تازه خبریں

علماءو ذاکرین‘ واعظین‘بانیان مجالس‘ عزاداران‘ ماتمی و نوحہ خوان حضرات کے نام قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

محرم الحرام 1439 ھ …. علماءو ذاکرین‘ واعظین‘بانیان مجالس‘ عزاداران‘ ماتمی و نوحہ خوان حضرات کے نامقائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام
اسلام آباد، راولپنڈی24ستمبر 2017ء ( دفتر قائد )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ماضی میں ارض پاک کے ہر مکتب اور مسلک کا پیروکار آزادی کی فضا میں اپنے اپنے طریقہ کار اور تعلیمات و عقائد کے مطابق محرم الحرام مناتا تھا اس طرح عزاداری سیدالشہدا ؑ کے فروغ کے ساتھ ساتھ اہل بیت ؑرسول کے ساتھ محبت اور وابستگی میں اضافہ ہورہا تھااور اتحاد بین المسلمین کا حسِین انداز سے عملی اظہار ہورہا تھا یہ تمام صورت حال متعصب اور تنگ نظر انتہا پسند عناصر کے لیے ناقابل برداشت بن گئی اور انہوں نے اس ولائے اہل بیت اور حب حسین ؑپر مشتمل اس حسِین تہذیب کو ختم کرنے کے منصوبے بناکر ان پر عمل کرنے کا آغاز کیا جس کے تحت فرقہ واریت پھیلائی گئی۔چنانچہ ایک مخصوص گروہ سے فرقہ واریت پھیلانے کے لیے بہت سے کام لئے گئے‘ شیعہ مکتب فکر کے خلاف کفر کے فتوے دلوائے گئے، بے بہا غلیظ اور شرانگیز لٹریچر شائع کرایا گیا‘ مساجد ومدارس اور ملک کے درودیوار کو اس غلیظ مہم میں استعمال کرایا گیا، علی الاعلان جلسوں اور جلوسوں میں شیعہ مکتب فکر کے خلاف سادہ لوح عوام کے اذہان کو زہرآلود کیا گیا، لیکن ان تمام شرانگیزیوں اور لاقانونیت کے باوجود کسی شرپسند کو گرفتار کیا گیا نہ ہی ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا، اس طویل فرقہ واریت کو تشددمیں تبدیل کرادیا گیا اور اس خود ساختہ بہانے کے ذریعے عزاداری کو سنگینوں کے سائے میں منانے کا سلسلہ شروع کرایا گیا جو اب بھی جاری ہے۔ ماروائے آئین و قانون اقدامات۔پاکستان کے ہر آئین میں بنیادی حقوق‘ شہری آزادیوں اور مذہبی حقوق کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن تعصب کی وجہ سے انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کے دباﺅ میں آکر جابرانہ اقدامات کئے گئے چنانچہ جلوسہائے عزاءکو روکنے کے لئے صرف لائسنسی اور روایتی جلوس نکالنے کے ماورائے آئین احکامات جاری کئے گئے انہی جابرانہ احکامات کے تحت نئے جلوس ہائے عزا نکالنے کا سلسلہ روکا گیا۔ گذشتہ سال تو چند قدم آگے بڑھادئیے گئے عزائے حسین ؑ کا جلوس نکالنے پر غیر قانونی ایف آئی آرز درج کی گئیں۔تمام جلوسوں کو روایتی بنانے پھر ایک ایک کرکے انہیں ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔
چنانچہ مجالس عزاءمیں لاﺅڈ اسپیکرپر بلاجواز پابندی عائد کرنے، مجالس کے اجازت نامے کی شرط عائد کرنے، مجالس اور جلوسوں کا دورانیہ محدود کرنے، جلوس عزا ءمحدود یا تبدیل کرنے، لائسنسدار کے فوت ہونے کے بعد لائسنس کو وارثوں کے نام منتقل نہ کرنے ،علماءو ذاکرین کی زباں بندیاں‘ جلوسوں اور مجالس میں عوام کی شرکت کو روکنے ، عوام کو ہراساں کرنے اور اس قسم کے دیگر ماورائے آئین و قانون اقدامات سے عزاداری سیدالشہدا ؑ کو محدود کرنے کا منصوبہ واضح ہوجاتا ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ آپ آگاہ ہیں کہ ہم نے آپ کے تعاون سے اپنی قومی و ملی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ایسے تمام منصو بوں کا بھرپو ر مقابلہ کیا اور ملک بھر میں مختلف رکاوٹو ں کو دور کیا گیا جس کی تفصیلات مختلف ادواد میں مختلف ذرائع سے عوام تک پہنچائی گئیں….عزاداری کے خلاف کوئی قانون منظور نہیں ہونے دیاگیا…. منسوخ شدہ جلوسوں کو بحال کرایا گیا….جہاں مجلس روکی گئی تو وہاں مجلس منعقد کرائی گئی اور عوام سے دوٹوک انداز میں کہا کہ قانون کے مطابق مجلس کے لیے کسی سے کسی قسم کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ حکومت کو متعدد بار متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ امن و امان کے قیام ، شہری آزادیوں کے تحفظ کے لئے سخت اقدامات کرے۔
قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ ان حالات میں علمائ، ذاکرین، واعظین، عزاداروں،ماتمیوں اور نوحہ خوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عزاداری کو اتحاد کے ساتھ احسن طریقے اور بہتر انداز سے محبت ووحدت کی فضاءمیں منعقد کریں ‘ تشیع کے روشن چہرے کو روشن تر کرکے پیش کریں اور عقائد تشیع کو صاف اور شفاف انداز میں پیش کریں“ عزاداری سیدالشہداءؑ آزادی سے منانے کے لیے متحد ہوکر بھرپور اور طاقتور آواز بلند کریں‘ اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرکے بنیادی حقوق سلب کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنائیں‘سیدالشہدا ءؑ حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت، اقوال، فرامین اور خصائل سے سبق سیکھیں۔