تازه خبریں

کو ئٹہ میں دہشت گردو کی جانب سے خوا تیں کو شناخت کر کے قتل کرنادہشت گردی کی بد ترین کاروائی ہے(علامہ ناظر عباس تقوی)

کراچی(اسٹاف رپورٹر) شیعہ علماء کو نسل صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی کا کہنا ہے کہ کو ئٹہ میں دہشت گردو کی جانب سے خوا تیں کو شناخت کر کے قتل کرنااور پنڈی میں دوعزاداروکوشہید کرنا دہشت گردی کی بد ترین کاروائی ہے جس کی ہم پُروزالفاظ میں شد ید مذمت کر تے ہیں دہشت گردوکی یہ کاروائی قومی ایکشن پلان بنانے والوں کے لیے لمحہ فکر یہ ہے جس ملک میں دن ڈیہارے دہشت گرد خواتیں کو نشانہ بنا رہے ہوں اور سیکیورٹی فورسز کے ادارے ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر کر نے کے دعوے کر رہے ہو ں تو یہ کاروائیاں اُن کے دعوے پر سوالیہ نشان ہے ایک طرف دہشت گرد آزادانہ انداز میں عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنارہے ہیں اور دوسری طرف سیکیورٹی فورسز کے ادارے اور حکومیتں عوام کے بنیادی حقوق روکنے کے لیے اپنی طاقت کا نا جا ئز استعمال کر رہی ہیں اس ملک میں نہ کبھی کسی کو انصاف ملا ہے اور نہ ملے گا کہ جس ملک کے پا لیسی ساز ادارے ملک میں بیلنسنگ پالیسی کی سیا ست کر تے ہو جس میں ظالم اور مظلوم ،قاتل اور مقتول دونوں کو ایک ہی نظر سے ہکانا ہوتو اس ملک میں قانون کی کیا حیثیت ہے مکتب تشیع نے اس ملک میں اپنے پیاروں کے ہزاروں جنازے اٹھائے اور دوسری طرف قا تلوں نے اس ملک کی فضاء کو پُر تشدد بنایا اور پا کستان کی سالمیت پر حملہ کیا آج اُن دہشت گردو اور پُر امن محب وطن شہریوں کو بیلنسنگ پالیسی پر نہ رواں سلوک کا سامنا ہے قاتل قاتل ہوتا ہے اُس کو سزا دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور مقتول کے جان ومال کا دفاع کر نا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے لہذا آئین اور قانون پر عملدرآمد کیا جائے اور اس بیلنس کی پا لیسی کو ختم کیا جائے