تازه خبریں

تکفیری و تخریبی مائنڈ سیٹ کے خاتمہ تک ملک میں پائیدار امن ممکن نہیں ،قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی

تکفیری و تخریبی مائنڈ سیٹ کے خاتمہ تک ملک میں پائیدار امن ممکن نہیں ،علامہ ساجد نقوی ڈیرہ اسما عیل خان کی جیل توڑنے ،ٹارگٹ کلنگ اوراویس شاہ کی بازیابی کی تحقیقات منظر عام پر لائے جائیں ،قائد ملت جعفریہ پاکستان ٹانک کے راستے شدت پسندوں کی آمد و رفت اور ڈیرہ اسماعیل میں جیل توڑنا اورٹارگٹ کلنگ کی کاروائیاں حیران کن ہی

 راولپنڈی /سلام آباد 20 جولائی2016 ء ( جعفریہ پریس)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سجادعلیشاہ کے صاحبزادے اویس شاہ کی ٹانک کے علاقے سے بازیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ متعدد چیک پوسٹس کے باوجود ٹانک کے راستے شدت پسندوں کی آمد و رفت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں تکفیری و تخریبی مائنڈ سیٹ کی جانب سے مسلسل دہشتگردی و ٹارگٹ کلنگ کی کاروائیاں حیران کن ہیں،اگر قانون نافذ کر نے والے ادارے ڈیرہ اسما عیل خان کی جیل توڑنے اورٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد کا سراغ لگاکر انہیں قانون کی گرفت میں لے کر تختہ دار پر لٹکاتے ،اور ان افراد کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کا چہرہ عوام کے سامنے لاتے اور پس پردہ حقائق عوام کو بتاتے توآج ملک میں تکفیری و تخریبی مائنڈ سیٹ رکھنے والوں کے ہاتھوں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے صاحبزادے کے اغواء جیسے واقعات رونما نہ ہو تے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ اسلام امن و آشتی اور روداری کا درس دیتاہے ہم نے ہر سطح پر امن و امان کے قیام کیلئے قربانیاں دیں اور ملک کی بقا کیلئے صبر و تحمل کا دامن ہا تھ سے نہیں چھوڑا، اور ہر سطح پر شدت پسندی کی نفی کی ہم اس ملک کے بانیان میں سے ہیں اور اسکے تحفظ اور بقا کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں کو ئی فرقہ واریت نہیں چند مٹھی بھر تکفیری عناصر ہیں جو ملک میں عدم استحکام پیدا کر نا چاہتے تھے ہم نے حکمت و دانشمندی سے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا اور ان کا اصل چہرہ قوم کو دکھایا ۔علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ چند مٹھی بھر شدت پسند تکفیری و تخریبی عناصر کے ہاتھ ڈیرہ اسماعیل خان سمیت ملک بھر کے دیگر شہروں میں مکین بے گناہ محب الوطن شہریوں کے خون سے آلو دہ ہیں۔ایک سازش کے تحت مکتب تشیع کے سینکڑوں بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا گیا ۔اگر قانون نافذ کر نے والے ادارے مخلص ہو کر ان کرائے کے قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو قانون کے شکنجہ میں لیتے اور انہیں کیفرو کردار تک پہنچاتے، اور ان کے آمد و رفت کے راستوں کو بند کرتے تو بہت سی قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا ۔علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا پاکستانی قوم حقائق جاننا چاہتی ہے کہ اتنے وسائل رکھنے کے باوجود وہ قانون نافذ کر نے والے ادارے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں یا کوئی اور وجوہات ہیں ؟ اور یہ قوم ریاست کے ذمہ داران سے یہ بھی پو چھنا چاہتی ہیں کہ اس ملک میں ،اغواء ،بھتہ خوری اورمکتب تشیع کاقتل و غارت کا بازار کب تک چلے گا؟