شیخِ حرم
پروفیسر مظہرحسین ہاشمی
یہی شیخِ حرم ہے جوچراکربیچ کھاتاہے گلیمِ بوذرؓودِلقِ اویسؓ وچادرِزہراؑ
تاریخ کے اوراق میں سعودی عرب کاذکرپہلی جنگِ عظیم کے بعدملتاہے اوراِس کایومِ قیام 23ستمبر1932ء ہے۔ سب سے پہلے 1902ء میں عبدالعزیز بن عبدالرحمن ابنِ سعودنے 24سال کی عمرمیں اپنے25ساتھیوں کے ہمراہ عثمانیوں کی مددسے ریاض کے علاقوں پرقبضہ کر لیا۔ بعد میں 1913ء میں الاحصاء نخلستان کے علاقے پرقبضہ کیا۔پھر 1924/25ء میں حجاز(مکہ اورمدینہ) میں قتل وغارت گری کے بعدقبضہ کرلیا اور حجاز کا بادشاہ کہلاناشروع کردیا۔اِس بادشاہِ وقت نے آتے ہی 21جنوری 1925ء کو جنت البقیع میں4آئمہ علیہم السلام کے مقدس مزارات گراکریہودیوں کی سفلی اور ازلی خواہش کو پورا کر دیاجن کی تعمیرات 1818ء میں عثمانی خلیفہ عبدالمجیدنے کرائی تھیں۔اِسلام دشمنی صرف یہیں تک نہیں رُکی بلکہ مکہ میں خانہ کعبہ اورمدینہ میں مسجدنبوی کومجبوراً چھوڑکے قابل ذکر مزارات،مساجد ،گھراور قبور کومسمارکردیاگیا۔ جس میں جدہ میں اماں حواؑ کامزار، مدینہ میں رسول پاکؐ کے والد گرامی حضرت عبداللہ کی قبر،مسجد سلمان فارسی ، مسجد رجعت الشمس ،بیت النبیؐ، بیت الحزن، بیت امام جعفرالصادق، مکہ میں رسول پاک کی والدہ گرامی بی بی آمنہ اور زوجہ محترمہ خدیجتہ الکبری کے مزار،چچاحضرت امیرحمزہ کاگھر، دادا حضرت عبدالمطلب اورشہدائے احداورنگہبان رسالت چچاحضرت ابوطالب کی قبور کو مسمار کر دیا گیا۔کچھ برس بعد1932ء میں ابنِ سعودنے نجداورحجازکی ریاستوں کو ملا کر مملکتِ سعودی عرب کی بنیادرکھی اورخودبادشاہ بن گیا۔ صرف دو سال بعد1934ء میں یمن پرحملہ کرکے یمن کے تین سرحدی علاقوں جزان ،عسیراور نجران کے اڑھائی لاکھ مربع کلومیٹرکے وسیع وعریض علاقے پر قبضہ کر لیا ۔ 1938ء میں تیل دریافت ہوااورامریکہ کی کمپنی کے ساتھ مل کر پیداوار شروع کی اورابھی تک طاغوت اورسامراج امریکہ سے اِن کا چولی دامن کاساتھ ہے۔ 1953ء میں ابنِ سعود77سال کی عمرمیں وفات پاگیا۔اُس کی وفات کے وقت اُس کی 17بیویوں سے 44 میں سے35شہزادے موجودتھے۔شاہ سلمان اُسی ابنِ سعودکے78 سالہ فرزندہیں۔ویسے آلِ سعودکے شہزادوں کی کل تعداد 7 ہزار سے تجاوزکرچکی ہے۔موجودہ سعودی عرب کی سرحدیمن کے ساتھ 1307 کلومیٹر،عراق کے ساتھ811 کلومیٹر، اُردن کے ساتھ 731 کلو میٹر، اومان کے ساتھ 658کلومیٹر، متحدہ عرب امارات کے ساتھ 457کلومیٹر ،کویت کے ساتھ 221کلومیٹر،قطرکے ساتھ 87کلومیٹراور ساحلی پٹی 2640 کلومیٹرپرمشتمل ہے۔جس انسانی غلامی کوختم کرنے کیلئے رسولؐ عربی تشریف لائے تھے اُسی نبی ؐکے آبائی وطن سعودی عرب میں 1962ء تک غلام بنانے کارواج رہا۔ سرکاری طورپرسعودی عرب میں98فیصد مسلمان ہیں اور15فیصد اہلِ تشیع آباد ہیں۔زیادہ تراہل تشیع مشرقی تیل کی دولت سے مالامال قطیف اوردمام کے علاقوں میں آبادہیں مگر اِن کے ساتھ پورے سعودی عرب میں امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اورتیسرے درجے کاشہری تصور کیا جاتا ہے۔یہ سعودی قوم82کروڑروپے کی سگریٹ اورتمباکوایک دن میں پی جاتی ہے ۔تیل ، سونے اورحج وعمرہ سے اِتنی کمائی ہوتی ہے کہ شاہی خاندان51ارب روپے صرف ایک ڈاکومینٹری فلم Death of Princess کی ریلیز رکوانے کی ناکام کوشش پرصرف کر دیتا ہے جو1978ء میں شاہ فہدکی طلاق یافتہ بھتیجی مشاعل اورایک عام سعودی جوان کے تعلق اوراُن دونوں کے غیرت کے نام پرہونے والے شاہی قتل کوبے نقاب کرنے کیلئے بنائی گئی تھی۔ویسے تویہ بادشاہ ہی ہیں اوررہتے بھی عظیم الشان اورپرتعیش محلات میں ہیں لیکن 1985ء سے اِنہوں نے بادشاہ کی بجائے “خادمِ حرمین شریفین” کہلواناشروع کیا۔سعودی عرب میں جلاوطنی کے زمانے میں شہباز شریف کوبھی یہ خادم کالفظ تنااچھالگاکہ اُنہوں نے بھی خودکوخادمِ اعلی ٰ کہلاناشروع کر دیا۔ہوناتویہ چاہئے تھاکہ وہ ادنیٰ خادم کہلواتے لیکن معلوم نہیں وہ کونسی اعلیٰ مخلوق ہے جن کے وہ خادم ہیں۔اِن کالقب تبدیل کرنا یا اختیار کرنا ایسے لگتا ہے جیسے اِن جیسے ایک سیانے تاجرنے چیونٹیوں کودھوکہ دینے کیلئے چینی کی بوریوں پرنمک لکھ دیاتھا۔اِن خادمِ حرمین شریفین کی خدامی کااندازہ اِن واقعات سے لگالیں کہ جب سابقہ شیخِ حرم شاہ عبداللہ امریکہ سے 2011ء میں علاج کراکے واپس آئے تواپنے ساتھ 38کھرب روپے کے قیمتی تحائف بھی خریدکرساتھ لائے۔موجودہ شیخِ حرم پچھلے سال جب بحیثیت شہزادہ شاہی سیرسپاٹے پرمالدیپ تشریف لے گئے تواُنہوں نے مالدیپ کے تین جزیرے 19فروری سے15مارچ 2014ء تک 3ارب، 5کروڑ، 56لاکھ ،50ہزارروپے میں صرف اپنے اوراپنے خصوصی مہمانوں کیلئے مکمل طورپر بُک کرائے تھے۔ ویسے اُن کے بھتیجے فہدبن نائف بھی اُن سے کم نہیں ،اُنہوں نے یونیورسٹی میں پاس ہونے کی خوشی میں 2ارب 3کروڑ51لاکھ پراپنے خاص مہمانوں اور80رقاصاؤں کیساتھ پیرس کے مشہورزمانہ ڈزنی لینڈ کو 20 سے 24مئی 2013ء تک صرف اپنے لئے بُک کرالیا تھا ۔ ایساوہ کیوں نہ کریں جب شاہی خزانے سے ابنِ سعود کے فرزندان کو 2 کروڑ 3 لاکھ 77ہزارروپے ماہانہ وظیفہ دیاجاتاہو اورذاتی کاروبار اور تیل کے کنوؤں سے آمدن اِس سے الگ ہو۔پاکستان میں بھی ہرسال ‘شکار’کی غرض سے عربی شہزادے مع لاؤلشکرکے تشریف لاتے ہیں ، معلوم نہیں پاکستان کوکیادیتے ہیں اور کیسے ،کس طرح اورکہاں لنگراندازہوتے ہیں کیونکہ یہاں ہربات خفیہ رکھی جاتی ہے اورکوئی معلوم کرنے کی کھوج کرے تو اُس کی کھوج کیلئے اُس کے لواحقین اورپسماندگان برسوں اُن عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہتے ہیں جنہیں سوموٹوایکشن لینے کیلئے کراچی میں ایک خاتون ایم پی اے کادوسری خاتون پریزائیڈانگ افسرکولگنے والاتھپڑتونظرآجاتاہے لیکن تین عشروں سے جاری شیعہ نسل کشی میں شامل ایک بھی خونی ہا تھ نظرنہیں آتا۔
یمن کیساتھ یہ ظلم کوئی پہلی بارنہیں ہورہا۔سب سے پہلے 1934ء میں بابائے سعودی عرب نے یمن پرحملہ کرکے یمن کے تین سرحدی تین علاقوں جزان کے 11,671مربع کلومیٹر،عسیرکے 81,000مربع کلومیٹر اور نجران کے ایک لاکھ پچاس ہزارمربع کلومیٹر پر قبضہ کر لیا ۔ اڑھائی لاکھ مربع کلومیٹرکا وسیع وعریض علاقہ ابھی تک واپس نہیں کیاگیا۔دوسری بارظلم اُس وقت ہواجب 1990ء میں عراق کے فوجی صدرصدام حسین نے کویت پرقبضے کی نیت سے اُس پر حملہ کیاتواُس وقت سعودی عرب نے کویت کی حمایت کی کیونکہ سعودی عرب کے بانی عبدالعزیزابن سعودنے بادشاہ بننے سے پہلے اپنی جلاوطنی کے کئی ماہ وسال کویت میں ہی گزارے تھے ۔یہ اوربات ہے کہ جب عراق نے 1980ء میں ایران پر حملہ کیاتھاتواُس وقت شیخینِ حرم بلکہ پاکستان (جنرل ضیاالحق)نے عراق کی حمایت کی تھی۔اب کیسے ممکن ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی ذاتی جنگ میں غیرجانبداررہ سکے؟بہرحال عراق کویت جنگ میں یمن کی طرف سے سعودی عرب کاساتھ نہ دینے کی پاداش میں سعودی عرب نے یمن کے10لاکھ سے زائدشہریوں کو فوری طورپرسعودی عرب سے نکال دیا۔یہ یمنی افراداپنے ملک یمن کیلئے 6کھرب 45ارب یمنی ریال کازرِمبادلہ سالانہ کماکربھیجتے تھے۔ اِسی طرح کی دھمکی یمن کے خلاف جنگ میں ساتھ نہ دینے کی صورت میں پاکستان کوبھی متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ ڈاکٹر انور محمد گارگیش کے ذریعہ دلوائی گئی ۔جس پروزیرداخلہ چوہدری نثاراحمد نے اِس دھمکی کو سفارتی آداب کے منافی اور پاکستانی عوام کی عزتِ نفس کی ہتک قراردیا۔تھوڑی سی تلخی مزید بڑھی توشریف برادران نے وزراء اوراعلیٰ فوجی عہدیداران کے ساتھ دوبارہ جاکر اپنے محسن و مربی سعودی شاہی خاندان کواُن کی حسب منشاراضی کر لیا۔پھر2009ء میں جب یمنی صدرعلی عبداللہ صالح کی فوجیں حوثی ملیشیاانصاراللہ کی انقلابی تحریک کوکچلنے کیلئے اُن پرشمالی یمن میں ظلم ڈھا رہی تھیں تواُس وقت بھی سعودی فورسزاِس کارخیرمیں کئی مہینوں تک حوثیوں کے ٹھکانوں پرملک کے اندرجاکربمباری کرتی رہیں۔ اب معزول صدرعلی عبداللہ صالح کوحکومت گنواکرہوش آیاہے اور اُس کی وفادارفوج اب حوثی انصاراللہ کے ساتھ مل کرسعودی و اتحادیوں کے فضائی حملوں اورالقاعدہ وداعش کے زمینی حملوں کامقابلہ اوردفاع کررہی ہے۔
26مارچ سے شروع ہونے والے اِس نام نہاد”فیصلہ کن طوفان آپریشن” میں سعودی عرب کی ڈیڑھ لاکھ فوج کے ساتھ اُس کی بحریہ کے 100، متحدہ عرب امارات کے 30، کویت کے 15، بحرین کے15، قطرکے 10، اردن کے 6اورسوڈان کے 3طیارے حصہ لے رہے ہیں۔مصرکے بحری جہاز سمندر میں مددفراہم کر رہے ہیں اور امریکہ اوراتحادی ممالک لاجسٹک اورانٹیلی جنس حمایت کے ساتھ جنگی طیاروں کوہوامیں ایندھن فراہم کررہے ہیں۔ پاکستان کے تعاون کے بارے میں عالمی کوریڈورمیں فوجیوں کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایٹمی میزائلوں کی سعودی عرب مننتقلی تک کی باتیں گردش رہی ہیں۔اسرائیلی بحریہ کے ڈائریکٹراورکمانڈراِن چیف شِن بیٹ نے اگست2012ء میں لائیوٹی وی پروگرام میں کہاتھاکہ ایران کے اثر و رسوخ کو مشرقِ وسطی ٰ میں روکنے کاایک ہی طریقہ ہے کہ ترکی، مصر، اُردن اورسعودی عرب پرمشتمل ایک سنی اتحادتشکیل دیاجائے جواُس کے مفادات کوزک پہنچائے ۔ گریٹر اسرائیل کے راستے میں حائل ایرانی اسلامی طاقت کوسرنگوں کرنے کیلئے خادمِ حرمین شریفین کی سربراہی میں اس یہودی خواہش کو 2سال بعد عملی شکل دے دی گئی ہے اوراپنے ملک کی ظالم حکومت کے خلاف لڑنے والی یمنی عوام پربلاتفریق بمباری جاری ہے اور کٹھ پتلی حکومت کے صدر منصورہادی ریاض میں سعودی شاہی مہمان بنے ہوئے ہیں جوکئی ماہ تک حوثی تنظیم انصاراللہ کے نرغے میں رہے اورفروری میں ایک سازش کے تحت صدارت سے اِستعفیٰ دیااورصنعاسے عدن چلے گئے اورتین دن بعد استعفیٰ واپس لے لیااوروہیں پر حکومتی دعوے شروع کردئیے۔سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹرمائیکل شے اورنے ایک ٹی وی انٹرویومیں کہاہے کہ جب داعش عراق میں بغدادکی طرف بڑھ رہی تھی اورشیعہ مسلمانوں کوماررہی تھی تو یہ بہت ہی زبردست اورشاندارتھاکیونکہ یہی ہماری ڈیمانڈتھی۔
اِس جنگ کومقدس اورمذہبی جنگ بنانے کیلئے مسلسل یہی پروپیگنڈہ کیاجارہاہے کہ یمنی حوثیوں نے حرمین شریفین یعنی خانہ کعبہ اورمسجدنبوی پرحملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔یہ دونوں حرم اِن دین فروشوں کیلئے سالانہ 32کھرب روپے کی خطیر آمدن کاذریعہ ہیں۔جوعزت واحترم یہ خانہ کعبہ اور مسجدنبوی کاکرتے ہیں وہ لاکھوں حجاجِ کرام اپنی آنکھوں سے دیکھ کرآتے ہیں۔ ہم جیسے ہزاروں افراد نے فیس بک پرایک سعودی فوجی کوخانہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگائے حجراسودپرجوتے سمیت پاؤں رکھے کھڑے دیکھاہے اورحال ہی میں بادشاہ سلمان بن عبدالعزیزکوخانہ کعبہ کے اندرکرسی پربیٹھے( اورجوتوں سمیت نمازپڑھتے ) دیکھاہے۔باقی رہی بات خانہ کعبہ کی تباہی کے حوالے سے بیان کی تووہ داعش کے سرغنہ عدنان شامی نے ٹوئٹ کرکے دیاتھاکہ مسلمان مکہ میں اللہ کی عبادت کرنے نہیں جاتے بلکہ پتھروں کی پوجاپاٹ کیلئے جاتے ہیں ،اِس لئے خانہ کعبہ کوگرادیناچاہیے۔اِسی ٹوئٹ پرہمارے ٹی وی چینلوں پرکئی اینکرزنے پروگرام بھی کئے اورسعودی عرب نے اِس سلسلہ میں احتیاطی تدابیربھی کیں کہ کہیں اپنی بلاداعش اپنے گلے نہ پڑجائے اورکھربوں ڈالرکمائی ہاتھ سے نہ نکل جائے۔
اِس سلسلہ میں سب سے زیادہ بڑاالزام ایران پریہ لگایاجاتاہے کہ وہ زیدی شیعہ حوثیوں کواستعمال کرکے جزیرہ نماعرب میں اپنا اثرورسوخ بڑھاناچاہتاہے اورسعودی عرب کے پہلومیں اپنی حلیف جماعت کی حکومت کاخواہاں ہے اوراُن کی دامے درمے سخنے قدمے مددبھی کررہاہے ۔حالانکہ ایران توفلسطینی تنظیم حماس کی بھی کھلم کھلامددکررہاہے جومکمل طورپر سنی تنظیم ہے ۔ اِس سے پہلے امام خمینی نے ماہ رمضان کے آخری جمعہ کوعالمی طورپریوم القدس قراردیاتھاجو ہرسال مظلوم فلسطینی بھائیوں سے اظہارِیکجہتی کے طور پر دُنیا بھر میںآج بھی منایاجاتاہے۔ایران نے 1992ء میں جاری یوگوسلاوین آرمی اورسرب فورسزکی یورپی سنی مسلم ملک بوسنیاکی جنگ میں بھی دل کھول کر مددکی تھی ۔ افغانستان جوکہ خالصتاً سنی دیوبندی ملک ہے کئی عشروں سے جنگ کی آگ میں جھلس رہاہے کے دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کوایران ابھی تک سنبھالے ہوئے ہے ۔جماعت اسلامی یعنی حزب اسلامی افغانستان کے رہنماء اورسابق وزیراعظم گلبدین حکمت یارکوکئی برس تک ایران نے سیاسی پناہ دے کر طالبان کے حملوں سے بچائے رکھا۔بلکہ اسامہ بن لادن کی ایک سعودی بیوی مع چھ بچوں کے کچھ عرصہ تہران میں رہے جنہیں پھرسعودیہ کے حوالے کیاگیا۔ یمن کی بات تویمن میں حوثی ملیشیازیدی شیعہ تو کہلاتے ہیں لیکن اُن کے عقائد اہلِ سنت کے زیادہ قریب ہیں اوروہ فقہ حنفی پرعمل کرتے ہیں ۔یہ اوربات ہے کہ وہ اذان میں حی علی خیرالعمل کہتے ہیں۔حسین بدرالدین حوثی جنہوں نے انصاراللہ تنظیم کی 1990ء میں بنیادرکھی تھی وہ اوراُن کے چھوٹے بھائی اورموجودہ رہنماعبدالمالک حوثی ایران میں مدرسہ قم میں دینی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں اورہوسکتاہے اِن پرایرانی اسلامی انقلابی اثرہو۔جبکہ اِن کے والد بدرالدین طباطبائی یمن کے نامور زیدی عالم تھے۔یہ شمالی یمن کے صوبہ اَمران کے گاؤں حُوث سے تعلق رکھتے ہیں ، اِسی وجہ سے حُوثی کہلاتے ہیں۔جب 2004ء میں حسین بدرالدین حوثی کی شہادت ہوئی تویہ گروہ ،تنظیم اورافراد حوثی کہلانے لگے۔شروع میں اِس تحریک میں اِس علاقے کے ایک سے دو ہزار افراد شامل تھے لیکن اب اِس میں ملک بھرسے ایک لاکھ سے زیادہ جنگجوشامل ہیں۔
یمن کے سابق صدرمنصورہادی کی آوازپرلبیک کہنے والے کعبہ کے پجاری بتاسکتے ہیں کہ اخوان المسلمون جو مصر میں ایک مذہبی اوردینی تنظیم ہے ،اُس کی حکومت کو امریکہ کے ساتھ مل کر کیوں ختم کیاگیا؟حسنی مبارک کے بعدپھر فوجی آمرجنرل السیسی کی تین کھرب روپے کی امداددے کر حکومت کیوں قائم کرائی گئی؟اخوان المسلمون تنظیم پرپابندی عائدکرکے معزول صدرمحمدمرسی اوراُن کے ایک سوجماعتی ساتھیوں کوپھانسی کی سزاکیوں سنائی گئی؟شرم کی بات ہے کہ شیخ حرم کے حالیہ حمایت یافتہ فوجی صدرالسیسی ابھی جرمنی کے دوروزہ دورے پرگئے ہیں جس میں اُن کے ساتھ مصرکی بدنامِ زمانہ 20اداکاراؤں اوررقاصاؤں کوخصوصی طورپرشامل کیاگیاہے۔یہ ایمان فروش بتاسکتے ہیں کہ برسہابرس سے اسرائیل جو مسلمانوں کیلئے دردسربناہواہے ، عرب ممالک نے 1967ء میں بری طرح شکست کھانے کے بعداِس کے خلاف دوبارہ اتحادبنانے اوراِسے خطے سے نکال بھگانے کاکبھی خواب دیکھا اورکبھی خلوت میں سوچا؟ برما میں موجود8لاکھ لاوارث روہنگیامسلمانوں پرجوبِیت رہی ہے اِس بارے میں ” خادم حرمین شریفین” نے خلیج کونسل اوراوآئی سی کے کانوں میں کبھی سرگوشی تک کی کہ برمامیں مسلمانوں کی نسل کشی ، اُن کی قومیت، اُن کی شہریت اوراُن کے حقوق کے حصول پرکوئی مذمتی بیان اورپالیسی جاری کی جائے۔
لگتایہی ہے یہ جنگ زیادہ دیرچلے گی اورکافی عرصے تک حوثیوں کوفضائی بمباری کاسامناکرناپڑے گاتاکہ اِس دوران یمن میں القاعدہ اورداعش کواضافی جگہ فراہم کی جاسکے اوراِس بات کے آثاربھی سامنے آناشروع ہوگئے ہیں۔یمن میں صوبہ ابین پرقبضہ کرنے کے بعد القاعدہ نے صوبہ حضرموت کے ساحلی شہرالمکلاپرکنٹرول حاصل کرلیاہے اوربنکوں میں موجود 23 ارب یمنی ریال بھی اپنے قبضے میں لے لئے ہیں ۔ساتھ ہی سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی علاقے قطیف اوردمام کی مساجد میں خودکش حملوں کاسلسلہ بھی شروع ہوچکاہے ۔یہ بات بھی ممکنات میں ہے اگربشارالاسدکوبھیجے گئے جنگجو گروہوں اورلشکروں سے نہ ہٹایاجاسکاتو یہی عمل شام میں بھی دہرایاجاسکتاہے کیونکہ عرب ممالک پرمبنی ایک مشترکہ فوج بنانے کابھی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ امریکہ اِس بارے میں پہلے ہی تصدیق کرچکاہے کہ سعودی عرب سالانہ 61کھرب روپے کااسلحہ خریدرہاہے اوروکی لیکس نے بھی انکشاف کیاتھاکہ پوری دنیامیں سنی دہشت گردوں کو سب سے زیادہ فنڈنگ سعودی عرب کررہاہے۔اس رپورٹ میں کہاگیاکہ پاکستان کے علاقے جنوبی پنجاب میں سالانہ 10 ارب روپے کی خطیررقم اہلحدیث اوردیوبندی علماء کے ذریعے انتہا پسندی کے فروغ پرخرچ کی جارہی ہے۔
اِس جنگ کاواحدمقصدایرانی مفادات کوزک اورنقصان پہنچاناہے۔یمن پرحملہ صرف اورصرف ایران کونیچادکھانے کیلئے کیا گیاکیونکہ عرب ممالک امریکہ کے ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے سے بہت زیادہ خائف ہیں۔اُن کاخیال ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں اپنااثرورسوخ بڑھا رہا ہے۔ سعودیہ سمجھتاہے کہ 2011ء سے ایران علاقائی مفادات کی جاری جنگ میں مسلسل جیت رہاہے۔شام میں داعش اورالنصرہ محاذجیسے ظالم اورخونخواردرندوں کی درندگی اورسفاکیت کے باوجود ایران کااتحادی بشارالاسد اب بھی حکومت کررہاہے، لبنان کی عیسائی حکومت اورسعدحریری کو 3ارب ڈالرکی خطیررقم کی امدادکے باوجودحزب اللہ اب بھی مضبوط اورطاقتورہے۔عراق میں داعش کو امریکہ اوراتحادیوں کی پس پردہ ہتھیاریوں کی فراہمی کے باوجودتکریت سے ذلت آمیزشکست نے سعودی بادشاہوں کے آرام میں خلل ڈالاہے۔امریکہ کیساتھ سیاسی کشش ثقل کامرکزبھی ایران کی طرف جاتادیکھ رہے ہیں۔سعودی عرب کو”عرب بہار”سے بھی کافی دھچکالگااورپھراپنے اندرمشرقی صوبوں اورشہزادوں میں بغاوت کے آثارنے امکانی خطرات کوجنم دیا۔سعودی عرب نے یمن پرحملہ کرکے ایران کوپیغام دیاہے کہ وہ اِس ریجن میں ایران کے مفادات پرڈھکے چھپے نہیں بلکہ اب کھل کرحملے کرسکتاہے اورعرب عوام اورشہزادوں کوبھی پیغام دیا کہ سلطنت کاتختہ الٹنے والوں کے خلاف ایکشن بھی لیاجاسکتاہے اورلیابھی جارہاہے اوربہت سے شہزادے جنہوں نے الزائمرمرض میں مبتلابادشاہ سلمان کی بیعت نہیں کی پیرس اورامریکہ کی طرف جارہے ہیں ۔لیکن سعودی عرب کایمن پرمسلسل بمباری کوطول دینااُس کیلئے بذات خودبھی خطرناک ہوسکتاہے اوروہ کب تک پل میں باخبرہونے والے گلوبل ویلج کو حرمین شریفین کے دفاع کی آڑمیں بے وقوف بناکرداعش اورالقاعدہ کے ہاتھوں بے گناہ مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہاتارہے گا۔
ایک طرف اِن بے ضمیروں نے یمنی حوثیوں پرحکومت کے باغی کاالزام لگاکرجنگ چھیڑی ہوئی ہے جبکہ اِنہوں نے ایک طرف2013ء میں مصرمیں مرسی کی منتخب شدہ حکومت کافوج کے ذریعہ تختہ اُلٹنے میں مکمل مدد کی جبکہ دوسری طرف بحرین میں 70فیصدی شیعہ آبادی کی انقلابی تحریک کوہمسایہ عرب ممالک اورپاکستان کے کرائے کے فوجیوں کے ذریعہ کچل دیاگیا۔اِسی طرح شام بھرمیں بشار الاسد کے خلاف جہادی گروپ تیارکئے گئے بلکہ اسلحہ ،تربیت، افراد اور فنڈزبھی مہیاکئے گئے۔امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے ہارورڈیونیورسٹی میں لیکچرکے دوران کہاتھاکہ” سعودی عرب اورامارتی بادشاہان ، سنی شیعہ جنگ میں اتنے زیادہ پرعزم ہیں کہُ انہوں نے کروڑوں ڈالراورلاکھوں ٹن اسلحہ اُن لوگوں کودیاہے جواِس نام پردنیابھرسے لڑنے کیلئے آئے۔اُنہوں نے داعش کی تخلیق صرف اورصرف ایران اورشیعہ مسلمانوں کومارنے کیلئے کی ہے۔”
دیکھا جائے تومشرقِ وسطیٰ کئی برسوں سے ایک عظیم بحران کاشکارہے۔وہ بحران یہ ہے کہ اِس خطے میں زیادہ ترلوگ اب قوم پرستی کی بجائے مذہب اور نظریے کی طرف مائل ہورہے ہیں۔اِن معاشروں کوجوطاقت سب سے زیادہ نقصان پہنچارہی ہے وہ ہے فرقہ واریت۔اب دُنیاکے نامورتھنک ٹینک یہ سوچ اورپوچھ رہے ہیں کہ کیامصر،اُردن ،بحرین اورسعودی عرب تبدیلی کی اِس لہر کاسامناکرتے ہوئے اپنی مطلق العنانیت اورشہنشاہیت کوقائم رکھ سکیں گے؟