جعفریہ پریس – کراچی میں ہونے والے NA246 کے ضمنی انتخابات اور قومی ایکشن پلان کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی- علامہ شبیر حسن میثمی، علامہ جعفر سبحانی، علامہ فیاض مطہری، علامہ کرم الدین واعظی اور برادر حسنین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید ناظر عباس تقوی جنرل سیکرٹری شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ نے کہا کہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کراچی ڈویژن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جسمیں کراچی کی موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پاکستان کراچی(سندھ) نےNA246 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں کسی بھی امیدوار کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور کل میڈیا پر چلنے والی شیعہ علماء کونسل پاکستان کی غلط خبرکی تردید کرتے ہیں کہ شیعہ علماء کونسل پاکستان نے کسی جماعت کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور میڈیا کو بھی کہتے ہیں کہ کوئی خبر چلانے سے پہلے اس کی تحقیق و تصدیق کر لیا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ووٹ ایک قومی امانت ہے عوام کو چاہئے کہ ایسے امیدوارکو ووٹ دیں جو عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو کیونکہ شہرکراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اور اسوقت کراچی مختلف مسائل سے دوچار ہے جس میں بنیادی مسائل دہشتگردی، بجلی، گیس، پانی وغیرہ ہیں- ہم امید کرتے ہیں کہ عوام ایسے ایماندار اور دیانتدار شخص کو ووٹ دیگی جو کراچی کی عوام کو ان مسائل سے نکالنے کی کوشش کرے۔
سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل سندھ نے کہا کہ قومی ایکشن پلان بننے کے باوجود کراچی میں وقفہ وقفہ کے ساتھ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے بیگناہ عوام اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ دیگر اداروں کے لوگوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے قومی ایکشن پلان بننے کے بعد سانحۂ شکارپور جیسے دلخراش واقعات قومی ایکشن پلان پر سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ شکارپور کو ہوئے کئی ماہ گزرگئے لیکن تاحال حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے ادارے دہشتگردوں کو بے نقاب کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں ۔ اب تک عوام کو حقائق نہیں بتائے گئے کہ ان واقعات کے پیچھے کون سے گروہ ہیں؟ اور کونسی طاقتیں ملوث ہیں؟ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے اور بیوقوف بنایا جا رہا ہے اور لاؤڈسپیکر ایکٹ کی آڑ میں بیگناہ عوام ،علما اور مساجد انتظامیہ پر جھوٹے مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں۔ اب تک سندھ کے متعدد اضلاع میں علما، خطبا و ذاکرین پر جھوٹے مقدمات قائم کئے جا چکے ہیں جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں لاؤڈسپیکرایکٹ کی آڑ میں حکومت عزاداری سید الشہداء کو روکنے کے اقدامات کر رہی ہے عزاداری سید الشہداء ہماری شہری آزادی کا مسئلہ ہے اور ہمارا آئینی و قانونی حق ہے پاکستان کا کوئی قانون ہمیں عزاداری سید الشہداء برپا کرنے سے نہیں روک سکتا۔
سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل سندھ علامہ سید ناظر عباس تقوی نے کہا کہ گذشتہ روز خیرپور میں بلائی جانے والی ایس۔ایس۔پی کی میٹنگ میں شیعہ علماء اور عمائدین کو کہا گیا کہ آپ خیرپور شہر میں مختلف مقامات پر نصب علم پاک کو اتاردیں۔ علم پاک کا صرف شیعوں میں احترام نہیں بلکہ برادران اہلسنت میں بھی احترام و تعظیم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ بھی اپنے گھروں پر علم نصب کرتے ہیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عزاداری سید الشہداء ، محفل و میلاد اور درود و سلام کو لاؤڈاسپیکر ایکٹ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور خیرپور میں کسی علم پاک کو نقصان پہنچا، یا ہٹایا گیا تو اسکی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہوگی اور اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہم پورے سندھ میں احتجاجی تحریک کا آغاز کریں گے۔