• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

کراچی ائیرپورٹ پرحملے میں ١٩ پاکستانی شہید ہوئے جس پر پوری قوم غمزدہ ہے مگر تفتان باڈر پر٢٥پاکستانی بے دردی سے شہید کئے گئے ہیں اس کا کسی کو افسوس نہیں، عبدالقیوم چنگیزی

جعفریہ پریس۔ کوئٹہ یکجیتی کونسل کے قائم مقام چیئرمین حاجی عبدالقیوم چنگیزی نے کہا ہے کہ شیعہ علماء کونسل، ہزارہ قومی جرگہ اورکوئٹہ یکجہتی کونسل گذشتہ روزتفتان اورکراچی میں ہونے والے دلخراش واقعات کی بھرپورمذمت کرتی ہے، صوبہ بلوچستان میں شیعہ عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، کوئٹہ شہر اور اس کے گرد و نواح میں بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ لوگ شہید ہو چکے ہیں مگرحکومتوں کی تبدیلی کے باوجود کسی دہشت گرد کوآج تک گرفتارنہیں کیا گیا اورنہ ہی سزا دی گئی ہے، انہوں نے یہ بات منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ابراہیم ہزارہ، لیاقت علی ہزارہ، مبارک علی، حاجی طاہرنظری ،علامہ اکبرحسین زاہدی اوردیگررہنما بھی موجود تھے۔ حاجی عبدالقیوم چنگیزی نے مزید کہا کہ ایران اورعراق کی زیارات سے واپس آنے والے زائرین پرملک وعوام دشمن عناصر نے دستی بموں ، کلاشنکوفوں سے حملے کئے اورخودکش دھماکے کئے، اس وقت ہاشمی ہوٹل اورالمرتضی ہوٹل میں تقریبا٣٠٠ کے لگ بھگ زائرین موجود تھے، ڈیڑھ گھنٹے تک خون کی آزادانہ ہولی کھیلنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی منشاء ومرضی کے مطابق ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے رویے سے لگتا ہے کہ کوئٹہ تفتان روٹ پرزائرین کے لئے راستہ بند کرنا کسی خاص کرم فرما کی خواہش ہے اورساتھ ہی ڈیڑھ ارب ڈالرکا ایک خاصہ حکومت بلوچستان کوبھی مل گیا اس کے آثارآسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں اورجس تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے اس کے بیان سے واقعات کے عوامل آسانی سے سمجھ میں آجاتے ہیں، کوئٹہ شہر میں فرقہ واریت کی فضا کو پروان چڑھانے والی ایک شدت پسند تنظیم کے نفرت آمیز بیانات اوراس تنظیم پر صوبائی حکومت کے انعام و اکرام ،خندہ  پیشانی سے ان کا استقبال ایسی چیزیں ہیں جن سے حکومتی رویے اورانتظامیہ کی سنجیدگی کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، سیکورٹی کے نام پرمستونگ شہرمیں کرفیوکا نفاذ، ایک ساتھ بیس بیس بسوں کا قافلہ نکالنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال کالی ہے، کراچی ائیرپورٹ پرحملے میں ١٩ پاکستانی شہید ہوئے جس پر پوری قوم غمزدہ ہے مگر تفتان باڈر پر ٢٥پاکستانی بے دردی سے شہید کئے گئے ہیں اس کا کسی کو افسوس نہیں کیا یہ المیہ نہیں؟ اس حادثے میں خواتین شہید و زخمی ہوئی ہیں، افسوس کی بات یہ ہے ١٥گھنٹے گزرنے  کے بعد زخمیوں کوکوئٹہ منتقل کیا گیا اورتقریبا٢٠گھنٹے گزرنے کے بعد شہدا کے جنازوں کو لایا گیا، واقعے کے فورا بعد ہوم سیکرٹری بلوچستان سے رابطہ کر کے ہیلی کاپٹرکا مطالبہ کیا گیا، ہمارے مطالبے پرانہوں نے کان نہیں دہرے اور ہمارے مطالبات کو ٹھکراتے ہوئے زخمیوں کے زخم پرنمک پاشی کی گئی، بلوچستان حکومت اور مقامی انتظامیہ کی دوغلی اورمنافقانہ پالیسی سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس قتل وغارت گری پرانہیں کوئی خاص تشویش نہیں ہے ، چگیزی نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ٹوپی ڈرامہ ختم کیا جائے اور ہمارے لوگوں کوتحفظ فراہم کیا جائے ورنہ ہم ملک کے دیگرصوبوں کے اکابرین کے ساتھ مل کرصوبائی حکومت کے خلاف اقدامات اٹھانے پرمجبورہوجائیں گے-