قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے وفاقی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ فضاء اور عوام زمین پر ہیں ،اس کے اثرات کچھ روز بعد دیکھنے میں آئیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ بجٹ نے عوام کو مایوس کیا ہے اس سے طبقاتی تفریق میں اضافہ ہو گا اور عام آدمی کے مسائل بڑھ جائیں گے۔علامہ ساجد نقوی کا کہناتھا کہ حکومت کی طرف سے جای کردہ بجٹ 2016-17میں معیشت کے مسائل اور شرح نمو کی بہتری کیلئے کوئی اقدامات نہیں اُٹھائے گئے ۔بجٹ زیادہ تر پچھلے بقایا جات اور نئے انتظامی اخراجات کا گورکھ دھندا ہے اس میں کسی بھی طرح کی سمت کا تعین نہیں کیا گیا ،اس بجٹ سے غریب مزید غریب اوراشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو جائے گااور عوام پر بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ہمارا ملک غیر ملکی قرضوں میں جکڑا ہو ا ہے اورہر سال غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے وزیر خزانہ کی جانب غیر ملکی قرضوں سے نجات کا کوئی ٹھوس پلان نہیں دیا گیا اور حکومت بجٹ میں اپنے معاشی اہداف حاصل نہیں کر سکی ۔ اس بجٹ میں تعلیم اور صحت کے شعبہ میں ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں صرف اور صرف مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچے گا۔