قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کاچہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر پیغام
راولپنڈی / اسلام آباد28 اکتوبر2018 ء(جعفریہ پریس)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے نواسہ رسول اکرم ‘ فرزند علی و بتول ؑ ‘ محسن انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام و شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد اور واقعہ کربلا سے الہام لینے اور استفادہ کرنے کا سلسلہ61 ھجری سے آج تک جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا دنیا میں حریت پسندی کی ہر تحریک کربلا کی مرہون منت نظر آتی ہے اور دنیا کی تمام حریت پسند تحریکیں امام حسینؑ کی شخصیت سے متاثر نظر آتی ہیں۔ دور حاضر میں بھی دنیا کے مختلف حصوں میں آزادی‘ استقلال اور حریت پر مبنی تحریکیں بھی کربلا اور حسینیت سے استفادہ کررہی ہیں اور ظلم و تجاوز کے خلاف حسینی عزم کے ساتھ جدوجہد کررہی ہیں۔ چونکہ معاشرے کے اجتماعی مسائل کے حل اور معاشرے میں انقلابی تبدیلی لانے کے لئے ایک مشن کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے امام حسینؑ کی جدوجہد کو ایک مشن کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ نواسہ رسول اکرم حضر ت امام حسین علیہ السلام نے صحرائے کربلا میں اپنے اصحاب و انصار سمیت شہادت کے درجے پر فائز ہوکر اسلام اور انسانیت کی بقاءکا انتظام فرمادیا۔ آپ کی جدوجہد اور مشن کا مرکزی نکتہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور دین محمدی کو یزیدی فکر‘ یزیدی اقدامات اور یزیدی نظام سے محفوظ رکھنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا کے سفر کے دوران متعدد خطبات میں آپنے اپنے قیام کے مقاصد اور اپنے سفر کی وجوہات کا تفصیل سے تذکرہ فرمایا تاکہ دنیائے انسانیت اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ امام عالی مقام اپنی ذاتی خواہشات یا خاندانی و گروہی مفادات کے لئے برسرپیکارہیں بلکہ دین اسلام‘ شریعت محمدی ‘ انسانی اقدار اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل اور پرعزم ہیں۔ اور اپنے موقف و نظریے میں اس قدر راسخ ہیں کہ تمام دنیاوی مشکلات حتی کہ شہادت بھی قبول کرنے کے لئے آمادہ و تیار ہیں۔امام حسین ؑ کی شہادت اور واقعہ کربلا کی یاد منانے کے لئے صدیوں سے پوری دنیا میں ”عزاداری سید الشہداء“ کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے مسلمان حتی کہ انسان اپنے اپنے طریقے سے عزاداری مناتے ہیں اور امام حسین ؑ کی لافانی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ برصغیر پاک و ہند میں صدیوں سے عزاداری کا سلسلہ جاری ہے لیکن اب پاکستان اس حوالے سے مرکز و محور بن چکا ہے اور کروڑوں فرزندان اسلام پورا سال بالعموم اور ایام محرم میں بالخصوص عزاداری کی محافل اور مجالس منعقد کرتے ہیں چونکہ عزاداری سید الشہداءجبر کے خلاف جہاد کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے اور اس سے انسان کے ذاتی رویے سے لے کر اجتماعی معاملات میں انقلاب رونما ہوتا ہے۔
لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ عزاداری کے دوران وحدتِ امت کا خاص خیال رکھیں ، زیادہ سے زیادہ اتحاد و وحدت کو فروغ دیں اور مثبت اقدامات میں تعاون کریں۔ عزادری کے دوران ایک دوسرے کے عقائد و نظریات کا احترام کریں اور تحمل ، برداشت اور تعاون کا ماحول پیدا کریں۔ دنیا کے سامنے تشیع کا روشن چہرا پیش کریں اور تشیع کے عقائد جو بلکل واضح ہیں ان کو ہر قسم کی آلودگی سے پاک رکھتے ہوئے صاف و شفاف انداز میں دنیا کے آگے پیش کریں۔ یہ مجلسیں اور جلوس امام حسین علیہ السلام سے منسوب ہیں ، امام حسین علیہ السلام میں کشش اور جاذبیت ہے ان مجالس اور جلوسوں میں بھی کشش اور جاذبیت ہونی چاہیے۔ یہ مجالس و جلوس باعثِ ہدایت ، رہنمائی و پیشرفت اور ذریعہ قوت و طاقت ہوں۔اربعین امام حسین علیہ السلام کے اس اجتماع کو شہداءکربلا کی عظیم قربانی کی یاد اور آپ کے نظریات ، موقف اور تعلیمات کی ترجمانی کے عنوان سے منعقد کیا جائے اور اپنی زندگیوں کو امام عالی مقام کی سیرت و فرامیں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔