مثبت جواب کے بعد 26اگست کے احتجاج کو فی الحال ملتوی کیا جاتا ہے دفتر قائد ملت جعفریہ
جعفریہ پریس : مورخۃ 23اگست 2018 کو آئین کے مطابق شہری آزادیوں ( مجالس عزا) میں رکاوٹیں ڈالنے کے پیش نظر 26اگست 2018 کو ملک بھر میں پر امن احتجاجی ریلیوں کا اعلان کیا گیا تھا۔
مثبت جواب کے بعد 26اگست کے احتجاج کو فی الحال ملتوی کیا جاتا ہے
اصل مسئلہ اپنی جگہ برقرار ہے انشاء اللہ شہری آزادیوں(مجالس عزا) کے تحفظ کی جدوجہد جاری رہے گی
دفتر قائد ملت جعفریہ
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں محرم الحرام سے پہلے مجالس عزا کے انعقاد پر مقامی انتظامیہ رکاوٹ بن رہی ہے جس کی وجہ سے عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کے آئین کے مطابق تمام مسالک اپنی مذپبی رسومات مکمل آزادی کے ساتھ مناسکتے ہیں اس کے لئے کسی قسم کی اجازت نامہ کی ضرورت نہیں مگر گزشتہ سالوں کی طرح اب بھی محرم الحرام سے پہلے مقامی پولیس تھانے مجالس عزا کے انعقاد میں رکاوٹ بن رہے ہیں جو مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی قانون اس قسم کی مذہبی پروگرامز کو روک نہیں سکتا نہ ہی کسی قسم کی پابندی کا اطلاق ہوسکتا ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلام کو بچانے کے لئے رسول اکرم ﷺ کے خانوادے نے جو تاریخ رقم کی اس کی یاد منانے میں پاکستان کا قانون کسی صورت رکاوٹ نہیں بن سکتا۔