مشکلات کا حل صبرا ور عبادت میں ہے، انسان لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرے، آیت اللہ ریاض نجفی
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و قدرت پر یقین کامل رکھا جائے،اللہ ساتھ ہو تو ساری دنیا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی، خطبہ جمعہ
لاہور (جعفریہ پریس ) وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدرآیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ مشکلات کا حل صبرا ور عبادت میں ہے۔ انسان اپنی زندگی میں صبر و تحمل سے کام لے تو بہت سی مشکلات سے بچ جاتا ہے۔لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرے۔قرآن مجید میںایک دوسرے کو صبر کی تلقین کا حکم ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا آپ صبر کریں،رب کی حمد و تسبیح کریں۔زندگی میں اگر سختیاں و مصیبتیں آئیں تو صبر سے کام لینا چاہیئے۔وقت جلد گزر جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و قدرت پر یقین کامل رکھا جائے۔اللہ ساتھ ہو تو ساری دنیا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر میں خطبہ جمعہ میں انہوںنے کہا کہ اصل ٹھکانہ آخرت ہے۔اس کی تیاری کرنی چاہئے کیونکہ قرآن میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ دن اتنا سخت ہو گا کہ ماں باپ بھی اپنی عزیز ترین اولاد سے دور بھاگیں گے۔تمام عزیز رشتے ذرہ بھر بھی ایک دوسرے کی مدد نہ کر سکیں گے۔ہر اک کو اپنی پڑی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و قدرت پر یقین کامل رکھا جائے۔اللہ ساتھ ہو تو ساری دنیا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔زندگی و موت کا اختیار و علم فقط اللہ کے ہاتھ میں ہے۔حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ مشاہدہ ہے کہ کسی مریض کو بڑے بڑے ڈاکٹر لاعلاج قراردیتے ہیںاور چند دن میں موت سے ہمکنار ہونے کے خدشے کا اظہار کرتے ہیں مگر وہ آدمی کئی سال زندہ رہتا ہے جبکہ کتنے بظاہر تندرست صحیح و سالم لوگ بغیر کسی بیماری کے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ آیت اللہ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ 11 ذیقعد148ہجری رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کے آٹھویں جانشین حضرت امام رضا علیہ السلام کا یوم ولادت ہے جو کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کے ایک ماہ کے اندر پیدا ہوئے۔ امام علی رضا علیہ السلام کو اہل بیت پیغمبر کو متعارف کرانے کا موقع ملا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ امام رضا نے عباسی حکومت میں ولی عہدی کا منصب کیوں قبول کیا؟یہ اعتراض دراصل ان ہستیوں کی عظمت کا ادراک نہ ہونے کی بنا پر ہے۔ان کا کہنا تھاکہ حضور کی صلح حدیبیہ اور امیر المومنین علی کی صفین کی جنگ میں ثالثوں کو قبول کرنے پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے حالانکہ یہ معصوم ہستیاں ہیں ،ان کا ہر قول وفعل ہر قسم کی غلطی وخطا سے مبرا ہے۔ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ امام رضا کو جب مدینہ سے خراسان لے جایا جا رہا تھا تو نیشاپور میں تیس ہزار کے قریب مسلمانوں نے حدیث بیان کرنے کی درخواست کی۔آپ نے وہ مشہور حدیث بیان فرمائی جس کا سلسلہ روایت ان کے والد بزرگوار سے ہوتا ہوا حضرت جبرائیل تک پہنچتا تھا جنہیں اللہ نے فرمایا تھا کہ کلمةلا الہ الااللہ حصنی فمن دخل حصنی امن من عذابیکلمہ لا الہ الااللہ میرا قلعہ ہے جو اس قلعہ میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے مامون و محفوظ ہو گیا۔ پھر امام نے فرمایا لیکن اس کی شرائط ہیں اور اس کی ایک شرط میں ہوں۔یعنی میری اطاعت۔ اس حدیث کے سلسلہ کو سلسلة الذہب یعنی سنہری سلسلہ کہا جاتاہے جو ہر لحاظ سے معتبرترین ہے۔