حکومت سکیورٹی کے بہانے سے شعائر تشیع کو محدود کرنے کا خیال دل سے نکال دے، شیعہ علما کونسل
اگر تعلیم اور تبلیغ جرم ہے تو اسے بار بار کریں گے، علامہ سبطین سبزواری کا اجلاس سے خطاب
لاہور( ) شیعہ علما کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے واضح کیا ہے کہ عزاداری سید الشہدا پر کوئی پابندی قبول نہیں، ماضی میں قربانیاں دے کر اسے زندہ رکھا آئندہ بھی ایسا ہی کریں گے۔حکومت سکیورٹی کے بہانے سے شعائر تشیع کو محدود کرنے اور ملت جعفریہ کو دبانے کا خیال دل سے نکال دے۔کسی قسم کی آمریت کا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیعہ علما کونسل گوجرانوالہ ڈویژن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں حکومت کی طرف سے طے شدہ مجالس عزا کے انعقاد میں سکیورٹی کے نام پر رکاوٹیں کھڑی کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی سینیر نائب صدر شیعہ علماکونسل مولانا موسیٰ رضا جسکانی پرروجھان میں مدرسے کا سالانہ جلسہ منعقد کرنے پر مقدمے درج کی مذمت کی گئی اور واضح کیا گیا کہ مدارس اسلام کے تبلیغی اور تعلیمی مراکز ہیں، اگر تعلیم اور تبلیغ جرم ہے تو اسے بار بار کریں گے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ حکومتی اقدامات غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں، انہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم پرامن شہری ہیں۔ اپنے مذہبی اور شہری حقوق کا تحفظ کریں گے۔مدارس دینیہ کے سالانہ جلسے ہوں، مجالس عزا یا جلوس کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ، چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں، یہ منعقد ہوں گے۔ حکومت دہشت گردی پر قابو پائے ، مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مجالس عزا میں رکاوٹیں دور کی جائیں گی اور ہر صورت میں منعقد ہوں گی۔ اس کے لئے چاہے جتنے بھی مقدمات در ج کرلئے جائیں، پرواہ نہیں۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بانیان مجالس اور ماتمی سنگتوں سے قریبی روابط کرکے عزاداری سید الشہد ا کو یقینی بنایا جائے گااور مسائل حل کئے جائیں گے۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا حکم ہے کہ عزاداری سید الشہدا شعائر تشیع اور مسلمہ رسم ہے، اس کے لئے آئینی اور قانونی طور پر ہمیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں، ہم پرامن شہری ہیں اور قانون کے احترام پر یقین رکھتے ہیں۔ سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ جعفریہ یوتھ اور شیعہ نوجوان پہلے بھی مجالس عزا کو سکیورٹی فراہم کرتے اور انتظامات میں حصہ لیتے ہیں ، پولیس کا کام سکیورٹی فراہم کرنا نہیں، رکاوٹیں کھڑی کرنا رہ گیا ہے، جس کی شدید مذمت کرتے ہیں کہ ریاستی ادارے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں سہولیات دینے کی بجائے تنگ کرنے پر لگ گئے ہیں۔علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ حکومت ہمیں دہشت گردوں سے نہ ڈرائے، یزید کی ریاستی دہشت گردی کا امام حسین علیہ السلام کی قیادت میں محبان اہل بیت نے مقابلہ کیا تھا، اب موجودہ یزیدوں اور فرعونوں سے بھی گھبرانے والے نہیں۔ ہماری تو تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ۔ اور عزاداری کے تحفظ میں جان کی قربانی سے بڑی سعادت کیا ہوسکتی ہے۔