تازه خبریں

یومُ القدس۔یوم اِسلام طاہرعبداللہ

بانیءِ پاکستان قائد اعظم نے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کیخلاف اْس وقت آواز اٹھانی شروع کی تھی جب پاکستان قائم بھی نہیں ہوا تھااورقیام پاکستان کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے تقسیم فلسطین کے فیصلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے بانی پاکستان نے بی بی سی کے نمائندے کو انٹرویودیتے ہوئے کہاتھاکہ برصغیر کے مسلمان تقسیمِ فلسطین کے متعلق اقوام متحدہ کے ظالمانہ ، ناجائز اور غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف شدید ترین لب و لہجہ میں احتجاج کرتے ہیں۔ ہماری حسِ انصاف ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم فلسطین میں اپنے عرب بھائیوں کی ہر ممکن طریقے سے مدد کریں۔ رائٹر کے نمائندے کو اْنہوں نے انٹرویومیں کہاتھا کہ مجھے اب بھی اْمید ہے کہ تقسیمِ فلسطین کا منصوبہ مسترد کر دیا جائے گا ورنہ ایک خوفناک ترین اور بے مثال چپقلش کا شروع ہو جانا ناگزیر اور لازمی اَمر ہے۔ یہ چپقلش صرف عربوں اور منصوبہ ءِ تقسیم کو نافذ کرنے والوں کے مابین نہ ہوگی بلکہ پوی ر اسلامی دنیا اِس فیصلے کے خلاف عملی طور پر بغاوت کرے گی کیونکہ ایسے فیصلے کی حمایت نہ تاریخی اعتبار سے کی جا سکتی ہے اور نہ سیاسی اور اخلاقی طور پر۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کے پاس اِس کے سوا اور کوئی چارہءِ کار نہ ہوگا کہ عربوں کی مکمل اور غیرمشروط حمایت کرے اور خواہ مخواہ کے اِشتعال اور ناجائز دست درازیوں کو روکنے کے لیے جو کچھ اْس کے بس میں ہے پورے جوش و خروش اور طاقت سے بروئے کار لائے۔لیکن افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ پاکستان نے اپنے قیام سے لے کراب تک قائداعظم کے فرامین کی روشنی میں عرب فلسطینی بھائیوں سے اظہاریکجہتی کیلئے اسرائیل کونہ صرف تسلیم نہیں کیابلکہ پاکستانی سبزپاسپورٹ پرلکھ دیاکہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سواتمام ممالک کیلئے کارآمدہے۔لیکن مصراورترکی جیسے نامورممالک اسرائیل کوتسلیم کرچکے اورکمزورمسلمان عرب ملک یمن پرمل کرچڑھائی کرنے والے سعودی عرب اور دبئی شارجہ جیسے نام نہادسرخیل عرب ممالک اندرون خانہ اسرائیل سے محبت کی پینگیں ڈال کراپنے لے پالک داعش اوردرجنوں شدت پسندلشکروں کے زخمیوں کاعلاج اسرائیل کے ہسپتالوں سے کرارہے ہیں۔

بدقسمتی سے فلسطین اب صرف دوحصوں میں بچ گیاہے ایک حصے کانام غزہ پٹی اوردوسرے حصے کانام مغربی کنارہ ہے جس میں بیت المقدس واقع ہے۔ قبلہ اول جس شہرمیں واقع ہے اْسے صدیوں پہلے عبرانی زبان میں بیت ہمقدش کہاجاتاتھا جوعربی زبان میں بیت المقدس بنااوریورپی زبان میں اِسے یروشلم کہتے ہیں۔ بیت المقدس یہودیوں، عیسائیوں اورمسلمانوں کیلئے بہت ہی مقدس اورلائق تکریم مقام ہے۔ یہودیوں کیلئے اِس لئے مقدس ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کاتعمیر کردہ معبد یہیں پرموجود ہے جوبنی اسرائیل کے انبیاء کاقبلہ تھا اوراِسی شہر سے یہودیوں کی تاریخ اورابتدابھی وابستہ ہے۔ ہیکل سلیمانی اْس خیمہ نماعمارت کوکہتے تھے جہاں یہودی حضرت موسٰی علیہ السلام اورحضرت ہارون علیہ السلام کے مقدس تبرکات والا تابوتِ سکینہ رکھاکرتے تھے۔ ہیکل سلیمانی بیت المقدس پرقبضے کی مختلف جنگوں میں تباہ و مسمار کردیاگیا اوراب اْس کی صرف ایک دیوارباقی ہے جسے دیوارِگریہ کہاجاتاہے اوراِن جنگوں میں تابوتِ سکینہ بھی چوری کرلیاگیاتھاجس کالاکھ جتن کرنے کے باوجودکہیں نام ونشان اورسراغ نہیں ملا۔ یہ وہ تابوتِ سکینہ ہے جس کو یہودی ہرجنگ میں آگے آگے لے کرچلتے تھے اوراُس کی برکت اورفیض سے جنگ میں فتح حاصل کیاکرتے تھے۔ یہودیوں کایہ بھی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام دْنیاکے مقابلے میں یہاں پرموجودگی زیادہ ثابت ہوتی ہے اوردوسرا یہ وہی جگہ ہے جہاں پراللہ تعالی نے زمین کی پرت کی ہرقسمی مٹی کواکٹھاکرکے آدم علیہ السلام کوتخلیق کیاتھا۔ یہودیوں کی تاریخ اورتورات کے مطابق سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اوراْن کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام نے عراق سے بیت المقدس کی طرف ہجرت کی تھی۔ مسجد اقصی کی بنیاد حضرت یعقوب علیہ السلام نے ڈالی اورپھر یہ شہر آبادہوا۔کافی عرصہ گزرجانے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد اورشہرکی دوبارہ تجدید کرائی۔ حضرت عزیر علیہ السلام کا بھی اِسی مقدس شہر سے گزر ہوا تھااورآپ ؑ نے شہرکوبرباداورکھنڈرات میں دیکھ کرتعجب کا اظہارکیاتھاکہ یہ ویران اوربربادشہر کیسے آبادہوگا؟ اِسی تعجب اورحیرانگی پراللہ تعالی نے آپؑ کوسوسال کیلئے موت دے دی تھی اورجب آپ ؑ دوبارہ اْٹھائے گئے تویہ شہر پھرآباداورپررونق بن چکاتھا۔عیسائیوں کیلئے یہ شہراِس لئے مقدس ہے کہ یہاں حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش گاہ،اْن کی تبلیغ کامرکزاوروہ چرچ یہیں پر واقع ہے جہاں آپ ؑ کوپھانسی دی گئی تھی(اْن کے بقول)۔ مسلمانوں کیلئے یہ شہراِس لئے وجہ تکریم وتحریم ہے کہ پہلے پہل مسلمان اِسی قبلہ اوّل کی طرف رْخ کرکے نماز ادا کرتے رہے۔دوسرامسجد اقصی وہ عظیم تاریخی اورمقدس مسجداورقبلہ اول ہے جہاں پررسول پاک ؐنے شبِ معراج تمام انبیاومرسلین ؑ کو باجماعت نماز پڑھائی تھی۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کازمینی فاصلہ تقریباً تیرہ سو کلومیٹربنتا ہے اوراِسی دْوری کی وجہ ہے کہ قران کریم میں جب معراج النبی ؐکا ذکر ہوا تو اِسے مسجدِ اقصٰی(بہت دْورمسجد) کہاگیا۔ یہاں پرایک اور مسجد قبتہ الصخرہ بھی ہے جوسنہرے گنبد والی مسجد ہے اوراکثرمسلمان اسی مسجد کوقبلہ اول سمجھتے ہیں حالانکہ یہ مسجد اْموی دورمیں اْس چٹان پربنائی گئی تھی جہاں سے رسول پاک ؐبراق پرسوارہوکرحضرت جبرائیل علیہ السلام کے ہمراہ عازم معراج ہوئے تھے۔

اِسرائیل کے ناجائز قیام کے وقت ۱۹۴۸ء میں بیت المقدس کی آبادی ایک لاکھ ۶۵ہزارتھی اورآج اِس کی آبادی ۹لاکھ سے زیادہ ہے جس میں پندرہ ہزار عیسائی ، تین لاکھ مسلمان اورباقی چھ لاکھ یہودی آبادہیں۔بیت المقدس شہر پہاڑی علاقے میں آبادہے جس میں سے ایک پہاڑی کانام کوہِ صیہون ہے جس پر مسجد اقصٰی اور قبتہ الصخرہ واقع ہیں ۔ اِسی پہاڑی کی مناسب سے یہودیوں کوصیہونی کہا جاتاہے اوراْن کی عالمی تحریک کانام بھی تحریکِ صیہونیت اِسی پہاڑ اور علاقے کی وجہ سے ہے۔ بیت المقدس شہر اسرائیل کا دارالحکومت ہے کیونکہ یہودیوں کے بقول حضرت داؤد ؑ اورحضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومتوں کادارالحکومت بیت المقدس تھا۔توجہ طلب بات یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت کے تمام ترانتظامی ادارے بلکہ اسرائیلی پارلیمنٹ،وزیراعظم اورصدرکی رہائش گاہیں اورسپریم کورٹ بھی بیت المقدس میں واقع ہیں سوائے وزارت دفاع وآبپاشی کے جوتل ابیب میں ہیں ۔ بین الاقوامی برادری مشرقی یروشلم کواسرائیل کاحِصہ نہیں مانتی اِس لئے اسرائیل کوتسلیم کرنے کے باوجودکسی بھی مْلک کاسفارتخانہ یروشلم میں نہیں ہے۔یہی بات اسرائیل کے متنازعہ ہونے کیلئے کافی ہے کہ پوری دْنیااِس متنازعہ مقدس شہر میں اپناسفارتخانہ یاقونصل خانہ کھولنے کو تیار نہیں۔ جبکہ فلسطینی اتھارٹی بھی بیت المقدس کوہی اپنے دارالحکومت کے طورپردعویٰ کرتی ہے اورمذاکرات کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ بیت المقدس کے بغیرکوئی بھی معاہدہ قبول کرنے کوتیارنہیں۔یہی وجہ ہے کہ یروشلم یا القدس کی اِس طویل تاریخ میں یہودیوں، عیسائیوں اورمسلمانوں میں اِس پرقبضے کیلئے لاتعداد جنگیں ہوچکی ہیں۔ جس میں بیت المقدس شہردوبار مکمل طورپر تباہ ہوا،۲۳ باراِس کامحاصرہ ہوا اور ۵۲ باراِس پرحملہ کیاگیا۔قبضے کی اِن خونی جنگوں میں بیت المقدس شہرپر ۴۴بار قبضہ یادوبارہ قبضہ کیاگیا۔

فلسطین ۱۹۴۸ ء تک بس فلسطین تھالیکن اسرائیلی ریاست کے بزورطاقت قیام کے بعد فلسطین اب تین حصوں اسرائیل، مغربی کنارہ اورغزہ پٹی میں تقسیم ہوچکاہے۔ شروع شروع میں یہودی بیت المقدس میں روحانی سفر یا زیارت کابہانہ بناکرآتے رہے اوروہیں پررہائش پذیرہوتے گئے اورمسلمان بے خبر غفلت کی نیند سوتے رہے لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعدفلسطین پربرطانیہ کاقبضہ ہوگیااوریہ قبضہ ۱۹۱۷ء سے ۱۹۴۸ء تک برقرارہا۔ اِسی دوران یہودیوں کوفلسطین میں آبادکاری کی اجازت دی گئی۔ پہلی جنگ عظیم کے وقت فلسطین میں صرف تین فیصد یہودی آبادتھے۔جس وقت برطانیہ ۱۹۴۸ ء میں فلسطین سے دستبردارہوا اوراسرائیل نے اپنے قیام کااعلان کیاتواْس وقت بھی فلسطین میں یہودیوں کی آبادی بمشکل سات فیصدتھی اورآج اِس وقت ۷۵فیصد یہودی فلسطین میں نہ صرف آبادہیں بلکہ پورافلسطین اُن کے رحم وکرم پرزندگی گزارنے پرمجبوراورلاچارہے۔اسرائیل کے قیام کے وقت فلسطین کی آبادی تیرہ لاکھ تھی؛اب صرف اسرائیل کی آبادی ۸۵ لاکھ اورفلسطینی علاقوں میں مسلمانوں کی ٹوٹل آبادی ۴۴ لاکھ کے قریب ہے۔ صیہونیوں نے بڑی منصوبہ بندی سے فلسطینیوں کے مال،جائیداداور وسائل پرقبضے پرہی اکتفانہ کیابلکہ ساتھ ہی قریبی ممالک مصر،اردن ،لبنان اورشام کے وسائل اورزمین پربھی قبضہ کرنا شروع کردیااوریہ قبضہ آج اِس حدتک پہنچ گیاہے کہ فلسطین بس زمین کے دو ٹکڑوں پرباقی رہ گیاہے۔ ۱۹۴۸ء کی اسرائیل عرب جنگ میں سات لاکھ تیرہ ہزار فلسطینی مسلمان گھربارچھوڑنے، دربدرہونے اورپناہ گزینوں کی زندگی لبنان، اْردن، شام، عراق، غزہ پٹی اورمغربی کنارے میں گزارنے پرمجبورہوئے تھے اورتازہ اعدادوشمارکے مطابق تیس لاکھ سے زائد فلسطینی دربدرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔اس سارے تناظرمیں یہودیوں کابس ایک ہی مقصدہے کہ اسرائیل اُن کاآبائی گھرہے اِس لئے اِس کومزید وسعت دی جائے اور مسجد اقصی کو گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کیاجائے۔

اب اسرائیل 20,770 مربع کلومیٹر رقبے پرمشتمل ہے۔ پچاسی لاکھ پرمشتمل آبادی والے ملک اسرائیل کے پاس زرمبادلہ کے 272ارب ڈالرکے ذخائر ہیں اور بیس کروڑ آبادی والے ایٹمی ملک پاکستان کے پاس صرف 20 ارب ڈالرکے ذخائرہیں۔فلسطینی علاقہ صرف 6220 مربع کلومیٹرپر باقی رہ گیا ہے۔ مغربی کنارے کوبحیرہ مردار اوراردن کی سرحدلگتی ہے۔اُردن جانے کیلئے دریائے اردن پرشاہ حسین پل بناکرجوڑاگیاہے جواسرائیل کے کنڑول میں ہے۔ جبکہ غزہ پٹی کوبحیرہ روم اورمصرکی سرحدلگتی ہے۔غزہ پٹی کوستمبر 2005ء میں فلسطینی اتھارٹی کودی گئی۔ مصرکی سرحدکے ساتھ رفاح کراسنگ پوائنٹ ہے جواب یورپی یونین کی نگرانی میں ہے جبکہ قریبی بیس سے اسرائیل تمام نقل وحمل کی حرکات کاجائزہ ویڈیولنک سے کرتاہے۔مغربی کنارے اورغزہ پٹی کاآپس میں چالیس کلومیٹرسے پچاسی کلومیٹرکافاصلہ ہے اوردرمیان میں اسرائیل ہے اورایک سے دوسری جگہ جانے کیلئے اسرائیل سے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب اورعرب ریاستوں کے تعلقات پہلے بھی خفیہ طورپراُستوارتھے لیکن اب ایران اورشیعہ دشمنی میں واضح طورپرآشکارہوگئے ہیں۔ اسرائیل سے ایران کی کوئی ذاتی ،ملکی یاسرحدی دشمنی نہیں بلکہ صرف اورصرف فلسطین کازکیلئے ایران نے انسانی، اخلاقی اوراسلامی بنیادوں پراْس کی حمایت کی ہے اوراسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے اوردامے دِرمے سخنے قدمے فلسطینی مجاہدین اورعوام کی ہرفورم پر بھرپور مددکررہاہے۔ اِسی بات سے واضح طورپرپتہ چلتاہے کہ ایران فرقہ پرست ملک نہیں کیونکہ فلسطین مکمل طورپرسنی سلفی اورعرب ریاست ہے۔ اِسی سنی سلفی اورعرب ریاست کے کمزورمسلمانوں کیلئے امام خمینی نے سات اگست ۱۹۷۹ء کو تاریخی قدم اْٹھاکرماہ رمضان کے آخری جمعہ کوبین الاقوامی طورپریوم القدس کانام دیاتھا جس کی وجہ سے آج پوری دْنیامیں اسرائیلی صیہونی مکروہ عزائم کے خلاف مسلم اور غیرمسلم ۸۰ممالک میں روزہ دارفلسطینی عرب مسلمان بھائیوں سے اظہاریکجہتی کرتے ہیں اوراسرائیلی ناجائزاورزبردستی قبضے پراحتجاج کرتے ہیں اورباآوازبلند دنیاکے کونے کونے میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ یوم القدس ،مستضعفین کامستکبرین کے ساتھ مقابلے کادن ہے۔ یوم القدس ،اْن اقوام کے مقابلے کادن ہے جوامریکہ اور غیرامریکہ کے ظلم تلے دبی ہوئی ہیں۔ اِس دن آزاد اور حریت پسندروزہ دارمظاہرین بلنداوازمیں دُنیاکوبتاتے ہیں کہ یوم القدس فلسطین کانہیں بلکہ اسلام کادن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس میں تمام سپرطاقتوں کووارننگ دی جاتی ہے کہ اب اسلام آپ کے خبیث ہتھکنڈوں کی وجہ سے آپ کے زیر تسلط نہیں آئیگا۔وہ یہ بات پورے یقین کے ساتھ دُہراتے ہیں کہ یوم القدس اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی بھائیوں اوربہنوں سے اظہاریکجہتی کادن ہے۔یوم القدس فلسطین کے مسئلے کوبھلانے اور جغرافیائی نقشے سے ختم کرنے کے خلاف نہ صرف بھرپوراحتجاج کادن ہے بلکہ یوم القدس اْمت مسلمہ کی رگوں میں خون پھونکنے کادن ہے۔ یوم القدس نہ صرف ظالموں کے خلاف صف آرائی کادن ہے بلکہ یوم القدس فلسطینی عوام کواحساس دلاتاہے کہ دْنیاکی دوسری اقوام اْن کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور حق و باطل کے اِس معرکے میں شہید ہونے والا ہر فلسطینی بچہ، خاتون اور مرد اسرائیل کے اپنے بھیانک انجام کی جانب سفر کی رفتار کو تیز ترکرتا جا رہا ہے۔