المیادین کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ اور امل موومنٹ کے اتحاد الامل و الوفاء کے تمام امیدواروں نے کل لبنان میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سوشل میڈیا نے حزب اللہ اور امل موومنٹ کے اتحاد کی کامیابی پر جشن منانے کی تصاویر بھی وائرل کی ہیں۔

لبنان کے وزیر داخلہ «نهاد المشنوق» Nohad Machnoukکا کہنا ہے کہ ووٹنگ کا تناسب 49.2 فیصد رہا۔

لبنان کی وزارت داخلہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق سینتالیس لاکھ چونسٹھ ہزار سے زیادہ لوگ پارلیمانی انتخابات میں رائے دینے کے اہل ہیں۔ لبنان میں پارلیمانی نظام حکومت قائم ہے اور صدر، وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان کا انتخاب، پارلیمانی انتخاب پر منحصر ہوتا ہے، لہذا لبنان کے اقتدار اعلی میں پارلیمنٹ کو مرکزی اور کلیدی حثیت حاصل ہے۔

لبنان میں انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انجام پاتے ہیں اور لوگ اپنے من پسند انتخابی پینل کو ووٹ دیتے ہیں اور ہر پینل کو ملنے والے ووٹوں کے تناسب سے پارلمینٹ میں نمائندگی حاصل ہوتی ہے۔

نئے انتخابی قوانین کے تحت ملک کے پانچ ریجنوں کو پندرہ انتخابی حلقوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ہر حلقے کی آبادی کے لحاظ سے نشستیں مقرر کی گئیں۔ علاقے میں آباد نسلی اور مذہبی اکائیوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے تقسیم کر دیا گیا ہے جس کا مقصد پارلیمنٹ کی 128نشستوں پر عیسائیوں اور مسلمانوں کو مساوی نمائندگی کا موقع فراہم کرنا ہے۔

دوسرے ملکوں میں مقیم لبنانی شہری پہلے ہی اپنے ووٹ کاسٹ کر چکے ہیں اور اس مقصد کے لیے متحدہ عرب امارات، عمان، سعودی عرب، قطر، کویت، مصر، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، آئیوری کوسٹ، نائیجیریا، برازیل ، برطانیہ اور فرانس میں قائم لبنانی سفارت خانوں میں ووٹ ڈالے گئے تھے۔

انتخابی عملے کے چودہ ہزار ارکان نے بھی جمعرات کو اپنے ووٹ کاسٹ کیے تھے۔

لبنان میں آخری بار انتخابات جون سن دو ہزار نو میں ہوئے تھے اور موجودہ پارلیمنٹ کی مدت سن دو ہزار تیرہ میں ختم ہو گئی تھی، تاہم ملک کی مخصوص صورتحال کے پیش نظر پارلیمنٹ کی مدت میں تین بار توسیع کی گئی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here