ہر بالغ و عاقل شخص پر فطرہ واجب ہے، مستحقین کو ترجیحی بنیادوں پر ادائیگی کی ہدایت
راولپنڈی / اسلام آباد 17 مارچ 2026ء (جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے زکوٰۃ فطرہ کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شریعت کے مطابق ہر وہ شخص جس پر عید الفطر کی رات غروب آفتاب کے وقت فطرہ واجب ہو، وہ فی کس تین کلو جنس یا اس کی مقامی قیمت مستحق افراد کو ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہر بالغ، عاقل، صاحب استطاعت شخص جس کے پاس اپنے اخراجات کے علاوہ گنجائش ہو اور فقیر نہ ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا اور اپنے زیر کفالت افراد کا فطرہ ادا کرے۔ فطرہ ان غذاؤں میں سے ادا کیا جا سکتا ہے جو مقامی طور پر استعمال ہوتی ہیں، مثلاً گندم، جو، چاول، مکئی، کھجور اور کشمش وغیرہ، جن کی مقدار فی کس تقریباً تین کلو مقرر ہے یا اس کی نقد قیمت بھی دی جا سکتی ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید وضاحت کی کہ عید الفطر کی رات غروب آفتاب سے پہلے آنے والا مہمان اگر صاحب خانہ کی رضامندی سے ٹھہرے اور نان خور شمار ہو تو اس کا فطرہ میزبان پر واجب ہوگا، جبکہ غروب آفتاب کے بعد آنے والے مہمان کا فطرہ صاحب خانہ پر لازم نہیں۔ اسی طرح کسی کو صرف افطار کرانے سے اس کا فطرہ واجب نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ فطرہ کا مستحق وہ شخص ہے جس کے پاس اپنے اور اپنے اہل و عیال کے سال بھر کے اخراجات پورے کرنے کے وسائل موجود نہ ہوں۔ ایسے مستحقین کو فطرہ دینا چاہیے، جبکہ خود مستحق شخص پر فطرہ واجب نہیں ہوتا۔
آخر میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے ہدایت کی کہ فطرہ کی ادائیگی میں قریبی مستحق رشتہ داروں اور اپنے شہر کے ضرورت مند افراد کو ترجیح دی جائے تاکہ معاشرتی توازن اور فلاح کو فروغ دیا جا سکے۔