قائد ملت جعفریہ : عالمی امن صرف ایک دن مختص کرنے سے نہیں عملی اقدامات اٹھانے سے آئیگا

عالمی امن صرف ایک دن مختص کرنے سے نہیں عملی اقدامات اٹھانے سے آئیگا، ساجد نقوی
جنگیں مسائل کا حل نہیں بلکہ انسانی المیوں کو جنم دیتی ہیں،جب تک محکوم و مقبوضہ خطوں اور عوام کے بنیادی شہری حقوق کی فراہمی یقینی نہ بنائی جائے عالمی امن کے قیام کا دعویٰ بے بنیاد رہےگا، قائد ملت جعفریہ پاکستان
اسلام آباد20 ستمبر 2021 ء (جعفریہ پریس ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں عالمی امن صرف ایک دن مختص کرنے سے نہیں عملی اقدامات اٹھانے سے آئیگا، دنیا نے دیکھ لیا جنگیں مسائل کا حل نہیں مزید مسائل پیدا کرتی ہیں،کئی ممالک ان مسائل کا بڑا ثبوت ہیں ، جب تک عالمی سطح پر، ریاستی سطح پر اور معاشرتی سطح پر محکوم عوام کو بنیادی حقوق فراہم نہیں کئے جاتے، جب تک غاصب ریاستیں کشمیر وفلسطین جیسے خطوں کو ہٹ دھرمی و ظلم و جبر کا شکار کرنا بند نہیں کرتیںجنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے اور عالمی امن کے قیام کوخطرات رہیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے عالمی یوم امن پر اپنے بیان میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ صرف ایک دن مختص کرنے سے دنیا میں امن قائم نہیں ہوگا اس سلسلہ میںٹھوس اقدامات اٹھانے ہونگے، جنوبی ایشیا میں مسئلہ کشمیر اور مشرق وسطیٰ میں مسئلہ فلسطین عالمی اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے دنیا نے جبر و ظلم کے ساتھ اور اقتدار کے نشے میں چورہو کرریاستوں پر چڑھ دوڑنے کا انجام دیکھ لیا کہ جنگیں مزیدمسائل پیدا کرتی ہیں، انسانی المیے جنم دیتی ہیں۔طاقت کے نشے میں کس کس طرح سے انسانیت کو امن کے دل فریب نعر وںکے ساتھ تہہ تیغ کیا گیامگر افسوس اب ایک نئی گیم کے ذریعہ اسرائیل کےلئے راستہ ہموار کیا جارہاہے ،جس سے خود اسلامی دنیا میں خلیج بڑھ گئی ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہاکہ جب تک عالمی سطح پر ، ریاستی سطح پر اور معاشرتی سطح پر محکوم عوام کو بنیادی حقوق فراہم نہیں کئے جاتے ، جب تک بھار ت واسرائیل جیسی غاصب ریاستیں مظلوم کشمیریوں وفلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھاتی رہیں گی تو دنیا میں پائیدار امن کاقیام ناممکن رہے گا؟ جب تک اقوام متحدہ طاقت ور ملکوں کی باندی کا کردار ادا کرے گی اور ماسوائے مذمت و ایام مختص کرنے کے کوئی عملی اقدام نہ اٹھائے گی تو امن صرف خواب ہی رہے گا۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کے امن کو بھی تہ و بالا کرنے کی سازش کی گئی مگر ہم نے اتحاد و وحدت کا پرچم بلند کرتے ہوئے اس سازش کو ناکام بنایا ، ریاست کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آزادی اظہار کے ساتھ بنیادی شہری حقوق کےلئے اقدامات اٹھائے کیونکہ معاشروں کے پائیدار امن میں شہری آزادیوں کا کردار مسلّم ہے۔