جو پالیسیاں معاشرے و مختلف طبقات پر اثرانداز ہوں ان پر تمام طبقات کو اعتماد میں لیا جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان
پاناما لیکس فیصلے بارے ایسی فضا قائم کی جائے تاکہ عدالتی ججمنٹ اپنا راستہ خود بنائے اور معاملہ منطقی انجام تک پہنچے، گفتگواسلام آباد 26 اپریل 2017 ء( دفتر قائد )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں ایسی پالیسیاں جو پاکستانی معاشرے اور مختلف طبقات پر اثرات انداز ہوتی ہیں ان پر تمام طبقات کو اعتماد میں لیا جائے،حالیہ دنوں میں بعض بین الاقوامی پالیسیوں پر بغیر اعتماد کے عملدرآمد کیا جارہاہے جس کے باعث کئی طبقات میں تشویش پائی جاتی ہے، پاناما لیکس بارے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے بعد اب ضرورت اس امر کی ہے ایسی فضاءقائم کی جائے تاکہ عدالت کا فیصلہ راستہ خود بنائے اور معاملہ منطقی انجام تک پہنچے ، یہی واحدراستہ ہے جس سے ملکی صورتحال میں ٹھہراﺅ پیدا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر تبصرہ اور مختلف سیاسی وفود سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو اور ان کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کیا ۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ بین الاقوامی سطح پرکچھ اقدامات وقوع پذیر ہو رہے ہیں جبکہ اس حوالے سے پاکستان بھی بعض حوالوں سے ان میں حصہ دار بن رہاہے لیکن بین الاقوامی سطح پر ذمہ داران کی طرف سے اس کا حصہ بننے کے فیصلے سے ملک کے کئی طبقات میں تشویش پائی جاتی ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے حوالے سے ایسی پالیسیاں جو پاکستانی معاشرے پر اور مختلف طبقات پر اثرات انداز ہوتی ہیں یا ہوسکتی ہیں ان پر تمام طبقات کو اعتماد میں لے کر پالیسی تشکیل دی جائے، حالیہ دنو ں میں بعض پالیسیوں پر عملدرآمد کیاگیا لیکن پاکستانی معاشرے کے کئی طبقات کو اعتماد نہیں لیاگیا، یہ معاملہ سب کے لئے باعث تفکر ہے کہ موجودہ صورتحال میں حکمرانوں کے ساتھ تعاون یا عدم تعاون کے سلسلے میں رویہ کیا ہونا چاہیے۔؟
علامہ سید ساجد علی نقوی کا پاناما لیکس بارے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے بارے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہاکہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے بعد بحث مباحثوں اور تنقید کا ایک طوفان برپا ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے کی روشنی میں ایسی فضاقائم کی جائے جس سے عدلیہ کے اس کے فیصلے کے اثرات کی روشنی میں یہ فیصلہ خود اپنا راستہ بنائے اور معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ کیونکہ ملکی صورتحال میں ٹھہراﺅ، بحث و مباحثہ اور تنقید کا خاتمہ بھی شائد تبھی ممکن ہے جب سنجیدگی کے ساتھ عدلیہ کے فیصلے کی روشنی میں اقدامات اٹھائے جائیںگے کیونکہ ملک کے مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے ، پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ، ذمہ داران صرف ایک ہی مسئلہ پر فوکس کرنے کی بجائے عوامی اہمیت کے حامل دیگر اہم ایشوز پر بھی سنجید گی سے غور اور جدوجہدکریں ۔