• علامہ شبیر حسن میثمی کی اسپیکر قومی اسمبلی
    راجہ پرویز اشرف سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات
  •  متنازعہ فوجداری ترمیمی بل کو یکسر مستردکرتے ہیں ، شیعہ علماءکونسل پاکستان
  • متنازعہ ترمیمی بل: علماء و ذاکرین مشاورتی اجلاس کل کراچی میں منعقد ہوگا
  • مقدس کتاب قرآن مجید کی بے حرمتی ی شدید مذمت کرتے ہیں سید راشد حسین نقوی
  • بزرگ علمائے تشیع نے متنازعہ ترمیمی ایکٹ کو مسترد کردیا اعلامیہ جاری
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ضلع ملتان کا ورکر کنونشن منعقد ہوا جس میں مولانا اعجاز حسین بھشتی ضلی صدر ملتان منتخب ہوئے
  • شیعہ علماء کونسل کی زیر نگرانی متنازعہ بل کے سلسلے میں مختلف جماعتوں کا اجلاس
  • علامہ اسد اقبال زیدی کا ضلع دادو کادورہ اسلامی تحریک کے کارکنان سے ملاقات
  • توہین کے متنازعہ بل کو مسترد کرتے ہیں علامہ رمضان توقیر
  • قومی اسمبلی میں متنازعہ قانون سازی کو مسترد کرتے ہیں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

تازه خبریں

دفاعی سلامتی کےساتھ داخلی سلامتی کےلئے بھی قوم متحد ہو،قائد ملت جعفریہ پاکستان ساجد نقوی

 ملکی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں ، دفاعی سلامتی کےساتھ داخلی سلامتی کےلئے بھی قوم متحد ہو، قائد ملت جعفریہ پاکستان ساجد نقوی ساجد نقوی
 قوم کو مختلف ایشوز پر منقسم کرکے ملک کو کھوکھلا کرنے کی سازشیںکی گئیں، پہلے کی طرح اب بھی قوم میں تفریق کا بیج بونے کی کوششیں کی جارہی ہیں جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے، قائد ملت جعفریہ پاکستان کا یوم دفاع پر پیغام
سیلاب سے پورا ملک متاثر ، سیلاب متاثرین کی امداد کےلئے حکومت سمیت تمام رفاہی، فلاحی، مذہبی اداروں و تنظیموں کی کاوشیں لائق تحسین، آخری متاثر شخص کی بحالی تک اسی جذبے کےساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان
 راولپنڈی /اسلام آباد5 ستمبر2022 ء ( جعفریہ پریس پاکستان )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی 6ستمبر یوم دفاع کے موقع پر کہتے ہیںکہ اس وقت پاکستان داخلی اور خارجی لحاظ سے بہت سے ایشوز سے نبرد آزما ہے، ہمسایہ ملک افغانستان میں تاحال مکمل طور پر امن نہیں آیا تودوسری طرف بھارت کےساتھ حالات اب تک معمول پر نہیں ، دوسری طرف ہر کچھ عرصہ بعد سفاک عناصر کسی نہ کسی حیلے سے بد امنی پھیلانے کی سازش کرتے ہیں یا دیگر بہانوں سے تقسیم کرنے کی کوششیں کرتے ہیں جنہیں متحد ہوکر ناکام بنانے کی ضرورت ہے، اس وقت پورا ملک موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں تاریخ کے ہولناک سیلاب کی زد میں ہے، اب تک حکومت سمیت رفاہی، مذہبی اور فلاحی تنظیموں اور اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں البتہ اب بھی لاتعداد افراد امداد کے منتظر ہیں آخری شخص کی بحالی تک اس جذبے کےساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 6ستمبر یوم دفاع پاکستان کے موقع پر دفاع وطن اور پاکستانی عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر قربانیاں دینے والی مسلح افواج ،شہدا اور غیور عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہاکہ پاکستان روز اول سے ہی شدید ترمشکل حالات سے نبرد آزما ہے اور 75 سال میں اس پاک سرزمین نے جنگوں، ملک کو دولخت ہونے، دہشت گردی، گروہی تعصبات جیسی آفتیں دیکھیں وہیں سیلاب، زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات کا بھی سامنا کیا البتہ چھ ستمبر کا دن یوم تجدید عہد ہے کہ ہمیں اپنے دشمنوں کےخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا ہوناہے اس کےلئے بابائے قوم کے فرمودات”اتحاد،ایمان، تنظیم “ کے ماٹو پر عمل کرتے ہوئے متحدہوکر ان داخلی اور خارجی مسائل کا سامنا کرنا ہوگا ۔ پاکستان کو دفاعی لحاظ سے مضبوط بنانے کےلئے ضروری ہے کہ اسے داخلی اور معاشی طور پر مضبوط کیا جائے اورآئین و قانون کی بالادستی کےساتھ بیرونی اور عارضی سہاروں کی بجائے اپنے بل بوتے پر کھڑا ہونا ہوگا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سیدساجد علی نقوی نے مزید کہاکہ ا س وقت پاکستان داخلی اور خارجی لحاظ سے بہت سے ایشوز سے نبرد آزما ہے، ہمسا یہ ملک افغانستان میں تاحال مکمل طور پر امن نہیں آیا جس کے اثرات بہرصورت پاکستان پر پڑتے ہیں تودوسری طرف بھارت کےساتھ حالات اب تک معمول پر نہیں کیونکہ آج تک تصفیہ کشمیر جوں کا توں ہے بلکہ بھارت آج بھی مظلوم کشمیریوں پر مختلف حیلے بہانوں سے ظلم کے پہاڑ توڑ رہاہے، بنیادی انسانی حقوق کونہ صرف سلب بلکہ پامال کیا جارہاہے توادھر ملک کے اندر ہر کچھ عرصہ بعد سفاک عناصر کسی نہ کسی حیلے سے بد امنی پھیلانے کی سازش کرتے ہیں یا دیگر بہانوں سے تقسیم کرنے کی کوششیں کرتے ہیں جنہیں متحد ہوکر ناکام بنانے کی ضرورت ہے ۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ملکی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں، موجودہ حالات میںحکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں موجود بحرانوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور ہر معاملے پر ملکی سلامتی و مفاد کو اولین ترجیح دیں، آئین و قانون کی بالادستی قائم کریں ۔ اس موقع پر انہوںنے ایک مرتبہ پھر سیلاب سے متاثرہ بھائیوں کیلئے جاری کاموں کو مزید تیز تر کرنے کے ساتھ ساتھ آخری متاثرہ شخص کی بحالی تک اسی جذبے کے تحت کام جاری رکھنے پر زور دیا۔