رمضان توقیر صاحب ۱۹۵۴ء میں ڈیرہ اسماعیل خان کے ساتھ ایک گاؤں حاجی موہرہ میں پیدا ہوئے۔ والد گرامی کا نام غلام حیدر خان ہے بلوچ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں؛ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی سے حاصل کی۔ ان کے والد گرامی کو شروع سے ہی دینی تعلیم کا شوق تھا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے رمضان توقیر صاحب کو باب النجف جاڑا میں داخل کروا دیا۔ وہاں ان کے اساتذہ کرام میں محترم حاجی ناصر حسین حیدری، شہید اثیر جاڑوی اور علامہ غلام حسن جاڑا شامل ہیں جن سے آپ فیضیاب ہوئے۔ تقریباً ۱۹۷۵ء میں فاضل عربی کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد اپنے گاؤں میں بحیثیت پیش نماز تقریباً ۴، ۵ سال خدمات سرانجام دیتے رہے۔اس کے بعد حوزہ علمیہ قم میں تقریباً ۶ سال تعلیم حاصل کی۔ وہاں کے اساتذہ میں آیت اللہ فاضل لنکرانی، آقای کوہ قمرہ ای شامل ہیں۔واپسی مدرسہ جامعۃ النجف کی بنیاد انہوں نے خود رکھ کر خدمات انجام دیں۔رمضان توقیر صاحب اپنی زندگی میں سب سے زیادہ علامہ شہید عارف حسین الحسینیؒ سےمتاثر ہوئےہیں۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی قومیات میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ جب شیعہ مطالبات اور شیعہ مسائل کے حوالے سے بھکر کنونشن میں علامہ مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ کو چنا گیا تب سے تحریک جعفریہ کے ساتھ شریک کارواں ہوئے اور آج تک ملی خدمات میں لگے ہوئے ہیں۔
مومنین کے درمیان آپس میں پیدا ہونے والے اختلافات کو بخوبی حل کرانے اور ان کے درمیان صلح کرانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اتحاد بین المسلمین پر کامل یقین رکھتے ہیں؛ متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر بہت فعال رہے ہیں اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں تحریک جعفریہ پاکستان کا ایک مذہبی و سیاسی شناختہ شدہ چہرہ ہیں۔ آپ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ آپ تحریک جعفریہ کے صوبائی صدر رہے ہیں اور اچھے انداز میں اپنے صوبے کو چلاتےرہے ہیں؛ اس وقت بھی آپ ماشاءاللہ تحریک کے مرکزی نائب صدر ہیں۔ آپ کی نظر میں تحریک کے لئے بطور تنظیم، ترجیحات میں سے سب سے پہلی ترجیح تنظیم کو نچلی سطح تک منظم کرنا ، ملت تشیع کو زیادہ سے زیادہ منظم کرنا ، زیادہ سے زیادہ دشمن کی سازشوں سے آگاہ کرنا اور بیدار رکھنا سمجھتے ہیں۔
رمضان توقیر صاحب اپنی قوم کے نام پیغام دیتے ہوئے کہتے ہیں:
“میں ملت کا ایک کارکن ہونے کے ناطے عرض کروں گا کہ قوم قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا شانہ بشانہ ساتھ دے کیونکہ ہم ایک ایسے ساحل پر کھڑے ہیں جہاں ہمیں قائد محترم کی رہبری کے سائے تلے کاروان مہدیؑ کو رواں دواں رکھنا ہے تا کہ اس ملت مظلوم پرور کو موجودہ ناگہانی مشکلات سے نجات مل سکے۔ ہر قوم کی پہچان اس کے قائدین و رہبر ہوتے ہیں بلا شبہ شیعیان حیدر کرار کا سرمایہ افتخار فرزند زہرا، وقت کے یزید استعماری سامراج کے مخالف علامہ سید ساجد علی نقوی ہیں، شیعیان پاکستان کے ہر فرد کو چاہئے کہ تحریک جعفریہ کا حصہ بنیں۔” (مجلہ تحریک،ستمبر۱۹۹۷ء، ص۶۱)