تازه خبریں

اگر آئینی کمیٹی کے مطابق جی بی مسئلہ کشمیر کا حق ہے تو ۱۹۷۲ میں جموں کشمیر لاز کو گلگت بلتستان سے کیوں ہٹایا گیا ؟شیخ مرزاعلی

گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر سے وابستہ کر کے اپنے لئے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں جو کسی صورت مناسب نہیں اور شاید جی بی کی آئینی حیثیت کا حل نکالنے کے بجائے الجھانے کیلئے کیا جا رہا ہے آئینی کمیٹی یا کوئی بھی فورم آج بھی رائے شماری کرا کے جی بی کے عوام ۱۹۴۷ کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے بلا مشروط اعلان کے بعد سے اپنے کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں اور آئینی طور پر پاکستانی بننا چاہتے ہیں اور آئینی حیثیت کے تعین کیلئے قائم آئینی کمیٹی سے مکمل آئینی صوبہ چاہتے ہیں اور اس سے کم تر کوئی چیز قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں .ان خیالات کا اظہار شیخ مرزا علی نے آئینی کمیٹی کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا جس میں سرتاج عزیز صاحب کے حوالے سے یہ بیان سامنے آیا کہ جی بی کو آئینی صوبہ بنانے سے مسئلہ کشمیر متاثر ہوتا ہے اور مزید کہا کہ ایسے حالات میں جب سی پیک عالمی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے اور بہت سے ممالک اس میں شمولیت کے خواہشمند ہیں ایسے میں سی پیک کے گیٹ وے گلگت بلتستان کو آئینی تحفظ نہیں دیا گیا تو سی پیک کی افادیت متاثر ہونے کے ساتھ جی بی کے عوام میں مایوسی پھیل جائے گی اور سوچنے پر مجبور ہو جائنگے کہ بھارت کشمیر میں کشمیریوں پر تاریخ کے بد ترین مظالم روا رکھتے ہوئے بھی اپنے آئین میں ترمیم کر کے جموں کشمیر کو آئینی تحفظ دے سکتی ہے تو پاکستان اپنے ہاتھوں سے جی بی کو متنازعہ کیوں بنا رہا ہے . اگر کوئی بھی فرد جی بی کا معاملہ عالمی عدالت میں دائر کرتا ہے تو عدل و انصاف کے تقاضوں کے مدنظر فیصلہ کس کے کے حق میں دیا جائے گا ؟ اور اگر آئینی کمیٹی کے مطابق جی بی مسئلہ کشمیر کا حق ہے تو ۱۹۷۲ میں جموں کشمیر لاز کو گلگت بلتستان سے کیوں ہٹایا گیا ؟