرے ساتھ رہے‘‘
دور حاضر میں حضرت علیؑ کے تصور اسلام کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس تصور اسلام کی بنیاد آپؑ نے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں انتہائی اہم‘ حساس اور دورس اقدامات کئے اور زندگی کے سیاسی‘ معاشی‘ معاشرتی اور عمومی اخلاق میدانوں میں جو نقوش چھوڑے ہیں ان کے گہرے مطالعے کی ضرورت ہے تاکہ امیر المومنینؑ کے اقدامات کی روشنی میں گھمبیر معاشرتی مسائل کا عصری تقاضوں کے مطابق حل نکالا جاسکے۔ حضرت علیؑ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کی سیرت کے ہر پہلو سے ہر انسان استفادہ کرسکتا ہے۔ ایک عام مزدور سے لے کر ایک بااختیار حکمران تک کے تمام نمونے آپؑ کی حیات طیبہ میں نظر آتے ہیں جبکہ ذاتی زندگی میں ایک فرمانبردار بیٹے‘ وفادار بھائی‘ ذمہ دار شوہر اور قابل تقلید باپ کی حیثیت سے آپ کا عمل ہمارے لئے نمونہ عمل ہے۔ لہذا ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں امیر المومنینؑ کی سیرت اقدس سے استفادہ کرنا چاہیے اور اسے ہی نمونہ قرار دے کر اپنی دنیاوی و اخروی نجات کا سامان پیدا کرنا چاہیے۔
چنانچہ جب ہم امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی شہادت کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو امیر المومنینؑ کی ذات اور جسم سے دشمنی نہیں تھی بلکہ ان کی فکر اور اصلاحات سے عدوات تھی جو کہ علی ابن ابی طالبؑ نے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی میدانوں میں کی تھیں۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ امیر المومنینؑ کی شہادت ایک شخص یا فرد کی نہیں ایک سوچ‘ فکر اور نظریے کی شہادت ہے۔